Wife and husband happy mode

تمام راستوں پر بغیر تھکے چلیں (کسی پریشانی کے عمل کی صحیح پلاننگ)

EjazNews

ایک کاغذ اورقلم ہے۔ کسی سستی یا نہ کرنے کے تصور کے بغیرصحیح راستوں کو متعین کرنے کے لیے ان بنیادی نکتوں کو لکھ لیجئے۔
ا۔ میں مسئلہ حل کرنے کی ابتدا کب سے کروں؟ میری سہیلی۔ میری بہن۔ سوشل ور کر۔ ڈاکٹر ۔ والدین۔ سسرال کے لوگ ۔ رشتہ دار ۔کوئی نہیں۔
۴۔ کامیابی کی راہیں کب سے شروع ہوسکتی ہیں؟ مجھے ابھی توقع نہیں ہے۔ دو مہینوں کے بعد ۔ایک سال کے بعد۔ خاصا وقت درکار ہے۔ کچھ کہنا مشکل ہے۔ چند دنوں کے بعد۔ شاید نا کام ہو جاؤں۔
۵۔ ناکامی کی صورت میں ممکنہ بدل کیا ہو سکتے ہیں؟ رونا۔غم ۔ دوسری کوشش۔ دوسروں سے مدد۔ رک جانا۔نئے طریقے استعمال کرنا ۔حقیقت کے سامنے ہار مان لینا۔
۶۔ کامیابی کے بعد کے حالات کیا ہوں گے معاملات بہت اچھے ہو جائیں گے۔ شاید تھوڑے عرصے تک کامیابی باقی رہ سکے۔ نظر رکھنا ہوگا اور مزید سدھار کی کوشش۔ اس مرحلہ پر باقی رہنا ہو گا۔ فوری ردعمل۔
ان سوالات کے جوابات فوری اور مناسب حل تک پہنچنے میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب جب آپ اپنی پریشانی کا حل سوچ مجھے پلان اور واضح طریقہ کار پررکھیں گے، اس کے نتائج خوش آئند اور ہمت افزا ہوں گے۔
ایک مرتبہ ایک خاتون میرے پاس حاضر ہوئی وہ خود اپنی شکایت کر رہی تھی وہ ہیجان اور غصہ کی حالت میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکتی تھی اور یہ کہ از دواجی پر یشانیوں سے نمٹنے کا ہی راستہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ میں نے اس سے گفتگو کی اور ایک پروگرام ترتیب کے ساتھ دیا۔
حل کب شروع کیا جائے؟ 2001-15-4ہماری شادی کی پانچویں سالگرہ کا دن ہے۔ اس حل میں کون کون شریک ہوں؟ خود میں جسےیہ مشکل در پیش ہے اور میرا بڑا بھائی اسلئے کہ وہ اس معاملہ میں دلچسپی لے رہا ہے۔ میری سہیلی ام حصہ اس لیے کہ وہ ایک زمانہ سے شادی شدہ ہے اور ان مسائل کے حل کا اسے خاصہ تجربہ ہے اور ان سب سے پہلے استاد خلیفہ ( کتاب کے مصنف) آپ بھی ہوں گے اگر آپ کچھ حرج نہ سمجھیں۔
آپ کب توقع کرتی ہیں کہ نتائج سامنے آئیں گے؟ یوں فرض کریں کہ میں آج سے دو ماہ بعد اپنے آپ پر قابور کھنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اور چند مرحلوں کے بعد جسے میں ایک سال میں چار مہینوں پرتقسیم کرتی ہوں، اپنے شوہر کو واپس لینے میں کامیاب ہو جائوں گی۔
ناکامی کی صورت میں ممکن بدل کیا ہے؟ میں اپنا مقصد ہرگزنہیں بدلوں گی اگرچہ اس کاذریعہ اور وسیلہ بدل دوں اور استاد خلیفہ آپ سے مد دلوگی۔ خاندانی تعلقات کی اصلاح کے کورس پڑھوں گی۔ اور اپنے اللہ سے شوہر کی اصلاح کے لیے دعا کروں گی۔
کامیابی کے بعد کا مرحلہ کیا ہوگا ؟ میں اپنی کامیابیوں کی حفاظت کروں گی اس میں غلو نہیں کروں گی۔ میں مزید اہتمام کروں گی ۔ اپنی پریشانیوں کا زیادہ خیال کروں گی۔ کامیابی کی حفاظت کے نئے طریقوں کو تلاش کروں گی۔ خاندانی تعلقات سے متعلق کتابوں کا مطالعہ کروں گی۔
