voilance against women

قانونی اصلاحات کیلئے لابنگ

EjazNews

اپنے کام سے لگن اور دلچسپی رکھنے والے چھوٹے گروپ بھی درست حکمت عملی اور مسلسل کوشش سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ہم عام طور پر ان کے کام کو وقت نہیں دیتے۔زیر نظر مضمون میں جو مثالیں دی جارہی ہیں ان میں ہم دیکھیں گے کہ نسبتاً روایتی طریقے استعمال کر کے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی کوشش کی گئی۔
1991ء میں خواتین زیراثر مسلم قوانین کے پلان آف ایکشن نے ایک بڑے حقیقی ایجنڈے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف مسلم معاشروں میں روایتی و غیر روایتی قانونی ڈھانچے عورتوںکی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ مختلف سماجی حالات کے باعث کئی تحقیقی ٹیموں نے الگ الگ حوالوں سے اپنے کام کا آغاز کیا۔ ترکی کی کو آرڈینیٹرز نے ترکی میں گھریلو تشدد کے مسئلے پرتوجہ مبذول کی۔ کیونکہ اس سے قبل کی گئی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ترک عورتوں اور بچوں کیلئے سماجی تبدیلی کے حوالے سے یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے۔ چنانچہ ترک معاشرے میں گھریلو تشدد کے بارے میں موجودحقائق ، متعلقہ قوانین اور سرکاری اداروں کے تفصیلی جائزے کے بعد دو محققین نے گھریلو تشدد اور اس مسئلے سے نمٹنے بارے عورتوں کے خیالات بارے ایک تفصیلی تحقیق کی انہوں نے تحقیق کے نتائج کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا۔

The Myth of a Warm Home:Domestic Violence and Sexual Abuse in the Family

کتاب کو عام فہم زبان میں لکھا گیا اس کے علاوہ انہوں نے ایک دستاویزی ویڈیوفلم Time to Say No بھی بنائی اور اسے بڑے پیما نے پرلوگوں کو دکھایا گیا۔ انہوں نے اخباروں اور رسائل سے رابطہ کیا کہ وہ گھریلو تشدد کے واقعات شائع کریں اور اپنی تحقیقات کے نتائج مبنی مضامین خودبھی لکھے۔
انہوں نے اپنے مضامین میں تشدد کا نشانہ بننے والی عورتوں کو مروج فوجداری طریقہ کار کے متبادل ایسے طریقے بتائے جن تک عورتیں آسانی سے رسائی حاصل کرسکتی تھیں۔ ترکی کے معاشرتی تناظر میں مروجہ طریقہ کار عام طور پر عورتوں کیلئے مددگار نہیں ثابت ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی فیلڈ ریسرچ اور دیگر مسلم معاشروں میں کی گئی تحقیقات کے جائزے کی بنیاد پر کئی حفاظتی اقدامات بھی تجویز کئے۔ جب اس مسئلے نے عوام کی کافی توجہ حاصل کر لی تو انہوں نے خواتین کے امور کی وزارت کے ایک اہلکار سے ملاقات کی اور ان سے گھریلو تشدد کے مسئلے کے فوری حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق ترک عورتیں شادی ختم کرنا چاہتی ہیں اور نہ ہی اپنے شوہروں کو جیل بھیجنا چاہتی ہیں۔ وہ تشددشدہ عورتوں کو حفاظت گاہوں میں بھیجے جانے کے بھی حق میں نہیں۔ عورتوں کو ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جو کہ ان کو تحفظ دے سکے اور وقت کی سہولت دے سکے جس میں کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ محققین نے اپنی تحقیق سے متعلق تمام دستاویزات کی نقول وزارت کے اہلکار کو دیں۔
