Imran khan ahsas prog

وزیراعظم عمران خان کے احساس پروگرام میں سیلانی مفت کھانا سکیم کی شمولیت

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں احساس پروگرام کے تحت سیلانی ٹرسٹ کے تحت چلنے والے مفت کھانے کے لنگر خانوں کو سراہا ہے اور اس کو احساس پروگرام میں سے حصہ دینے کا بھی اعلان کردیا ہے۔ اسلام آباد میں بہت ہی سادہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ احساس پروگرام دراصل غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔یہ وہ احساس ہے جس میں غریبوں کادرد محسوس کیا جاتا ہے۔ہم ہسپتالوں ، پولیس کے نظام میں اصلاحات لارہے تاکہ عوام پر ظلم نہ ہو اور عام آدمی کی زندگی بہتر ہو۔ ان کا کہنا سیلانی ٹرسٹ کو عوام کی فلاح و بہبود میں خدمات سرانجام دینے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جب تک ہمارے ملک میں حالات بہتر نہیں ہوتے ہم کوشش کریں گے کہ کوئی شخص بھوکا نہیں رہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے غربت مٹاو احساس پروگرام کے تحت کے پہلے فیز میں 112 مفت کھانوں کے لنگر خانے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کوئی بھی بھوکا نہ رہے اور اس لنگر کو ہر علاقے تک توسیع دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ کمزور طبقے کی ذمہ داری لینی ہے، اس کے تحت اگر ریاست کے حالات برے ہوں اور پیسے نہ ہوں تو بھی ریاست کمزور لوگوں کا احساس کرتی ہے ۔پھر کامیابی اللہ دیتا ہے، ہم نے بھی اسی راستے پر لگنا ہے اور پھر ریاست میں اللہ برکت ڈالے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہے کہ یہ کامیابی میں نے حاصل کی ہے تو یہ غرور اور تکبر ہوتا ہے۔ جسے اللہ بالکل پسند نہیں کرتا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کے برے حالات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ پچھلے 30 سالوں سے غریب غریب ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر ہوتا جارہا ہے، مہنگائی کرکے سارا ٹیکس غریب لوگوں سے اکٹھا کیا جاتا ہے جبکہ امیر لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ ہم کاروباری طبقے کی مدد اس لیے کریں گے تاکہ وہ پیسہ دیں اور اس سے ٹیکس جمع کرکے ہم غریب طبقے پر خرچ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  حیات بلوچ : انصاف ہوا اور سب کو نظر بھی آیا

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم کاروباری طبقے کی مدد کررہے ہیں کبھی کسی حکومت نے کاروباری افراد کی اس طریقے سے مدد نہیں کی جس طرح سے ہماری حکومت کر رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نچلے طبقے کو اٹھانے کے لیے مزید اقدامات کریں، ہم نوجوانوں کو قرضے دے رہے ہیں، خواتین کے لیے ایک الگ پروگرام بنایا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ نیا پاکستان ایک فلاحی ریاست ہی ہوگا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں میں صبر نہیں ہوتا، 13 مہینے ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ ریاست مدینہ پہلے دن نہیں بنی تھی جدوجہد شروع ہوئی تھی، آہستہ آہستہ لوگ اور ان کے ذہن تبدیل ہوئے تھے۔ یہ ملک بھی بدلے گا، تبدیلی آئے گی اور جب ہم اپنے کمزور طبقے کی مدد کریں گے تو ریاست میں برکت آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  شہباز شریف نے برطانوی اخبار کو شکایت کی ہے مقدمہ نہیں کیا:معاون خصوصی شہزاد اکبر