marriage

میراشوہرکھل کر نہیں رہتا ہے- کا بہترین علاج

EjazNews

ایک مرتبہ ایک خاتون نے مجھے فون کیا۔ اس نے شکایت کی کہ اس کا شوہرکھل کر زندگی اس کے ساتھ نہیں گزارتا ہے۔ اکثر وہ باتیں جو اس سے اور گھر اولاد اور اس کی سروس وملازمت سے متعلق ہیں، وہ کھل کر بات نہیں کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے ساتھ تعلقات کمزور ہو چکے ہیں۔ وہ اکثر گھر سے باہر ہوتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ پریشان رہتا ہے بعض اوقات وہ روتا بھی ہے جس کا سبب مجھے معلوم نہیں ہے۔
شوہر کے کھل کر گفتگو نہ کرنے کا انداز :
ا۔ شوہر کا سارا وقت خاموش رہنا۔
۲۔ بقدر سوال جواب دینا پھر بات نہ کرنا۔
۳۔ اپنے کمرہ میں یا سٹڈی روم میں اکیلے بیٹھے رہنا پسند کرنا۔
۴۔ اکثر خارجی معاملات، دوستی اور باہر کی مصروفیات کو چھپانا۔
۵۔ اپنے غائب رہنے اور غلطیوں پرزیادہ سے زیادہ عذر پیش کرنا اور بے گناہی بتانا۔
۶۔ گھردیر سے آنے کی وجہ بتانا۔
۷۔ اکثر مالی حالات کو بیوی سے چھپانا۔
۸۔ دوران گفتگو بیوی کی بات کا ٹنا۔
۹۔ جب بیوی کسی معاملہ میں گفتگو کرے تو برداشت نہ کرنا اور غصہ ہونا۔
ان پریشانیوں کے اسباب:
شوہر کا اپنے اردگرد کے لوگوں بالخصوص بیوی پر مکمل بھروسہ نہ کرنا۔
۲۔ اس کا یہ خیال کہ وہ جن باتوں کو چھپاتا ہے وہ اس کی اپنی باتیں ہیں اور بیوی پر ظاہر کرنا پسند نہ کرے۔
۳۔ ایک دوسرے کے ازدواجی حقوق مکمل طور پر سمجھنا۔
۴۔ بیوی کا اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی تعلقات کو شادی کی ابتدا سے مضبوط نہ بنانا۔
۵۔ اگر بیوی کماتی ہے یامالدار ہے تو اس نے شوہر کو اپنا اکاونٹ بیلنس اور سرمایہ کاری کی باتیں نہیں بتائیں ،یہاں تک کہ شوہر کو خودا تفاق سے معلوم ہوا۔
۶۔ بیوی شوہر پرتنقید اور پوچھ گچھ اپنے یاکے خاندان والوں کے سامنے کرے۔
۷۔ شوہر کی بات کو وزن دینا اور خاندان کے افراد کے سامنے اس کی اہمیت کو گھٹانا۔
۸۔ بیوی کو شوہر سے گفتگو اور بحث کا طر یقہ نہ آنا۔
۹۔ شوہر کی اپنی طبیعت کا اس کے بچپن سے، چھپائے رکھنے کا مزاج اور یہ کہ کوئی اس کی کوئی مخصوص باتوں کو نہ جانے۔
۰۱۔ شوہر کی اپنی خوداعتمادی اور بیوی کے بغیر ہر مسئلہ کوحل کرنے کی قدرت رکھنا۔
۱ا۔ زیادہ حساس اور نازک مسائل میں شوہر کے مزاج میں خوف اور شرم کاخل ہونا۔
ان مشکلات کاحل:
ا۔ ایک طرف شوہر سے تعلقات کو مضبوط بنایا جائے ،دوسری طرف بچوں سے بھی تا کہ وہ کھل کر رہنے کے عادی بن سکیں۔
۲۔ شوہر جب بھی بات کرے اسے پورا موقع دیاجائے تاکہ ہمارے اندر یہ بات کہہ سکے۔
۳۔ خاندان کے افراد کے ساتھ عام گفتگو میں شوہر کو شریک کیا جائے تا کہ اس کا اعتماد بحال ہو۔
۴۔ شوہر کو گفتگو کرنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کیا جائے اور کسی حساس اور نازک مسئلہ پر بغیر کسی ہچکچاہٹ اور خوف کے گفتگو کرنے میں اس کی مدد کی جائے۔
۵۔ شوہر کو اس کے حالات اور اس کی باتوں کے راز رہنے کا اطمینان دلایا جائے اور اس کے گھر والوں یا سہیلیوں کے سامنے نہ کہا جائے۔
۶۔ شوہر کی ذاتی ضروریات کا خیال رکھا جائے تا کہ وہ اطمینان و سکون محسوس کرے۔
۷۔ شوہر کے ساتھ تنہائی میں کھل کر بات کی جائے۔
۸۔شوہر کی بات غور سے سنی جائے اور اس درمیان کوئی دوسرا کام نہ کیا جائے۔
۹۔ جب شوہر بات کرے تو کسی ردعمل کے ظاہر کرنے میں ضبط نفس سے کام لیا جائے اور اپنے آپ پر قابو رکھاجائے۔
۰۱۔کسی معاملہ کو بڑھایا نہ جائے بلکہ اس کو چھوٹا سا مسئلہ بنانے کی کوشش ہو اور اس کی اہمیت گھٹائی جائے۔
۱۱۔کسی معاملہ کو پیچیدہ نہ بنایا جائے اور آسان حل تلاش کیا جائے۔ کوئی مشکل خواہ کتنی ہی پیچیدہ ہو اس کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔
۲۱۔ اس کی معمولی غلطیوں پر خاندان اور رشتہ داروں کے سامنے، پردہ ڈالا جائے۔
اس حل پرعمل کے ڈھائی ماہ بعد اس خاتون نے فون پر میرا شکریہ ادا کیا۔ اس نے یہ خوشخبری سنائی کہ اب اس کا شوہر بدل چکا ہے اور وہ ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں اس سے کھل کر بات کرتا ہے اور اس سے مشورہ لیتا ہے۔
یاد رکھنے کی بات: آخری بات یہ ہے کہ مرد اور عورت بہر حال انسان ہیں۔ انسان فرشتہ نہیں ہوتا۔ وہ صحیح کام کرتا ہے اور غلط بھی۔ وہ بے روح بھی نہیں ہے۔ وہ خوش بھی ہوتا ہے اورغم زدہ بھی۔ وہ کوئی مشینی آلہ نہیں ہے کبھی وہ سست ہو جاتا ہے اور کبھی چست۔ آخری بات یہی ہے کہ دونوں بہرحال انسان ہیں۔ (ڈاکٹر صلاح صالح الراشد)
بے شمار گھروں کا حال مکڑی کے جالوں کی طرح ہو چکا ہے جو ہوا کے معمولی جھونکے سے ٹوٹ جاتے اورٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔ نتیجہ میں معمولی وجہ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ (عبدالسلام درویش المرزوقی)

یہ بھی پڑھیں:  کسی مشکل کے حل کے بہترین طریقے