indian army officer

کیا انڈیا چین اور پاکستان سے جنگ کرنے کے قابل ہے؟

EjazNews

بھارتی فوج نے چین سے ملحقہ سرحدی علاقے میں 15 ہزار فٹ کی بلندی پر فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جنہیں فوجی مبصرین نے انتہائی اونچائی پر ہونے والی دنیا کی پہلی فوجی مشقیں بھی قرار دیا ہے۔ مبصرین کے نزدیک ان مشقوں کا مقصد، چین سے جنگ کی صورت میں اپنی فوج کی صلاحیتوں کو ٹیسٹ کرنا ہے کیونکہ اس علاقے میں بے پناہ سردی پڑتی ہے اوربھارتی فوجی کمانڈ کو شبہ ہے کہ بھارتی فوج اتنی اونچائی پر لڑنے سے قاصر ہیں۔ جنگی مشقوں کا یہ مقام اور نچل پردیش میں چین کے ساتھ سرحدی کنٹرول لائن سے 100کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ بھارتی فوجی افسروں نے ان فوجی مشقوں کو انسٹیگریٹ بٹیل گروپ کا نام دیا ہے۔ اس سرحدی علاقے کے دوسری جانب تبت کا وہ علاقہ واقع ہے جہاں چین کی عملداری ہے۔ مبصرین کے مطابق چین نے ان سرحدی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ چین کے صدر اسی ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں جبکہ ان کے دورے سے پہلے پاکستانی وزیراعظم چین جارہے ہیں۔
دوسری جانب بھارتی ائیرفورس کی صلاحیتوں کا پول بھی کھل گیا ہے کھلے بندوں 27فروری کو سری نگر میں پڈگام کے نزدیک اپنا ہی ہیلی کاپٹر گرانے کو تسلیم کرتے ہوئے فضائیہ کے دو افسروں کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔جو اس پر غلطی سے فائرنگ کے ذمہ دار تھے۔ بھارتی فضائیہ کے اناڑی ہوا بازوں کی اپنے ہی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے بھارتی فضائیہ کے 6افسر اور ایک شہری ہلاک ہوگیا تھا۔ یہ وہی دن ہے جب پاکستانی فضائیہ نے دو بھارتی طیارے مار گرائے تھے اور پوری بھارتی فضائیہ بوکھلاہٹ کا شکار تھی۔
جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نارمل حالات کا جوڈرامہ سوشل میڈیا کے ذریعے کھیلنے کی کوشش کر رہا تھا اس کی سوشل میڈیا کی چالاکی پکڑی گئی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کو دو ماہ ہونے والے ہیں اور کاروبار زندگی بری طرح معطل ہے لیکن بھارتی سوشل میڈیا کی ڈھٹائی اور بے شرمی اس وقت منظرعام پر آگئی جب مقبوضہ کشمیر کے نارمل حالات کو ظاہر کرنے والی تصویریں کئی ماہ پرانی نکلیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی ڈھٹائی کا یہ ڈرامہ خود بھارتیوں نے فاش کر دیا۔ سوشل میڈیا پر مختلف بھارتیوں کی طرف سے کاروبار زندگی کو معمول پر ظاہر کرنے والی ان تصاویر کی تعداد 6سے زائد ہے۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک تصویر اشیس کوہلی نے لگائی جو خود کو صحافی کہتا ہے۔ اور مقبوضہ کشمیر میں مقین ہے۔ اس نے تین تصویریں لگائیں جس میں مختلف شہروں میں کاروباری زندگی کو معمول پر دکھایا گیا ہے اور اس نے اس تصویر کو 3اکتوبر کی تصویر قرار دیا جبکہ یہ تصویر کئی ماہ پرانی ہے ان کی چالاکی کا یہ بھانڈا ’’اے ایل ٹی نیوز‘‘ نے پھوڑا ہے اور کہا ہے کہ یہ تصویر 22مارچ 2019ء کی ہے جو کہ بھارتی حکومت کے حالیہ مذموم اقدام سے 4ماہ پہلے کی ہے۔ یہی حال دیگر تصویروں کا ہے جو کئی ماہ پرانی ہیں۔ لیکن انہیں 3اکتوبر کا کہہ کر وائرل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس :ملائیشیا 18سے31مارچ تک پوری دنیا کیلئے بند رہے گا

کوہِ ہمالیہ پر چینی اور بھارتی افواج کے درمیان مڈ بھیڑ کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان خاصا تنائو پایا جاتا تھا۔چین کی انتہائی سخت تنبیہ کے بعد بھارتی افواج واپس تو چلی گئیں، لیکن اس کے نتیجے میں کوہِ ہمالیہ پر دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئیں اور 73روز تک یہ سلسلہ برقرار رہا تھا۔ اس کھنچائو کے پیشِ نظر بھارتی وزیر اعظم، نریندر مودی نے چین کا غیر معمولی دورہ کیاتھا۔
لیکن 2019ء کے انتخابات جیتنے کے بعد سے نریندرا مودی گھمنڈ کا شکار ہو گئے ہیں وہ چین اور پاکستان کیخلاف ہر طرح کا محا ذ کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا کسی کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