اسی دوران ترکی میں اسلامی ویلفیئر پارٹی برسر اقتدارآ گئی ۔ عورتوں کے حوالے سے ان کے قدامت پسند خیالات کی وجہ سے بہت کم عورتوں کو اب کسی مثبت تبدیلی اور اصلاح کی توقع تھی۔ گروپ جس نے عورتیں ، عورتوں کے انسانی حقوق کیلئے (WWHR) کے نام سے ایک چھوٹی سی تنظیم بنانے میں مدد کی ، کا خیال تھا کہ کوششیں جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس تنظیم کی ڈائریکٹر پینارا کارا کان نے وزارت کے اہلکاروں سے رابطہ کیا اور اپنے خدشات سے آگاہ کیا اور انہیں The Myth of a Warm Home اور گھریلو تشدد کے موضوع پر مختلف اخبارات اور رسائل میں چھپنے والے مضامین کی نقول بھی دیں۔ کچھ ہی عرصے بعد حیران کن طور پر انہیں وزارت کی جانب سے گھریلو تشدد کے موضوع پرحکومتی اقدام پر مزید بات چیت کیلئے دعوت دی گئی۔ یہ ظاہر ہوتا تھا کہ حکومتی جماعت کے گھریلو تشدد کے مسئلے پر اقدامات سے انکو یہ موقع ملے گا کہ وہ اس عمومی خیال کی تردید کر لیں کہ وہ خواتین کے مسائل سے لاتعلق ہیں ۔ اس کے علاوہ اسلامی ویلفیئر پارٹی سے پہلے کی سیکولرقومی حکومت نے عورتوں کی کچھ تنظیموں اور لاوارث عورتوں کے اداروں کے کچھ فنڈزکم کر دیئے تھے۔ جو عورتوں پر تشدد کے مسئلہ پر خصوصی طور پر کام کر رہی تھیں ۔ نئی حکومت کیلئے اپنا تاثر بہتر بنانے کا یہ بہت اچھا موقع تھا۔
کچھ ہی عرصے بعد پیناراکارا کان اور ان کی تنظیم گھریلو تشدد پر قانون کیلئے بل پر مدد کرنے کو کہا گیا جسے کہ پارلیمان میں منظوری سے پہلے پارلیمانی کمیٹی میں پیش کیا جاتا تھا۔ انہوں نے پارلیمانی جسٹس کمیشن کے 21 ارکان سے بھی رابطہ قائم کیا جو ترکی میں قانون سازی کی کسی بھی تبدیلی کا اولین ادارہ ہے۔ انہوں نے کمیشن کے ارکان کو The Myth of a Warm Home اور دیگر دستاویزات کی کاپیاں دیں کیونکہ انہیں احساس تھا کہ حکومتی عہدے دار گھریلو تشدد سے متعلق حقائق سے واقف نہیں ہونگے۔ اس مسئلے سے دلچسپی رکھنے والے پارلیمانی کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کر کے انہیں بھی حقائق سے آگاہ کیا گیا۔ جب کمیٹی میں مجوزہ بل کا جائزہ لیا جارہا تھا تو مخالفین نے اس بات کا پراپیگنڈہ شروع کر دیا کہ گھریلو تشد جیسے مسائل پرقوانین کا نفاذ ایک مغربی تصور ہے جس کی کوئی اسلامی بنیاد نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی مخالفت میں یہ حقیقت یکسر نظر انداز کر دی کہ ترکی کا قانون سیکولر ہے۔ بل کے مخالفین نے بل کی اس شق کو غیر اسلامی قرار دیا جس کے تحت تشدد کرنے والے شوہر پر اپنے گھر میں داخلے پر پابندی تجویز کی گئی تھی۔ جس پربل کے حامیوں کا موقف یہ تھا کہ تحقیقی مواد سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تشدد کرنے والے شوہر کے گھر جانے پر پابندی سے خراب حالات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور تشدد میں اضافے میں بھی کمی ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجویز سے شادی کو بچانے اور خاندانی زندگی زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بل کے حامیوں کا کہنا تھا کہ بل کا مقصد اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے اور اسی نوعیت کا بل مسلم اکثریتی آبادی والے ملک ملائیشیا میں بھی متعارف کرایا گیا ہے کیونکہ گھریلوتشدد سماجی زندگی پرتباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔
