childe rape

چونیاں میں بچوں سے زیادتی کے ملزم تک پولیس کیسے پہنچی

EjazNews

سینئر پولیس حکام کے مطابق چونیاں کیس کی تفتیش زینب کیس سے زیادہ مشکل تھی جس کی وجہ یہ ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج نہ ہونے کی وجہ سے ملزم کی قد و قامت اور جسامت وغیرہ کے حوالے سے کوئی معلومات نہ تھی۔ ایسے میں پولیس نے سی آئی اے، انٹیلی جنس بیورو اور دیگر اداروں کی مدد سے تفتیش شروع کی۔ سب سے پہلے جائے واردات کے اردگرد کے تقریبا 26 ہزار لوگوں کا مردم شماری کا ڈیٹا جمع کیا اور پھر سائنسی طریقے سے گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا۔اس دوران چارہزار گھروں میں پولیس اہلکاروں نے گھر گھر جا کر معلومات جمع کیں اور اٹھارہ سے چالیس سال کے تین ہزار پانچ سو افراد کو شامل تفتیش کیا۔ جس کے بعد اٹھارہ سو مشکوک افراد کے ڈی این اے سیمپل جمع کیے گئے۔تب تک پولیس سولہ سو اڑتالیس لوگوں کے ڈی این اے حاصل کر چکی تھی جب 1471نمبر کا نمونہ متاثرہ بچوں کے جسمانی نمونوں سے مل گیا۔ یہ نمبر سہیل شہزاد کا تھا جس کو مشکوک ہسٹری کی وجہ سے لاہور سے بلا کر نمونہ لیا گیا تھا۔ ابتدا میں ملزم نے جرم سے انکار کیا مگر جب اسے ثبوت دکھائے گئے تو اس نے اقرار جرم کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم نے بلوچستان میں پہلے دل کے ہسپتال کا افتتاح کر دیا

جنسی تشددکیا ہوتا ہے
ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں روزانہ6سے15سال کی عمر کے 10سے زائد بچے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ گھر میں بچے پر جنسی تشدد سوتیلے ماں باپ کی طرف سے، کسی رشتے دار کی طرف سے، گھر آنے والے دوست و احباب کی طرف سے، گھر پر کام کرنے والے ملازمین کی طرف سے اور گھر پر ٹیوشن پڑھانے کے لیے آنے والے اساتذہ یا ٹیوٹر کی طرف سے ہوسکتا ہے۔ جنسی تشدد گھر سے باہر بھی ہو سکتا ہے، مثلا ً:دوست کی طرف سے، پڑوسی کی طرف سے، استاد کی طرف سے، بچے کا خیال رکھنے والے کسی فرد یا اجنبی کی طرف سے۔
عام طور پر بچوں پر جنسی تشدد کی واضح جسمانی علامات نہیں ملتیں۔ کچھ علامات صرف ڈاکٹر کے مکمل معائنے کے بعد ہی سامنے آتی ہیں۔ جن بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کیا جاتا ہے، ان میں مندرجہ ذیل علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
1- خلاف معمول جنسی نوعیت کی چیزوں میں دلچسپی لینا یا جنس سے وابستہ ہر چیز سے گریز کرنا۔
2- نیند کے مسائل کا شکار ہو جانا یا برے برے خواب دیکھنا۔
3- ڈپریشن کا شکار ہو جانا یا دوستوں اور گھر والوں سے الگ تھلگ رہنا۔
4- اس طرح کے جملے کہنا کہ ان کا جسم گندا ہے یا اس کو نقصان پہنچ چکا ہے۔
5- اسکول جانے سے انکار کرنا، اسکول سے بھاگنا ۔
6- زیادہ تر باتوں کو خفیہ رکھنا۔
7-عصمت دری کے حوالے سے کھیل کود، ڈرائنگ یا تخیل میں اظہار کرنا۔
8- خلاف معمول غصے کا اظہار کرنا۔
9- خودکشی کی طرف مائل رویہ۔
والدین مندرجہ ذیل طریقوں سے بچوں پر ممکنہ جنسی تشدد کے امکانات کو کم کرسکتے یاروک سکتے ہیں۔
1- بچوں کو بتائیں کہ اگر کوئی ان کے جسم کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرے یاان کے ساتھ ایسا کام کرے جو انھیں عجیب لگے تو اس شخص کو سختی سے منع کریں اور والدین کو آکر بتائیں۔
2- بچوں کو سکھائیں کہ بڑوں یا بزرگوں کی عزت کرنے کا مطلب ان کی اندھی فرمانبرداری نہیں ہوتی، مثلاً بچوں کو یہ نہ کہیں کہ آپ ہمیشہ ہر وہ کام کریں جو آپ کے ٹیچر یا آپ کا خیال رکھنے والے آپ کو کہیں۔
3-اسکولوں میں جنسی تشدد سے بچاؤ کے پروگراموں کی حوصلہ افزائی کریں۔
ایسے بچے، جن کے ساتھ جنسی تشدد ہوتا ہے، ان کو فوراً ماہرانہ معائنے، مدد اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔مناسب اور مؤثر علاج سے بچے میں آگے چل کر جوانی میں شدید مسائل پیدا ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مسلم لیگ ن نے پیپلزپارٹی کی اور پیپلزپارٹی نے جے یو آئی کی پیٹھ میں چھرا مارا:وزیر اطلاعات