Wife with his husband

مشکلات کو حل کرنے کی تجاویز

EjazNews

پچھلے مرحلہ میں ہم نے کسی مشکل کے متعین کرنے کا مشورہ دیا ہے اس مرحلہ میں ہم اس مشکل کوحل کرنے کی تجاویز پر ملی حیثیت سے غور کریں گے یعنی یہ کہ اس مشکل کے عمل کی ابتدا کہاں سے ہو اور متعین طور پر علاج کی کن باتوں پر بیوی غور کرے تا کہ اس کی کوشش ضائع نہ ہو۔ میں مختلف حل سوچوں گی اور مختلف طرح سے اس مشکل کوحل کروں گی اور پھر ان میں سب سے بہتر طریقہ اختیار کروں گی۔
مثال: پچھلے مرحلہ میں ہم نے گھر میں مرد کی خاموشی کے اسباب کی نشاندہی کی کوشش کی ۔ یہاں ہم ان اسباب کے عملی علاج پرغور کریں گے۔
1۔ اپنے شوہر کے گھر پہنچنے کے فوراًبعد میں کسی گفتگو کی کوشش نہیں کروں گی۔
2۔ مجھے گھر میں کاموں کی زیادتی کا جو احساس ہوتا ہے میں اس کے بارہ میں شوہر سے شکوہ ہر گز نہیں کروں گی۔
3۔ گھر کی تمام ضروریات تیار حالت میں رہے گی ۔ صابون ، شامپو، حمام میں تولیہ بھی سب موجود،سوتے وقت پہننے کے کپڑے ،معطر بستر صاف ستھرا، کمرہ ترتیب سے آراستہ ، اور شام کا کھانا گرم گرم مطبخ میں موجود ہوگا۔
4۔ شوہر گھر میں داخل ہو تو میں اس کا گرم جوشی سے استقبال کروگی۔
5۔ اس کے کپڑے اتارنے میں مددکروں گی مجھے احساس ہے کہ وہ رزق کے لیے کس قدر تھکتا اور محنت کرتا ہے۔
6۔ شوہر کے گھر پہنچنے پر کسی ایسے کام میں مشغول نہیں رہوں گی جو مجھے اس سے بے توجہ کردے۔
7۔ اگر وہ خاموش ہے تو اپنی جگہ چپ رہوں گی شاید وہ تھکا ہوا ہے یا پریشان ہے اور کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔
یہ اور اس طرح کےحل جو ہم نے اوپر ذکر کئے ہیں اگر بیوی انھیں اپنائے تو اس مشکل کو بہت آسان بنادیں گے۔ جب مقصد موجود ہو تو اس تک پہنچنا انشاء اللہ بہت آسان ہے۔ لیکن اس کے لیے تھوڑا سا وقت درکار ہے۔
سب کو الگ الگ کر دو اور بغیر پریشانی کے حکومت کرو
کوئی مشکل جو ہم پرآ پڑے اور ہم اسے حل کرنا ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کا تعین کیا جائے اور ان لوگوں کا جن کا اس مسئلہ سے براہ راست تعلق ہے۔ پھر اسے خارجی، داخلی اور ذاتی اعتبار سے تقسیم کیا جائے۔
مثال: بیوی گھر میں مختلف پریشانیوں سے دوچار ہے۔ ان پریشانیوں کا سبب شوہر ہے، نوکرانی اور گھر کے رشتہ دار سب شریک ہیں۔
1۔گھر کے افراد کا اور انکی پریشانیوں کے انداز کا تعین (شوہر ہمیشہ گھر سے غائب رہتا ہے، بچے رات میں دیر سے آتے ہیں۔ یالڑ کیاں ہمیشہ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون پر لگی رہتی ہیں۔ نوکرانی اپنے کاموں میں سست اور لاپرواہ ہے۔ بیوی ہمیشہ چڑچڑی اور گرم مزاج رہتی ہے۔ گھر والے ہمیشہ میرے گھریلو مسائل میں ڈال دیتے رہتے ہیں)
