karachi rain

کراچی کو کچرا شہر بنانے میں پلاسٹک کااہم ترین کردار ہے، دنیا بھر میں ایک سال میں پلاسٹک کی 480ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے

EjazNews

دنیا بھر میں ہر سیکنڈ میں پلاسٹک کی 20ہزار بوتلیں خریدی جاتی ہیں اور ایک منٹ میں 10ہزار پلاسٹک کی بوتلوں کا کاروبار ہوتا ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا اور اہم سبب ہے آلودگی پھیلنے کا۔ پلاسٹک کی یہی بوتلیں آلودگی کا باعث بنتی ہیں کراچی کو کچرا شہر بنانے میں ان بوتلوں نے اہم کر دار ادا کیا ہے ۔
پلاسٹک کی یہ بوتلیں سالہا سال تک ضائع نہیں ہوتیں، کپڑا یا ایسی چیزیں اگر گٹروں میں پھنس بھی جائیں تو تیزاب پھینکنے سے ضائع ہو جاتی ہیں۔لیکن پلاسٹک کے بیگ اور بوتلیں سالہا سال تک گٹر میں پھنسے رہتے ہیں۔
دنیا بھر میں ایک سال میں پلاسٹک کی 480ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے اس میں سے صرف نصف 240ارب بوتلیں یورپی منڈیوں میں ری سائیکل کی جاتی ہیں باقی ماندہ بوتلیں دریاﺅں ، سمندروں ، نہروں اور سمندر کے صاف پانی کو گندہ کرنے اور سیوریج سسٹم کے گندے پانی کی نکاسی کو بند کر کے بدترین ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیتی ہے۔ مشروبات کی بڑھتی ہوئی پیاس نے ایشیائی ممالک میں پلاسٹک کی بوتلوں کو خوفناک حد تک بڑھا دیا ہے جبکہ ایشیائی ممالک میں ان بوتلوں کا ری سائیکل کرنے کا کوئی انتظام نہیں۔ ایشیائی ممالک میں 2021ءتک ان خالی بوتلوں کی تعداد 20فیصد اضافہ ہوگا اور عالمی سطح پر ان بوتلوں کی تعداد 583ارب سالانہ سے متجاوز ہو جائیں گی۔ امریکہ میں 50ارب بوتلیں ضائع ہوئیں، ان میں سے ایک چوتھائی کوری سائیکل کر لیا گیا۔ شمالی امریکہ میں 2کروڑ 20لاکھ بوتلیں ہر سال چشموں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ ایک رپورٹ میں شگاگو کے محققین کی تحقیق کے مطابق پلاسٹک کی بوتلیں بدترین ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب ہیں۔ مشی گن جھیل میں پلاسٹک کی بوتلوں سے ہر سال اولمپک سائز کے 1سو ئمنگ پول بنائے جاسکتے ہیں۔اتنی بوتلیں ہر سال اس جھیل میں ضائع کی جاتی ہیں۔ سمندروں میں مچھلیاں اور دوسری آبی حیات پلاسٹک کی بوتلوں کو مائیکرو پلاسٹک میں تبدیل کر کے کھا جاتی ہیں۔
ورلڈ اکنامک فورم اور ایلین فاﺅنڈیشن کی تحقیق کے مطابق 2050ءمیں ضائع ہونے والی بوتلوں کی تعداد میں اضافے کے باعث سمندروں میں پلاسٹک کی تعداد مچھلیوں کی خوراک سے کہیں زیادہ ہوگی۔ اور امپیریل کا لج لندن کے مطابق سمندر میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تعداد میں اضافے سے سمندری پرندے دم گھٹنے سے مر جائیں گے ۔ یہ ماحول کی بدقسمتی ہے کہ ہم لوگ پلاسٹک کی بوتلوں کو اپنے گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے بہتر خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے خیال میں شیشے کی بوتل کی بانسبت پلاسٹک سے جان چھڑانا مشکل ہے یہ انسان کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ پھراس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ یہ پانی قدرتی پانی سے صاف ہے یا نہیں اس پر تحقیق بیرون ملک میں بھی ہوئی اور ہمارے ملک میں بھی۔ بہت سی امریکی کمپنیوں نے اپنے صارفین کو میونسپل کمیٹی کے نلکے سے نکلنے والا پانی پلا دیا شاید یہ پانی بھی اسی طرح بھرا گیا جس طرح میونسپل کمیٹی کے ادارے پانی مہیا کر رہے تھے۔
ایسا ضرور ہوگا کہ 2050ءمیں سمندری مچھلیاں اور دوسرے آبی جانور دم گھٹنے سے مرنے شروع ہو جائیں گے یہ بھی یاد رہے کہ امریکہ میں پلاسٹک کی بوتلوں کی تیاری کے لیے 1کروڑ 70لاکھ بیرل پٹرول پھونکنا پڑتا ہے جس سے 25لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ ایک لیٹر پانی کی بوتل کی تیاری کے لیے 3لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے ماحول کو صاف رکھنے کے لیے اپنے طرز زندگی کو بدلنا ہوگا ۔ورنہ یہ طرز زندگی ہماری سمندری غذاﺅں کے ساتھ ساتھ یعنی مچھلیوں کے لیے جان لیوا ثابت تو ہوں گی ہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمارے نظام زندگی کو سخت نقصان پہنچانے والی ہیں۔
ہمارے ملک میں حکومت پلاسٹک پر پابندی لگا رہی ہے جس کا آہستہ آہستہ تمام بڑے شہروں پر اطلاق بھی ہو رہا ہے یہ خوش آئند بات ہے ۔ لیکن صرف پلاسٹک کے لفافے ہی ماحول کو خراب نہیں کر رہے اس میں ایک اہم کردار پلاسٹک کی بوتلوں کا بھی ہے جس کو ہم مسلسل نظرا نداز کر رہے ہیں۔
ضروری امر یہ ہے کہ کوئی پلاننگ کی جائے کہ اگر پلاسٹک پر پابندی عائد کرنی ہے تو اس کے متبادل کیلئے لوگوں میں بھی اور کمپنیوں میں بھی آگاہی پیدا کی جائے۔ کمپنیوں کو اس بات کا ہم پابند کر سکتے ہیں کہ اگر انہوں نے پلاسٹک کا استعمال کرنا ہے تو اس کے ری سائیکلنگ کے یونٹ لگائیں اور پلاسٹک کو ری سائیکل کریں اور لوگوںمیںیہ شعور پیدا کریں کہ پلاسٹک کو برائے مہربانی استعمال کرنے کے بعد ضرور پھاڑ کر پھینکا جائے تاکہ اس کو دھو کر دوبارہ استعمال کرنا آسان نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اپنا غیرقانونی قبضہ فوری ختم کرے:ترجمان دفتر خارجہ