children

چین کے کسان کی کہانی، جس کی ہمت سے چینی کسانوں کو ایک نئی سمت ملی

EjazNews

ایک آدمی کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ ہمارے ہاں سبھی سوچتے ہیں کہ میں کیا کر سکتا ہوں۔ اتنی مایوسی کبھی نہیں دیکھی جتنی آج لوگوں کے ذہنو ں میں ہے۔ چینی اگر یہی بات سوچتے تو آج نشے میں دھت کہیں پڑے ہوتے ۔انہوں نے سوچا کہ ایک ایک چینی کیا نہیں کر سکتا اور آج یہ بات دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔ آج ہم آپ کو چین کے ایک گاﺅں میں رہنے والے پسماندہ ترین آدمی ماﺅ کی کہانی سناتے ہیں۔
1987ءکا واقع ہے ماﺅ کے گھر میں کھانے پینے کا سامنا میسر نہ تھا ،انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دن پورے ہو رہے تھے بچوں کو پڑھانے کے لیے پیسے نہ تھے کوئی بیمار ہو جاتا تو علاج کے لیے پیسے نہ تھے کاشتکاری کے لیے بیج اور کھاد کے لیے پیسے نہ تھے۔ ایسے میں ماﺅ نے سوچا کہ میں کیا کروں کہ ہم اپنے آپ کو اس پستی سے نکال لیں اس نے 4.5سو یونٹ پر ہل چلانا شروع کیا اور پھر اس نے سوچا کہ میں اتنی محنت کروں کہ اس سے دگنی پیداوار حاصل کروں اس نے دن رات محنت کی اور وہاں گنا اور کساوا کی کاشت کی۔ اس کی محنت سے بھرپور فصل پیدا ہوئی جس سے اس کے گھر میں خوشحالی آگئی اور باقی کے گھرانے اسی طرح غربت میں تھے ،اس کی کوششوں سے اس کے گاﺅں کے 83گھرانوں کا مستقبل روشن ہوگیا۔
ایسے میں اس نے سوچا کہ کیوں نہ میں آموں کی کاشت کروں اس سے زیادہ پیسے مل جائیں گے، چنانچہ اس نے قریبی قصبے کا رخ کیا۔ یہ اس کے کوئی چند سال بعد کی بات ہے ۔ اس نے سوچا کہ ہماری مٹی اسی قسم کی مٹی ہے جیسے پاکستان میں ملتان کی مٹی ہے۔ کیوں نہ میں یہاں بہترین آم اگاﺅں جس کی دنیا بھر میں مانگ ہو، وہاں کی مٹی سرخی مائل اور کچھ صحرائی تھی۔ اس نے دماغ لڑایا تو یہ مٹی آموں کے لیے بہترین تھی لیکن نہ آم کے بیج کے پیسے تھے اور نہ کھاد تو وہ درخت کہاں سے اگاتا ۔اس کے لیے کئی سال درکار تھے، اتنا انتظار کون کرتا ۔ وہ قریبی قصبے میں گیا اور وہاں کی منڈیوںمیں اپنے مطلب کی چیز کیلئے تلاش شروع کی اس نے وہاں پر پڑے گلے سڑے آموں کو تھیلے میں بند کیا اور اپنے گاﺅں میں لے آیا۔ وہی سے اس نے گوبر اکٹھا کیا کیونکہ اسے پتہ تھا گوبر سے بہترین کھاد بن سکتی ہے۔ چنانچہ اس نے یہ گلے سڑے آموں کا بیج استعمال کر کے اپنے کھیت میں فصل اگا دی۔ گوبر کی کھاد سے اپنا کھیت اگایا۔ کہتے ہیں انسان محنت کرے تو خدائی مدد بھی آجاتی ہے۔
بس پھر کیا تھا ماﺅ کے گاﺅں میں چند ہی سالوں میں آم کی بہترین فصل کے پودے لہلہانے لگے۔ایسے میں سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ بھی اس کی مدد کو آگئی اور اس نے یہ فصل اچھی قیمت پر خرید لی۔ ایسا نہیں ہوا کہ کوئی مافیا بیچ میں آگیا اور اس نے ان ابھرتے ہوئے کاشتکاروں کی کمر توڑ دی ایسا تو ہم جیسے ممالک میں ہوتا ہے۔ چنانچہ آموں کی فصل کی خریداری سے علاقے میں خوشحالی آنے لگی اور اب اس پرانے گاﺅں کا حلیہ ہی بہت مختلف ہے۔ یہ ایک خوشحال گاﺅں کی صورت میں چین کے لیے ایک نمونہ ہے۔ انسان اگر چاہئے تو اپنی قسمت بھی بدل سکتا ہے اور اپنے ساتھ سینکڑوں لوگوں کی انگلی پکڑ کر انہیں راستہ بھی دکھا سکتا ہے ضرورت صرف ہمت کرنے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کوا بنا موراور پٹا ہر طرف سے