kashmir

عرضداشت اور دستخطی مہم سے بھی معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے

EjazNews

عرضداشت یا دستخطی مہم بھی لوگوں کو متحرک کرنے کا ایک موثر طریقہ ہے جو نہ صرف بحران کی صورتحال میں استعمال کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے طویل المدتی تبدیلیاں لانے اور ان کے نفاذ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ عرضداشت اور خطی مہم میں الرٹ فار ایکشن اور خطوط کی مہم کی نسبت معاشرے کے مختلف شعبوں کے بہت زیادہ لوگ شریک ہوتے ہیں ۔ اس وجہ سے یہ طریقہ ایسے ملکوں میں زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے جہاں کی حکومتیں اپنی مقبولیت اور شہرت کے بارے میں زیادہ دلچسپی لیتی ہیں۔ ایک جمہوری حکومت جو کسی استحکام کی خواہاں ہو، وہ لوگوں کے ایک بڑے گروہ کی طرف سے جامع درخواست کی شکل میں پیش کئے جانے والے مشترکہ مطالبے کو پورا کرنے میں زیادہ دلچسپی لے گی۔ جبکہ انفرادی خطوط جوکسی تبدیلی کے مطا لبے کیلئے ہوں، شاید اس کیلئے اتنے اہم نہ ہوں ۔ عوامی شہرت سے دلچسپی رکھنے والی حکومت اپنے حامیوں کو خاموش کرانے کیلئے ایک عرضداشت کی حمایت کرے گی جبکہ طاقت کے ذریعے چلائی جانے والی حکومت، جسے اپنے شہریوں کے سامنے احتساب کا کوئی ڈرنہیں ہوتا اسی عرضداشتوں کی زیادہ پرواہ نہیں کرے گی۔ اس لئے عرضداشت کی مہم شروع کرنے سے پہلے ان حقائق کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس پر وقت اور محنت دونوں خرچ ہوتے ہیں۔ دنیا میں مہم سازی کا کوئی عالمگیر نسخہ نہیں ہے بلکہ ہر صورتحال کو اس کے مخصوص حقائق اور حالات کے مطابق دیکھنا چاہیے۔
عرضداشت ایک مختصر بیان پر مبنی ایسی اپیل ہوتی ہے جس پر جتنے زیادہ دستخط ہوں گے۔ اسے اتنا ہی موثر سمجھا جائے گا، کیونکہ اس سے اس کیلئے عوامی حمایت کا پتہ چلتا ہے۔ عوام کا یہ مشترکہ مطالبہ کسی خاص مسئلے پر حکام کی توجہ کیلئے عرضداشت کی شکل میں پیش کیا جا تا ہے۔ لوگوں کیلئے اپنی تشویش ظاہر کرنے کا یہ ایک آسان طریقہ ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک عرضداشت پر دستخط کرنے کا آسان عمل ان لوگوں کیلئے سماجی تبدیلی کے عمل میں شرکت کا پہلا قدم ثابت ہو۔ عرضداشت کی مہم بھی یکجہتی کے دیگر طریقوں کی طرح لوگوں کے شعور میں اضافہ کرتی ہے۔ خصوصاً جب اس پر دستخط کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔ کیونکہ اس سے ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی اس جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ ذیل میں ہم بطور مثال مراکش کی عورتوں کی ایک میں دستخطوں کی مہم کا جائزہ لیں گے۔
مراکشی عورتوں کی دس لاکھ دستخطوں کی مہم
1992ء میں مراکشی عورتوں کی ایک تنظیم (UAF) Union d’action feminineنے مراکش میں عائلی قوانین میں تبدیلی اور عورتوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے ایک مہم کا آغاز کیا۔ جلدہی اس مہم میں عورتوں کی دیگرتنظیمیں ، ٹریڈ یونین ، انسانی حقوق کے ادارے اور سیاسی جماعتیں بھی شامل ہو گئیں۔ ایک درخواست جاری کی گئی جس میں عورت کیلئے طلاق کے حق ، ایک سے زائد بیویوں پر پابندی ، وراثت کے قوانین میں تبدیلی، بچوں کی تحویل اور دیگر معاملات کے بارے میں اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ مسائل اس سے قبل بھی حکومت کے ساتھ زیر بحث آتے رہے تھے اور اس نے ان میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا، لیکن حکام میں سیاسی عزم کی کمی نے کوئی تبدیلی نہیں ہونے دی۔ اس پر خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا خیال تھا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے دستخط سے حکومت پرعوام کا دباؤ پڑے گا کہ لوگ اتنی شدت سے تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
1992ء میں مراکش کی حکومت خود کو زیادہ آزاد، قابل احتساب اور جواب دہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور ہر طرف تبدیلی اور اصلاحات کی باتیں ہورہی تھیں۔ یواے ایف نے اس موقع پر حالات سے فائدہ اٹھا کر قانون شخصی میں اصلاح کیلئے دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ 1995ء میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام خواتین کی چوتھی عالمی کانفرنس بھی قریب آ رہی تھی اور اس وقت متعددحکو متیں ایسے اقدامات کی خواہاں تھیں جن سے ثابت ہو سکے کہ وہ معاشرے میں عورت کی حیثیت کو بہتر بنانے کیلئے کام کر رہی ہیں۔ یہ وہ حالات تھے جن کو دیکھتے ہوئے یواے ایف نے ایک عرضداشت جاری کر کے اس پر دس لاکھ دستخط حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس عرضداشت کے ذریعے عوامی جلسوں اور اخبارات اور ذرائع ابلاغ کی شمولیت سے انہیں امید تھی کہ وہ اس مطالبے کے حق میں عوام کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوں گی ۔ کئی اورتنظیموں اور دیگر کارکنوں کی مدد سے وہ دس لاکھ دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس پر حکومت نے فوری ردعمل کا اظہار کیا اور عائلی قوانین پر بحث کا آغاز کر دیا۔ اگر چہ جو اصلاحات کی گئیں ان میں عورتوں کے تمام مطالبے پورے نہیں ہوئے لیکن اس سے عائلی قوانین اور قانون شخصی میں تبدیلی ہوگئی حالانکہ حکومت کئی عشروں سے ان مطالبات کو نظرانداز کر رہی تھی۔ مراکش میں عورتوں کی تنظیموں نے ان اصلاحات پر عدم اطمینان ظاہر کیا اور وہ زیادہ بہتر تبدیلیوں کیلئے مہم چلارہی ہیں لیکن دس لاکھ دستخطوں کی مہم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس سے مراکش میں عورتوں کی مہم ایک بار پھر بیدار ہوگئی اور عورتوں کے حقوق کیلئے بڑی تعداد میں عورتوں اور عمومی طور پر عوام میں بیداری پیدا ہوئی۔
دس لاکھ دستخطوں کے کامیاب حصول سے دنیا بھر میں عورتوں کی تنظیموں میں ہمت اور حوصلہ پیدا ہوا۔ لیکن مسلم ممالک کی کارکن خواتین اس سے خاص طور پر متاثر ہوئیں کیونکہ انہیں بھی اسی نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے اور وہ بھی انہی پابندیوں کا شکار ہیں۔ 8مارچ 1997کو الجزائر کی عورتوں کی تنظیموں کے حمایتی انٹر ایسوسی ایٹوورک گروپ نے اپنے ملک میں بھی اسی نوعیت کی مہم شروع کی جس کا نعرہ تھا’’خاندان میں عورتوں کے حقوق کیلئے دس لاکھ دستخط‘‘۔ اگر چہ الجزائر میں خانہ جنگی کے باعث یہ متاثر ہوئی اور دستخطوں کے حصول میں رکاوٹ آئی لیکن اس کوشش سے عائلی قوانین پر بحث کا کھل کر آغاز ہوگیا۔
عرضداشت تیار کرنے کے بنیادی اصول :
ذیل میں ہم عرضداشت تیار کرنے کیلئے چند اصول بیان کر رہے ہیں:
(الف) عرضداشت میں کئے جانے والے اہم ترین مطالبے ؍ مطالبات کو صفحے کے سب سے اوپر درج کیا جائے، جس کے نیچے دستخطوں یا دیگر معلومات کیلئے خالی جگہ ہونی چاہئے ۔ اس صفحے کو کاپی کر کے تقسیم کرنا چاہئے۔
(ب) عرضداشت میں واپسی پتہ ضرور درج ہونا چاہئے تا کہ جب یہ صفحہ مکمل ہوتو اسے متعلقہ تنظیم تک واپس بھیجا جا سکے۔
(ج) ایک الگ صفحے پر مطالبات سے متعلق تمام حقائق اور دلائل درج کر کے انہیں بھی عرضداشت کے ساتھ لگایا جانا ضروری ہے تا کہ مزید حقائق جاننے کے خواہش مند افراد
انہیں پڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سال توبدل رہے ہیں، بچّوں کے حالات نہیں

