software elag

سافٹ وئیر سے علاج

EjazNews

کچھ عرصہ قبل انسانی صحت کے حوالے سے ایک عالمی سکیورٹی کونسل منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے اہم شرکاءمیں مائیکروسافٹ ٹائیکون بل گیٹس بھی شامل تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا ”اگر ماضی قریب میں کسی وبائی مرض نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم بالکل محفوظ ہیں اور مستقبل میں بھی کسی وبائی مرض کا شکار نہیں ہوسکتے۔ اس لیے ہمیں آج سے ہی نئی ویکسین ، نئی ادویات اور تشخیص کے نئے آلات پر تحقیق کا آغاز کرنا چاہیے۔ “
بل گیٹ کی تجویز پر سائنسدان بہت پہلے سے عمل پیرا ہیں۔ وہ کمپیوٹر کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے غور کر رہے ہیں۔ اینٹی باڈیز انسانی جسم کا ہراول دستہ ہیں یہ فرنٹ لائن سٹیٹ ہیں جب کوئی بھی وائرس ، بیکٹریاانسانی جسم میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کا میچ اینٹی باڈیز سے بھرتا ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق اینٹی باڈیز کے د و ہاتھ ہوتے ہیں جو حملہ آور کو دبوچ لیتے ہیں۔ لیکن انفورانزا ایسی پروٹین خارج کرتاہے جس سے یہ اینٹی باڈیز اس کی شناخت کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں انہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ حملہ آور ہے یا کوئی اور۔ مائیکرو سکوپ میں انفراانز ایک باریک جینز میں دکھائی دیتا ہے جس پر SPIKESبنے ہوتے ہیں۔یہ اپنے سپائکس کی مدد سے مدافعتی نظام کو توڑتاہو ا انسانی خلیوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ اگر اینٹی باڈیز میں زیادہ طاقت آجائے اور ان کو پتہ چل جائے کہ یہ حملہ آور ہے تو وہ اس کو دبوچ سکتے ہیں ۔ انسٹو اینز اپنے سپائس کو بدلتا رہتا ہے جس سے مدافعتی نظام ٹھیک کام نہیں کرتا اور حملہ آور کامیاب ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین نے محفوظ فلو جسم میں داخل کر کے دیکھ لیا لیکن علاج میں کامیابی نہ ملی۔ اب سائنسدانوں نے کمپیوٹرائزڈ پروٹین سافٹ وئیرتیار کیا ہے۔یہ کمپیوٹر کی مدد سے جسم میں اینٹی وائرل پروٹین پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ پروٹین حملہ آور کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے ذریعے ادویات کو بھی موثر بنایا جاسکتا ہے۔یہ پروٹین انسانی مدافعتی نظام سے الگ رہ کر اپنا کام کرے گی ۔ کمپیوٹر کی مدد سے تیار کردہ اینٹی وائرل پروٹین بھی مدافعتی نظام کی پروٹین مدافعتی نظام میں کام کر ے گی۔ 2016ءمیں سینکڑوں چوہوں پر اس قسم کی تحقیق بہت کامیاب رہی۔انسٹی ٹیوٹ آف پروٹین ڈیزائن نامی ادارے نے واشنگٹن یونیورسٹی میں اسی قسم کی تحقیق کی انہوں نے کمپیوٹر کی مدد سے 3ہاتھوں والی پروٹین تیار کرلی۔ یہ انفوانزا ، بولا وائرس اور ایچ آئی وی ایڈز کا مقابلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ہزاروں سال پرانے غار کے آثار