بالآخر جنوری 1998ء میں ترک پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کے بارے میں ایک نیا قانون منظور کرلیا۔ بل میں تسلیم کیا گیا کہ گھر یلوتشد دایک سماجی مسئلہ ہے اور بحیثیت مجموعی اس سے خاندانی زندگی پر بدترین اثرات رونما ہوتے ہیں۔ ترکی میں کئی پناہ گزین اداروں میں کی گئی تحقیق اورکیس سٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ترک عورتیں شادی ختم کرنے کے بارے میں صرف بدترین حالات میں ہی سوچتی ہیں کیونکہ اس سے عورتوں اور بچوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عورتیں صرف تحفظ اور ایک عوامی پالیسی چاہتی ہیں جس سے مردوں کو بیوی بچوں پر تشدد سے روکا جا سکے۔ نئے قانون میں ایک بنیادی شق یہ تھی کہ خاوند یا اس کے کسی قریبی رشتہ دار پر بیوی سے ملنے یا اس کے گھر جانے کے خلاف فوری حکم امتنائی اور اس کے بعد رسمی شکایت درج کروائی جاسکتی تھی۔ نئے بل میں فریقین کو قریب لانے کی کوشش پرمبنی شرائط بھی شامل تھیں جبکہ اس سے قبل گھریلو تشدد کے مقدموں کا فیصلہ ترک عدالتیں عائلی قانون کے تحت کر تی تھیں ۔ اس میں سماعت ہونے میں کئی مہینے لگ جاتے اور اس دوران صورتحال بہت ابتر ہو جاتی تھی۔ اس غیر موثر طریقہ کار کے باعث اکثر عورتیں قانونی مدد حاصل کرنے سے کتراتی تھیں۔ جس کا شوہر پورا فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ وہ سزا کے خوف سے عاری تھے اس لئے نہ صرف طاقت کا استعمال کرتے تھے بلکہ اپنے مطالبات بھی منواتے تھے۔ نئے قانون میں عورت کو تحفظ فراہم کیا گیا جس میں میاں بیوی صورتحال پر غور کرتے ہوئے اپنے اختلافات دور کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس اہم قانون کی منظوری متعدد سرگرم عورتوں کی کوشش کی بدولت ممکن ہوئی ۔ انہوں نے اس مسئلے کو ذمہ داری اور موثر طریقے سے حل کیا۔ سب سے پہلے خود وسیع تحقیق ومعلومات سے آگاہی حاصل کی اور مختلف تجربات کی حامل عورتوں سے گفت وشنید کی گئی۔ اس دوران مختلف مسلم وغیر مسلم ملکوں کی مثالوں کا جائزہ لیا جہاں گھریلو تشدد کے مسئلے سے نپٹا جا رہا تھا۔ وہ اس مسئلے کو عوام کے سامنے لے کر آئیں اور ساری ناقدین ، صحافیوں، وکلاء، عورتوں کے اسلامی گروپوں اور ویلفیئر پارٹی کے عورتوں کے شعبے کی توجہ حاصل کی ۔ انہی سے گھریلو تشدد پر متعدد گروپوں میں بحث و مباحثہ ہوا۔ اس پر مضامین لکھے گئے اور معاشرے میں اس کے نتائج کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم ڈبلیو ڈبلیوایچ آراب بھی اپنے کام کو مکمل نہیں سمجھتی۔
اب ہم اس نئے قانون کے بارے میں معلومات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی کوشش کریں گے۔ اس مقصد کیلئے ہم ڈبلیوڈبلیو ایچ آر کے قانونی تعلیم کے پروگرام کو استعمال کر کے لوگوں کو اس قانون کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے اپنی مہم بھی جاری رکھیں گے اور عورتوں کیلئے ہرممکن طریقہ اختیار کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔ اس کے علاوہ پولیس کے کام کا بھی مسلسل جائزہ لیا جائے گا کہ وہ ان مقدمات کے ساتھ کس طرح بنٹتی ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کئی پولیس افسران نئے قانون سے واقف ہی نہ ہوں۔
ظاہر ہے کہ نئی قانونی اصلاحات کو مسلسل چیک کیا جانا ضروری ہے۔ کیونکہ نئے اور بہتر قانون پرعمل درآمد نہ ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ایران اور بنگلہ دیش کے مندرجہ ذیل واقعات سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح بالکل مختلف طریقوں سے لوگوں نے انفرادی طور پر اورعورتوں کے گروپوں اورتنظیموں نے دیگر قوتوں کے ساتھ مل کر اس عزم کا عملی مظاہرہ کیا کہ معاشرے میں عورتوں کے خلاف جرائم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
