Imran-khan-Speech

یہ ناانصافی ہے ایک طرف انگریزی، اردو میڈیم اور تیسری طرف مدارس ہیں :وزیراعظم

EjazNews

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دینی مدارس کے زیر تعلیم طلبا میں تقریب تقسیم انعامات کی تقریب منعقد ہوئی ۔اس تقریب کے مہمانی خصوصی وزیراعظم پاکستان تھے۔اس تقریب کا اہتمام وفاقی وزارت تعلیم کے زیر انتظام کیا گیا، وزیر اعظم عمران خان نے امتحانات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبا کو انعامات دئیے۔
بچوں میں تقسیم انعامات کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے نبی ﷺنے سب سے زیادہ زور تعلیم پر دیا، نبی کریمﷺ نے کہا تعلیم کے لیے چین بھی جانا پڑے تو جائیں، قیدیوں کی رہائی کے لیے بچوں کو تعلیم دینے کی شرط رکھی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے ذہنوں میں ڈال دیا تھا کہ تعلیم کے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا، سات سو سال تک تمام سرفہرست سائنس دان مسلمان تھے۔ انگریزوں نے مدارس کو دئیے جانے والے فنڈ قابو کر لیے، انگریزوں نے سوچ سمجھ کر مسلمانوں کا نظام تعلیم ختم کیا۔انہوں نے کہا کہ نظام تعلیم ختم ہوا تو مسلمان نیچے گئے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ ناانصافی ہے ایک طرف انگریزی، اردو میڈیم اور تیسری طرف مدارس ہیں، اسلام اور تعلیم ساتھ ہوتے تو قوم کو انسانیت کی طرف لے کر جاتے ہیں، ناانصافی ہے کہ ایک ملک میں 3 نظام تعلیم چل رہے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ مدارس کے طلبا کو بھی مواقع دئیے جائیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ راہ حق کے بارے میں صرف تعلیم بتاتی ہے، پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے۔ غلبہ اسلام کے بعد 30 سال میں مسلمان وسط ایشیا تک پہنچ گئے، ہمیں بچوں کو پڑھانا چاہئے کہ مسلمان پوری دنیا پر کیسے چھا گئے۔
کشمیر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر ایک جیل ہے، 80 لاکھ لوگوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ مل کر فیصلہ کیا کہ الجزیرہ اور بی بی سی طرز کا انگریزی چینل کھولیں گے، ٹی وی چینل کھولنے کا مقصد مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ہے۔ فلم اور ڈراموں کے ذریعے مسلم دنیا کے ہیروز اور تاریخ کو اجاگر کریں گے، مغرب کو مسلمانوں کی اعلیٰ روایات اور تہذیب سے آگاہ کریں گے، ہمارے موجودہ تعلیمی نظام میں بچوں کی اکثریت اوپر نہیں آسکتی، ہمارے تعلیمی نظام کو بڑی محنت سے تباہ کیا گیا۔
اس تقریب میں وزیراعظم عمران خان سے پہلے وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تین طرح کے نظام تعلیم ہے ۔ جبکہ 35ہزارکے قریب مدارس پاکستان میں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس نا انصافی کو ختم کرنا ہوگا ۔ وزیراعظم اور پارٹی کا ویژن بھی یہی ہے کہ ہم پورے ملک میں ایک جیسا نظام تعلیم قائم کریں ۔ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں ایک جیسے نصاب کی تیارپر کام بھی ہو رہا ہے۔ جس کا اطلاق تمام پر ہوگا اور یہ انصافی ختم کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  (ن) لیگ پنجاب کے ریجنل حصے کی پارٹی ہے گلگت بلتستان الیکشن سے انہیں کیا لینا دینا: معاون خصوصی برائے داخلہ و احتساب