اس طرح کے واضح طریقے آپ کو کامیابی اور سکون کے صحیح راستہ کی نشاندہی کریں گے۔
زمین ہموار کرنا (حل سے پہلے اہم قدم)
ا۔ کسی مشکل کو حل کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ آپ مل توجہ دیں، جب آپ کو کوئی مشکل پیش آئے تو آپ اس کو مناسب وقت ضرور دیں۔ اس کو اس طرح نہ لیں کہ آپ اس سے ملتی جلتی کوئی پریشانی حل کر چکے ہیں اس لیے کہ ازدواجی زندگی کی ہر مشکل دوسری مشکل سے الگ ہوتی ہے چاہے ان کے اسباب ایک جیسے ہوں۔ جب جب آپ زیادہ توجہ دیں گے تب تب آپ اس مشکل کو زیادہ سمجھ لیں گے اور اس مشکل کاحل آسان ہوگا۔
۲۔ وقت کا گزرنا علاج کا ایک حصہ ہے۔ مشکلات کے حل میں اس کی بھی اہمیت ہے۔ بعض لوگ جو معاشرہ کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں، بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ وہ غیرمنطقی علاج بتلائے ہیں ۔جس میں جلد بازی ہوتی ہے اور توازن نہیں ہوتا ہے۔ ایسے افراد کے نزدیک بس کوئی حل بتانا اور جواب دیدینا کافی ہوتا ہے۔ وہ بیوی کی موجودہ پریشانی کو پوری طرح نہیں سمجھتے۔ حالانکہ اگر ہم اس کے مد مقابل کی بات بھی سن لیں تو زیادہ بہتر ہوگا، اس لیے کہ یکطرفہ بات، آدھی حقیقت ہوتی ہے۔
۳۔ عام کہاوتوں اورضرب المثل پر اپنی پریشانیوں کے حل میں ہرگز اعتماد نہ کریں۔ اگر کبھی میاں بیوی میں پریشانی اٹھ کھڑی ہوتو بعض اوقات اس کی سہیلیاں اس کو نصیحت کرتی ہیں کہ وہ شوہر کی اصلاح اور صلح کی بات نہ کرے بلکہ (جس دروازہ سے آندھی آرہی ہو اس کو بند کرو اور آرام سے رہو ) کا مشورہ دیتی ہیں۔ ان عام کہاوتوں کو بے جا استعمال کرتا اور اس کی روشنی میں اپنی پریشانیوں کا حل سوچناہی بڑی مصیبت ہے جو میاں بیوی کے تعلقات میں سب سے پہلی بیماری ہے۔
حضرت معاویہؓکی حکومت چلانے کی سیاست گفتگو میں نہ اپنائیں، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب شوہر ہیجان اور نفسیاتی دباؤ کی حالت میں ہوتا ہے تو بیوی نرمی اور سکون کا مظاہرہ کرتی ہے اور جب شوہر اپنے رویہ اور برتائو میں غلطیوں کا مرتکب ہوتا ہے تو بیوی عقل مندی اور ثابت قدمی دکھلاتی ہے۔ یا صحیح نہیں ہوگا کہ ہم یہی سیاست تمام حالتوں میں اختیار کریں بلکہ ہم پر ضروری ہے کہ ہم ہرمسئلہ میں اس کے مناسب فیصلہ کریں۔ اس لیے کہ کسی بات کو حکمت اور توجہ کے ساتھ دیکھنا ہی سب سے پہلا قدم ہے۔ پھر ہمیں سوچنا ہے کہ کیا اس موقف میں نرمی اوررعایت کی ضرورت ہے یا عقل مندی اور ثابت قدمی کی۔