1995ء میں ایران میں رشتے سے انکار پرطیش میں آ کر ایک شخص نے ایک سترہ سال لڑکی (جس سے وہ شادی کا خواہش مند تھا) اور اس کی نو سالہ بہن کے چہرے پر تیزاب پھینکنے کیلئے دوافرادکو پیسے دیئے۔ یہ تینوں افراد گرفتار ہو گئے لیکن انہیں بہت کم سزا سنائی گئی ۔ خاص طور پر مستردشدہ امیدوار شادی جواس جرم کامحرک تھا۔
تیزاب گرانے کے مکروہ جرم اور عدالت کی طرف سے مجرموں سے نرمی کے برتاؤ سے بہت سے لوگوں خصوصاً عورتوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے اکٹھے ہو کر اخبارات اور قانونی دفاتر کو خط لکھنے کی ایک مہم کا آغاز کیا۔ تمام سیاسی خیالات کی حامل عورتوں نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔ اخبارات ورسائل سے بات کی گئی کہ اور احتجاجی خطوط کومسلسل اور نمایاں طور پر شائع کریں ۔ رائے عامہ کے دباؤ کے نتیجے میں عدالت کو بھی مقد مہ نئے سرے سے شروع کرنا پڑا اور پھر تینوں مجرموں کو سخت سزائیں سنائی گئیں۔ اس مہم سے کئی اہم باتیں سامنے آئیں۔ اس سے عوامی شعور میں اضافہ ہوا۔ سرکاری حکام کو معلوم ہوا کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اس کے علاوہ اس نوعیت کے جرائم کرنے والوں کوسخت سزاؤں کا سامنا کئے جانے کا پیغام ملا۔ خاص طور پر عورتوں اور تسلط کا شکار دیگر گروپوں کو انصاف کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کا علم ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  خیال کی قوت
مختلف معاشروں میں مختلف طرز سے ظلم و ستم ہو رہا ہے ۔ لیکن جس معاشرے میں ظلم کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے وہاں پر اصلاح کی توقع بھی ہوتی ہے اور دیر سے چاہے لیکن انصاف مل جاتا ہے

گزشتہ عشرے میں بنگلہ دیش کے کچھ مقامی مولویوں خصوصاً دیہی علاقے کے مولویوں نے ماورائے قانون اختیارات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ کئی مواقع پر ان مولویوں کے ہاتھوں شہروں اور خصوصاً عورتوں کے ساتھ مذہب کے نام پر سخت بدسلوکی کی گئی ۔ خاص طور پر عورتوں کا ان غیر قانونی فیصلوں یعنی فتووں کے نام پر خاص طور پر استحصال کیا گیا۔ انہیں کوڑوں اور سنگساری کے ذریعے موت کی سزائیں سنائی گئیں۔ یہ فتوے عام طور پر ایسی عورتوں سے بدلہ لینے کیلئے جاری کئے جاتے ہیں جو مولوی یا اس کے حواریوں کی جانب سے شادی یا جنسی تعلق کی پیشکش کو ٹھکرا دیتی ہیں ۔ ان مولویوں کے پاس کوئی قانونی اختیارنہیں کہ وہ جج بن کر اس طرح کی سزائیں سنائیں۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ وہ اپنے ان فیصلوں میں کسی نوعیت کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرتے۔
فتویٰ ایک مذہبی فرمان یا فیصلے کو کہتے ہیں جو کسی اہم مذہبی شخصیت کی جانب سے دیا جائے ۔ مشرق وسطیٰ کے بعض ملکوں میں کوئی اہم ترین مذہبی حیثیت کی حامل شخصیت ہی فتویٰ دے سکتی ہے۔ کسی عام مذہبی شخصیت کے فیصلے کو تو نہیں کہا جا تا خواہ اس کے پاس فیصلے کی قانونی طاقت ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن بنگلہ دیش اور بعض دوسرے مسلم ملکوں میں فتویٰ کا کافی غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ فتویٰ کا غلط استعمال بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ فتویٰ دینے والے اس کو جان بوجھ کر چالاکی سے اپنے مقصد کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ حالانکہ عام لوگ اس کو کسی بڑے عالم کی سوچی سمجھی رائے سمجھتے ہیں۔
