Pain

درد کا نیا علاج

EjazNews

دنیا میں سب سے زیادہ بیماری درد کی پائی جاتی ہے ہرشخص کسی نہ کسی درد یا کرب میں مبتلا ہے۔ سر کا درد ،پیٹ درد اور دانت کا در د یہ تین درد انسان کی جان نہیں چھوڑتے۔گھٹنوں ، ہڈیوں کے درد کو بھی شامل کرلیں تو ان کی ادویات اربوں ڈالر میں پڑتی ہیں۔ ہر سال لاکھوں افراد ٹریفک اور دوسرے حادثات میں جان کی بازی ہا ر جاتے ہیں اور مزید کروڑوں افراد مختلف طرح کے زخموں کا شکار ہوکر ہسپتالوں میں چکرلگاتے رہتے ہیں ۔یہ لوگ مل جل کر اربوں روپے کی ادویات کھا جاتے ہیں لیکن اب سائنسدان درد کو ٹیکنالوجی کے ذریعے سے ختم کرنے پر غور کر رہے ہیںکیا ایسا ممکن ہے۔ یہ نقطہ اس وقت سائنسدانوں میں زیر بحث ہے۔ امریکہ کے مرکز برائے امراض کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق دائمی درد 52ہزار افراد کی موت کا باعث بنتا ہے۔اور مزید ہزاروں، لاکھوں لوگ مختلف امراض کے درد میں مبتلا ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ امریکہ میں ایڈز سے 1995ءمیں 43ہزار افراد موت کے منہ میں گئے ان کی تکلیف اور درد کا کسی کو اندازہ نہ تھا اور 2027ءمیں Opioidسے مرنے والے افراد کی تعداد 1لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ 2011ءمیں انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن آف نیشنل اکیڈیمز پریس نے بتایا کہ امریکہ میں 10کروڑ لوگ دائمی درد میں مبتلا ہیں۔ جن کے علاج پر سالانہ 630ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ فارما سویٹیکل کمپنیوں کے لیے درد بہترین ہے کیونکہ یہ ان کے اکاﺅنٹس بھرنے کے کام آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درد کے خاتمے پر ہونے والی تحقیق صرف دواﺅں کی تیاری تک محدود ہے۔ اس کے علاج کے ٹیکنیکل طریقے نہیں ڈھونڈے جارہے۔ یہی نہیں بلکہ مسی سپی ، اوہائیو اور ایلی نائس میں درد کا ٹیکنکل علاج تلاش کرنے والوں کیخلاف مقدمات درج ہوگئے۔ سب سے عام استعمال ہونے والے Opidکو آکسی کوڈون کہا جاتا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق یہ طریقہ علاج مناسب نہیں۔ چنانچہ ٹیکنیکل علاج کرنے والی بعض کمپنیاں فارما سویٹیکل کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں یہ درد کے خاتمے کے لیے الیکٹریکل ایسٹوموشن پر کام کر رہی ہیں ،اس سلسلے میں کوششوں کا آغاز 1994ءمیں ہوا تھا جب ڈاکٹروں نے برقی رو کے ذریعے سے نروس سسٹم کو متاثر کر کے درد کا علاج کرنا شروع کیا۔ جسم کی متاثرہ جلد کے ساتھ کمزور برقی رو کے لیے الیکٹروز پٹیوں کے ذریعے باندھ دئیے جاتے جو درد کو کھینچ لیتے اس کے لیے بیٹری کا بیک اپ بھی استعمال ہوتا۔
ان آلات کے استعمال میں سب سے بڑی مشکل ان کا محدود دورانیہ تھا یہ آلات20سے 30دن مو¿ثر رہتے تھے اور انہیں مخصوص حصوں پر ہی استعمال کیا جاسکتا تھا۔ درد کے طویل المیعاد میں یہ مو¿ثر نہ تھے لیکن اب سائنسدانوں نے اس کے لانگ ٹرم کا طریقہ علاج تلاش کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ شائے بوزانی نے کہا کہ کمزور برقی رو کے ذریعے دائمی درد کے علاج کا کوئی نقصان نہیں کیونکہ یہ اعصابی نظام کے متاثرہ حصوں پر اثر انداز ہو کر درد کا راستہ روک دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں درد کو ختم کر دیتا ہے۔ یہ محفوظ ہے اور اس کا کوئی منفی نتیجہ نہیں نکلتا۔
ہاورڈ یونیورسٹی سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1996ءسے وہ اسی شعبے پر کام کر ہے ہیں۔ انہو ں نے کیلی فورنیا سے برقی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تاہم انہیں کامیابی 2011ءمیں حاصل ہوئی ۔ جب انہوں نے فریڈر ڈرگ ایجنسی سے اپنا ایک آلہ منظور کروالیا۔ درد کا خاتمہ کرنے والی یہ کٹ پین اسٹارٹر کٹ کہلاتی ہے اسے استعمال کرنے والوں نے مثبت رپورٹ دی ہے۔ ایف ڈی اے نے بھی اسے غیر نقصان دہ اور مفید قرار دیاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پروسٹیٹ کینسر کیا ہے؟
کیٹاگری میں : صحت