۵۔ جوشخص کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے حاصل کرنا چاہتا ہے تو بطور سزاوہ اس سے محروم کردیا جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم کڑوی دوا پر صبر کریں اور اس سے متوقع علاج کے نیب کی جلدی نہ کریں۔ بعض پریشانیوں کے علاج کے لیے طویل عرصہ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے پرانی بیماریاں۔ بخار شاید ایک ہفتہ میں ختم ہولیکن دوسری پیاری ایک مہینے میں ٹھیک ہوگئی اور کوئی اور بیماری سالوں میں بعض شوہروں کو وہ علاج راس نہیں آتا جو بیوی کر رہی ہے لیکن طویل عرصہ کے بعد فرق پڑتا ہے۔ یابعض طریقہ علاج اس مشکل کے حل کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔ یہاں عورتوں کو چاہئے کہ وہ اس پریشانی کے حل کا طریقہ بدل دیں نہ کہ اس پریشانی ہی سے غفلت برتیں۔ اپنے گھر سے سچی محبت کرنے والی عورت ’’ناممکن‘‘اور’’دشوار‘‘ کے الفاظ نہیں جانتی ہے لیکن اسے معلوم رہتا ہے کہ نفسیات کے ساتھ سب سے پہلے کس طرح معاملہ کرنا چاہئے ۔
۶۔ اس غم کو دور کرنے کے لیے صرف اللہ رب العزت پر بھروسہ، عورت کو چاہئے کہ وہ دعا اور ذکر کے لیے کوئی وقت مقرر کرے چاہے اپنی نمازوں کے بعد یا خصوصاً رات کو سونے سے پہلے اور فجر سے پہلے تہجد میں۔ کیونکہ اس بات پر ایمان کی صرف اللہ تعالیٰ جسے چاہے بدل سکتا ہے اور وہ صرف (کن فیکون ) کے ذریعہ کرتا ہے، اس ایمان کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان اللہ سے مدد مانگے اور امید رکھنے کے دروازہ کو بند نہ کرے۔ انسانی دل اللہ رب العزت کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں وہ جسے چاہے انھیں پھیر دیتا ہے۔ جب ایک مسلمان یہ یقین کر لے کہ الله اپنے بندوں کے ساتھ ہے تو اسے شرح صدر ہو جاتا ہے اور اس کا دل مطمئن ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسکے گمان کی لاج رکھے گا۔
۷۔ اگر شوہر عورت کے بنائے ہوئے اصلاحی پروگرام کے مطابق ساتھ نہ دے تو اسے مضمحل اور پریشان نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ اس کی ناکامی کی دلیل نہیں ہے بلکہ وہ اس کی پرامید کامیابی کی دلیل ہے لہٰذا اسے چاہئے کہ وہ شوہر کے ساتھ مزید نرمی اور محبت کی سیاست کو اپنائے۔ اس طرح سے بڑی مسافت مختصر اور چھوٹی ہوجائیگی اور کامیابی کا راستہ اس کے لیے سمٹ جائے گا۔
۸۔ آپ کوشش کریں کہ شیطان آپ کے دل میں مایوسی نہ ڈال دے کہ آپ نے جس کام کا بیڑا اٹھایا ہے ان میں لگے رہنے سے وہ آپ کو ہٹادے۔ کوشش کیجئے کہ شوہر کی نفی باتوں سے پہلے اس کی مثبت باتوں پرتوجہ ہو، آپ اپنے دل میں ان کی باتوں پر زیادہ دھیان دیں۔ اس طرح الله تعالیٰ کی مرضی سے کامیابی کی کوششوں میں آپ کے عزم و ارادہ کو تقویت ملے گی۔
۹۔ اس پروگرام پر عمل کے دوران بار بار اپنے دل میں یوں سوچیں (مجھے پوری امید ہے کہ میں اپنی کوششوں میں کسی نہ کسی حد تک ضرور کامیاب رہوں گی اسے آپ اپنی زندگی کا ایک حصہ بنالیں۔ اپنے دل میں اور عقل باطن میں اس کو بسالیں اور کوشش کریں کہ پریشانیوں کو آسان انداز سے دیکھیں بلکہ اس کی اہمیت کم کریں اور زندگی سے بھر پور انداز سے ان کو دیکھنے کی عادت ڈالیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اپنی زندگی کوتم خود بنا ئو گےلہٰذا دوسروں کو موقع نہ دو کہ وہ اسے تمہارے لئے بنائیں