اکتوبر 1993ء میں بنگلہ دیش کی 22 سالہ نور جہاں کے والدین نے اس کی دوسری شادی کا اہتمام کیا۔ نور جہاں کو اس کے پہلے شوہر نے زبانی طلاق دے دی تھی۔ بنگلہ دیش میں مردوں کی طرف سے بیویوں کو زبانی طلاق دینا ایک عام رواج ہے جو اکثر عورتوں کو انتہائی غیر منصفانہ طور پرخطرے کی صورتحال سے دوچار کر دیتا ہے۔
زبانی طلاق اب قانون کے مطابق درست نہیں۔ قانونی تقاضا یہ ہے کہ طلاق دینے کیلئے بیوی اور متعلقہ مجاز حکام کونوٹس دیا جائے اور اس کے بعد 90 دن کی مدت گزرنے پر طلاق موثر ہوتی ہے۔ نور جہاں کی دوسری شادی کے بعد علاقے کے مولوی نے فیصلہ سنایا کہ اس کی پہلی شادی ابھی تک برقرار ہے اور وہ اور اس کا دوسرا شوہر زنا کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ مولوی نے گاؤں کے لوگوں کو حکم دیا کہ نور جہاں کو سینے تک زمین میں دفن کر کے پتھروں سے سنگسار کر دیا جائے ۔ اس کے والدین کو بھی اس کی دوسری شادی کرانے پر 100 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ نور جہاں سنگساری کے بعد زندہ بچ گئی لیکن اس نے ان مذہبی لوگوں کی طرف سے ہونے والے غیر انسانی سلوک پرسخت مایوسی کے عالم میں خودکشی کر لی۔
نور جہاں کی کہانی اس نوعیت کی کئی کہانیوں میں سے ایک ہے۔ مذہب کے نام پر انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کیلئے بنگلہ دیش میں عورتوں کی ایک تنظیم ’’بنگلہ دیش مہیلا پریشد ‘‘نے مولوی کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن سلطانہ کمال اور دوسری عورتوں نے مقدمے کی حمایت کی ۔ سلطانہ کمال خواتین زیراثر مسلم قوانین اور آئینو سالش کینڈ را (ASK) کے ساتھ کر کام کرتی ہیں۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہے جو قانونی اور انسانی حقوق کے بارے میں شعور کی بیداری کیلئے کام کررہی ہے۔ ان لوگوں کے دباؤ نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ اس مقدے پر توجہ دے اور عورتوں کے خلاف انتقامی کاروائیوں پر آنکھ بند کرنے کا رویہ ترک کیا جائے ۔ سلطانہ کمال اور ان کے ساتھیوں نے ایک کتاب بنگلہ دیش میں عورتوں کے خلاف فتویٰ Fatwas against women in Bangladesh لکھی جسے خواتین زیر اثر مسلم قوانین نے شائع کیا۔ انہوں نے “Eclipse” کے نام سے ایک ویڈیوفلم بھی بنائی اور ان کے ذریعے اس مسئلے کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیا گیا۔
اس مسئلے کے بارے میں لکھے جانے اور اس کو موضوع بحث بنانے کے ساتھ ساتھ مہیلا پریشد اور دوسری تنظیموں ، سلطانہ کمال اور ان کے ساتھیوں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کیلئے قومی سطح پراحتجاج کا اہتمام کیا۔ آئینوسالش کینڈرا نے الرٹ فار ایکشن کے ذریعے بین الاقوامی مد دکومتحرک کیا۔ اس کتاب میں نور جہاں کی مدد کیلئے اس کی جانب سے جاری کئے گئے الرٹ فار ایکشن کی نقل درج ہے۔ اس الرٹ کو خواتین زیراثر مسلم قوانین کی طرف سے دوبارہ جاری کیا گیا جس سے بین الاقوامی سطح پر خصوصاً مسلم دنیا سے اس مسئلے کے حل کیلئے کافی مددملی۔
(نائلہ رضا)

یہ بھی پڑھیں:  میاں بیوی کا رشتہ ایک مضبوط بندھن