2۔ میں گھر میں ہر شخص کی فطرت کا انداز اور اس سے اکیلے تعلقات کا طریقہ طے کروں گی۔ کیوں کہ شوہر سے تعلقات کا اندازہ کیوں اور لڑکوں کے ساتھ تعلقات سے جدا ہوتا ہے۔
3۔ ان پریشانیوں کے عمل کے لیے زمانہ اور وقت کے مناسب ہونے کاتعین، اس لحاظ سے کہ کون سب سے زیادہ ضروری ہے پھر اس کے بعد اور اس کے بعد اس طرح سے۔ یہ قاعدہ یا در کھنا ضروری ہے کہ (سب سے پہلے وہ جو سب سے زیادہ ضروری ہے پھر وہ جو اس سے کم ہے اور پھر وہ جو اس کے بعد ہے) ۔
4۔ ہر شخص کے ساتھ اس سے ملنے اور سلوک کرنے کے وسائل کیا ہوں ۔ (شوہر کے ساتھ تنہائی میں کھلی گفتگو۔ بیٹے کے ساتھ اس کے کمرے میں انفرادی گفتگو۔ بیٹی کو چھوٹے سے ہدیہ اور تحفہ کے ساتھ ایک پیار بھرا خط یا چٹھی یاٹیپ ریکارڈر کی کیسٹ میں جو کہنا چاہتی ہے وہ بھرا جائے۔ نوکرانی کونصیحت آمیزدھمکی اور ڈانٹ ۔ شرط یہ ہے کہ ان سب معاملات کو اس طرح نبھاؤں کہ مجھے اپنے آپ پر اور اپنے اعصاب پر بھی قابو رہے اور ایسا نہ ہو کہ کوئی بات غصہ پرابھار دے اور یہ کہ میں کچھ وقت اپنے لیے مخصوص کردوں جس میں میں توازن برقرار کرلوں اور مکمل طور پر اپنے خاندانی جھگڑوں کا ذکر خاندان کے افراد کے سامنے نہ کروں اور نہ ان کو ہرمشکل میں اپنے ساتھ گھسیٹوں۔
اس تقسیم سے آپ کو واضح ہوجائے گا کی شروع کہاں سے کریں؟ خاندان کے ہر فرد کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وسائل کو کام میں لا کر آپ سب سے اہم اور بڑے مسئلہ سے اپنا علاج شروع کرسکتی ہیں یا سب کے ساتھ متوازن انداز سے بھی یہ ہوسکتاہے۔ وہ چیزیں جن پر آپ قابو پا سکتی ہیں، ان پر اپنی توجہ زیادہ لگادیئے کیوں کہ وہ آپ کے ہاتھ میں ہیں اور آپ ان کے ساتھ آسانی سے معاملہ کرسکتی ہیں آپ شوہر کو گھر سے باہر جانے سے روک نہیں سکتی ہیں لیکن آپ اس کو رات میں دیر سے نہ آ نے کی نصیحت کرسکتی ہیں کیونکہ اس کے چھوٹے بچے اس کے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہیں یاکی اس کی بیٹی ہی چاہتی ہے کہ وہ اس کو ہوم ورک کرنے میں مدددے۔ میں اپنی بیٹی کو انٹرنیٹ کے استعمال سے منع نہیں کرسکتی لیکن میں کچھ اصول مقرر کرسکتی ہوں جن پر وہ چلے ،میں بچوں کو گھر سے باہرکھیلنے سے منع نہیں کرسکتی لیکن میں ان کے لیے کچھ گھنٹے مقرر کرسکتی ہوں جس میں وہ گھر سے باہر جائیں اور وہ وقت مقرر کرسکتی ہوں جس میں انھیں گھر میں ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:  جب ننھے منے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگیں تو کیا کیا جائے؟