دل کی دھڑکن پر غور کرنے کافائدہ(دل کی دھڑکن کو نظر اندا ز نہ کیجئے)

EjazNews

دل کی دھڑکن میں کمی بیشی کی بہت سے وجوہات ہیں کسی بھی وجہ کو ہلکہ نہ لیجئے کیونکہ بہت سے اسباب نارمل اور کچھ خطرناک ہیں ہر کسی کو نارمل سمجھ لینا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ دل کی دھڑکن کا عمومی طور پر تعلق اس کی جسمانی حرکات سے بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً بہت تیزی سے بھاگنا ، دوڑنا، ورزش کرنا اور حتیٰ کہ زیادہ کھا پی لینے سے بھی دھڑکن میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ دل کی دھڑکن کے اثرات گردن ،سینے اور کان میں بھی محسوس ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آدمی کان کے بل چارپائی پر لیٹا ہوا ہو۔ دھڑکنیں عمومی طور پر تھوڑی ہی دیر تیز ہونے کے بعد نارمل ہو جاتی ہے کچھ کیسوں میں یہ منٹو پر بھی محیط ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاﺅ اچھی صحت کی علامت نہیں۔ انہیں اس بارے میں پریشان ہونے کی بجائے سوچنا چاہیے کیونکہ زیادہ تر کیسوں میں یہ نقصان دہ اور کچھ میں نہیں۔ مثلاً دن میں آپ کو ایسا محسوس ہو کہ ہارٹ اٹیک ہو رہا ہے تو یہ ایک اچھی علامت نہیں۔ دل کی دھڑکن کی وجہ ذہنی دباﺅ، بھاگ دوڑ ، اعصابی تناﺅ، دمہ کے لیے ان ہیزر لینا ، تھائی رائیڈ کا علاج ، اینٹی بائیو ٹیک کھانا ، تھراپی، کھانسی کی ادویات لینا اور کچھ ہربل ادویات بھی دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاﺅ کا باعث بنتی ہیں۔ کچھ بیماریاں بھی جیسا کہ اینیمیا، لو بلڈ شوگر، پوٹاشیم کی کمی، خون کا اخراج، صدمہ، تھائی رائیڈ گلائینڈ کی زیادہ سرگرمی، آکسیجن کی کمی یا کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ بھی کمی بیشی کا باعث بنتے ہیں۔
تاہم اگر اس دھڑکن کا تعلق براہ راست دل سے ہے یعنی خون کی نالیوں میں کوئی ر کاوٹ، پیدائش کے وقت دل میں کوئی خرابی ، آرٹری میں کوئی خرابی، یا دل کی دھڑکن میں کوئی خرابی خطرناک ہے۔ اس کا تعلق آپ کے لائف سٹائل سے بھی ہے۔ چائے، کافی یا انرجی ڈرنک استعمال کرنے والے اس سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ تمباکو نوشی، شراب نوشی ، ادویات اور بہت زیادہ ایکسر سائز کے علاوہ مسالے والی خوراک بھی دل کی دھڑکن کو تیز کر سکتی ہے، لیکن آپ نے محتاط اس وقت ہونا ہے جب ان میں مندرجہ ذیل خرابیاں نظر آئے۔ آپ کو چکر آنے کی صورت میں یا بلڈ پریشر بہت کم ہو جانے کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجو ع کرنا چاہیے۔ سٹوک موت کا باعث بن سکتا ہے۔ جبکہ Supraventricular Tachycardia (SVT)کسی بھی عمر میں اور کسی کو بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ اسی طرح کئی اور طرح کی علامتیں بھی خطرناک ہو تی ہیں۔ ہارٹ کی کوئی ہسٹری ہونے کی صورت میں بھی دل کی دھڑکن کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ تاہم یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ اکثر ہوتی ہے یا کبھی کبھی ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن کی اتار چڑھاﺅ کی صورت میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں اور یہ عمومی طور پر کس وقت ہوتی ہے یعنی ورزش کرتے وقت ، کھانے کے بعد ، پھر یہ بھی دیکھنا چا ہیے کہ دل کی دھڑکن میں اتار چڑھاﺅ کی شدت کتنی ہے ہلکا سر درد ہے یا نہیں ، چکر آرہے ہیں یا نہیں سانس میں رکاوٹ یا سینے میں درد ہے یا نہیں ۔ یہ کس وقت ہوتی ہے کسی کام کے وقت یا آرام کے وقت، یہ اچانک ہو کر ختم ہو جاتی ہے یا ہوتی رہتی ہے۔ عام طور پر اس بارے میں ڈاکٹر ہی بہتر بتا سکتے ہیں لیکن آپ کو اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا وائرس: اہم علامات اور پھیلاؤ
کیٹاگری میں : صحت