Hamid

سزا

EjazNews

حامد ایک بہت اچھا لڑکا ہے۔ وہ ہر کسی کی بات مانتا ہے۔ ایک دن اس کے ابو نے اسے کہا کہ اگر تم جماعت میں اوّل آئو گے تو میں تمہیں سائیکل لے کر دوں گا پھر کیا میں نے دن رات محنت شروع کر دی۔ آخر کار ہم جماعت میں اوّل آگیا۔ پھر ہم نے ابوکو ان کا وعدہ یاد دلایاتو انہوں نے کہا بیٹا کل لے دوں گا۔
صبح کا وقت تھا سب ناشتہ ک رہے تھے کہ ہم نے ابو کو پھر سے وعدہ یاد دلایا بیٹا تنخواہ ملنے میں ابھی پندرہ دن باقی ہیں جب تنخواہ ملے گی تو لے دوں گا۔ مجھے بہت غصہ آیا میں نے سب سے جھگڑا شروع کر دیا بغیر ناشتے کے گھر سے نکل آیا۔
چھٹی کی گھنٹی بجی سب چے سکول سے نکل آئے۔ حامد بھی اپنے دوست خالد کے ساتھ نکل آیا ۔ ابھی دونوں آگے جاہی رہے تھے کہ انہیں رونے کی آوازیں آنے لگیں۔ان دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ روتا ہوا نظر آیا۔ حامد نے اپنے دوست خالد کی طرف آوازیں آنے لگیں۔ ان دونوں نے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ روتا ہوا نظر آیا۔ حامد نے اپنے دوست خالد کی طرف دیکھا پھر بچے کی طرف متوجہ ہوا۔ کیا ہوا کیوں رو رہے ہو۔ بچے نے کہا میں اپنے گھر کا راستہ بھول گیا ہوں۔ کیا تم میری مدد کرو گے۔ حامد بولا کیوں نہیں چلو تمہارا گھر ڈونڈتے ہیں۔ حامد نے اپنے دوست خالد کو کہا چلو خالد چلتے ہیں۔خالد بولا مجھے نہی لگتا یہ سچ بول رہا ہے کیونکہ یہ ہے بھی 8-9سال کا لڑکا۔
حامد بولا تم تو جاسوسی ناول پڑھ کر اپنا دماغ کھو بیٹھے ہو۔ ہا ہاہا خالد اپنے گھر کو چلا گیا تو حامد بولا تم کہا رہتے ہو۔ لڑکا بولا میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میرے محلے کا نام محلہ پری ہے۔ حامد ایک دم چونکا۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہاں کوئی نہیں رہتا۔ خالد بولا مگرو ہا ں تو کوئی کوئی نہیں رہتا۔ حامد نے ڈرے ہوئے الفاظ میں کہا۔ بچہ بولا نہیں رہتا ہے بہت سے لوگ رہتے ہیں مگر وہ کسی کے سامنے نہیں آتے۔ دونوں محلہ پری کی طرف چل پڑے۔ تھوڑی سی مسافت کے بعد اسے ایسا لگا کہ اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے جیسے اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھ کر سے بے ہوش کر دیا۔
جب اسے ہوش آیا تووہ ایک کمرے میں بند تھا۔ پھر کچھ دیر بعد وہا ں رہنے کے بعد اس نے اللہ سے دعا مانگنا شروع کر دی کہ اس نے اپنے امی ابو کو ستایا یہ اسی کی سزا ہے۔ پھر اسے پولیس کی گاڑیوں ک ے سائرن کی آوازیں آنے لگی پھر کمرے کا دروازے کھلا تو انسپکٹر صاحب کے ساتھ اس کے ابو بھی تھے وہ فوراً ابو سے لپٹ گیا۔ پھر اس نے ابو سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا میں یہاں ہوں۔ ابو بولے جب تم اس لڑکے کی مدد کر رہے تھے تو اس وقت میں تمہیں سکول سے لینے کے لیے آرہا تھا پھر میں نے تمہارا پیچھا شروع کر دیا۔ اور جب یہ دیکھا کہ تمہیں بے ہوش کیا جارہا ہے تو میں نے فوراً پولیس کو اطلاع کی اور پھر یہ سب ہوا۔ گھر آکر حامد نے سب سے معافی مانگی اور آئندہ سے توبہ کرلی۔
زیاد عمر (ٹیکسلا)

یہ بھی پڑھیں:  لومڑی اور بھیڑیا