(ر) عرضداشت کا ڈیزائن اور مواد کی ترتیب بہت اہم ہیں۔ دستخطوں اور معلومات کیلئے مناسب جگہ چھوڑ نا بہت اہم ہے۔
(ر) عرضداشت آسان اور واضح طور لکھنی چاہئے تا کہ ایک عام آدمی بھی اسے آسانی سے سمجھ سکے۔ بہت عالمانہ اور مشکل زبان، سیاسی نعرے اور ذومعنی انداز اختیار نہ کریں۔ اپنے پیغام کو مختصر رکھیں تا کہ شاپنگ سنٹروں اور عام جگہوں پر موجود لوگ اسے با آسانی پڑھ کر دستخط کر دیں۔ لوگ عام طور پر کسی مسئلے کی بھی چوڑی وضاحت پڑھنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
ہوسکتا ہے کہ کئی بار آپ کو ایسے لوگ بھی ملیں جو اس مسئلے کے حق میں ہوں لیکن وہ عرضداشت کے الفاظ سے اتفاق نہ کرتے ہوں۔ ایسے لوگوں سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے الفاظ میں عرضداشت لکھ دیں یا اس مسئلے پر متعلقہ حکام کو براہ راست خط لکھ دیں ۔ کئی بار ایسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ لوگ اپنی نجی معلومات نام، دستخط ، پتہ یا فون نمبر دینا مناسب نہیں سمجھتے۔ لیکن یہ معلومات کئی بار دستخط کے ساتھ فراہم کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال عام طور پر غیر جمہوری حکومتوں میں پیش آتی ہے اور مہم چلانے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے ۔ سماجی تحریک چلانے کا سب سے بڑا مقصد لوگوں کو ان کی پسند کے انتخاب کا حق دینا ہوتا ہے۔ ان پر شرکت کی پابندی عائد کر تا نہیں ۔ خواہ آپ کے نزدیک ان کی شمولیت کتنی ہی ضروری کیوں نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  یونیورسٹیاں روزگار کے ذرائع ہیں یا پھر علم کی روشنی کے مینار