women caption flowers

ظہار کسے کہتے ہیں؟

EjazNews

س:ظہار کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟
ظہارظہر سے مشترق ہے۔ ظہر کے معنی پیٹھ کے ہیں اور شرعی محاورہ میں یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی ماں کے پیٹھ و پیٹ وغیرہ سے تشبیہ دے۔ یعنی یوں کہے تو میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے یاتو میرے نزدیک ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا پیٹ ہے اور اس سے اس کی مراد حرمت ہے یعنی جس طرح میری ماں مجھ پر حرام ہے تو بھی مجھ پر حرام ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں اس طرح کہنے سے طلا ق پڑ جاتی تھی اوربیوی حرام ہو جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے اس میں کفارہ مقرر فرمایا ہے اور اسے طلاق نہیں کہا جیسا کہ جاہلیت کے زمانے میں دستور تھا۔ اگر کوئی ایسا کہہ دے تو جماع سے پہلے اپنے اس قصور کا کفارہ ادا کرے۔ اور کفارہ میں اگر ہمت اورطاقت ہے تو ایک مسلمان غلام آزاد کرے اگر اس کی طاقت نہیں ہے تو لگا تار دو مہینے کا روزہ رکھے اور اگر اس کی بھی ہمت نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
ابتدائے اسلام میں ظہار کا واقعہ پیش آگیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا تو آپ نے پہلے زمانے کے دستور کے مطابق حکم صادر فرمایا ۔ پھر فوراً مندرجہ ذیل چند آیتیں نازل ہوئیں۔ آپ نے ان آیتوں کے موافق فتویٰ دیا پہلے ان آیتوں کوپڑھ لو پھر اس کے شان نزول کو پڑھو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”یقینا اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو آپ کے اپنے خاوند کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی اور اللہ کے سامنے شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی بات چیت کو سن رہا تھا۔ یقینا اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ تم میں سے جو اپنی بیوی سے ظہار کرتے ہیں یعنی انہیں ماں کہہ دیتے ہیں تو دراصل یہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی اصلی مائیں تو وہی ہیں جن کے پیٹ سے یہ پیدا ہوئے ہیں یقینا یہ لوگ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں۔ پھر اپنی کہی ہوئی بات کو لوٹائیں تو اس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ان کے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا ہے تمہیں اسی کی نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے اور جوشخص غلام آزاد کرنے کو نہ پائے اس کے ذمہ لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائے اور جس کو اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھاناکھلانا ضروری ہے یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کافروں کے لئے دکھ کی مار ہے۔“ (المجادلة)
ان آیتوں کا صحیح شان نزول یہ ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ خدا کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت ؓ کے بارے میں یہ آیتیں اتریں ہیں میں ان کے گھر میں تھی یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کا خلاف کیا اور انھیں کچھ جواب دیا ۔ جس پر وہ بڑے غضبناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔ پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے، پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی میں نے کہا اس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ خدا اور اس کے رسول کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو جائے۔ لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آگئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ میں اپنی پڑوسن کےیہاں گئی اور ا س سے اوڑھنے کا کپڑا مانگ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی اس واقعہ کو بھی بیان کیا اوراپنی دوسری تکالیف اور مصیبتیں بھی بیان کرنی شروع کردیں۔ آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ اپنے خاوند کے بارے میں خدا سے ڈر، وہ بوڑھے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہو گئی جب وحی اتر چکی تو آپ نے فرمایا اے خولہ تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں پھر آپ نے ”قد سمع اللہ سے عذاب الیم“ تک پڑھ کر سنایا اور فرمایا جاﺅ اپنے میاں سے کہو کہ وہ ایک غلام آزاد کردیں۔ میں نے کہا حضور ان کےپاس غلام کہاں ؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں۔ آپ نے فرمایا اچھا دومہینے لگا تار روزے رکھ لیں میں نے کہا حضور وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے اور ناتوان اور کمزور ہیں، انھیں دوماہ کے روزے کی بھی طاقت نہیں آپ نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق تقریباً چار من پختہ کھجوریں دے۔ میں نے کہا حضور اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے دے دوں گا۔ میں نے کہا آدھا وسق میں دے دوں گی۔ آپ نے فرمایا یہ تم نے بہت اچھا کیا۔ جاﺅ یہ ادا کر دو۔ اور اپنے خاوند کے ساتھ زندگی گزارو۔ (ابو داﺅ)
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایلاءاور ظہار زمانہ جاہلیت کی طلاقیں تھیں اللہ تعالیٰ نے ایلاءمیں چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا ۔ (ابن کثیر)
حضرت سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ اپنا واقعہ خود بیان فرماتے ہیں کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی۔ رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن میں روزے کی حالت میں نہ بچ سکوں میں نے رمضان بھر کے لئے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا۔ ایک رات جب کہ وہ میری خدمت میں مصروف تھیں۔ بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا۔ پھر تاب کہاں تھی اس سے بات چیت کر بیٹھا۔ صبح اپنی قوم کے پاس آکر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہوگیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو او آپ سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے۔ سب نے انکارکر دیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہ جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کےبارے میں کوئی آیت نازل ہو یا حضور کوئی ایسی بات فرمائیں کہ ہمیشہ اس پر اس کا عار باقی رہے تو جانے اور تیرا کام تو نے ایسا کیوں کیا۔ ہم تیرے ساتھی نہیں ۔ میں نے کہا کہ اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چنانچہ گیا اور سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ایسا کیا میں نے عرض کیا کہ ہاں حضور مجھ سے یہ خطا ہو گئی ہے ۔ اسی طرح آپ نے تیسری دفعہ دریافت کیا تو میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ حضور میں موجود ہوں جو سزا میرے لئے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا ۔ آپ نے فرمایا کہ جاﺅ ایک غلام آزاد کردو۔ میں نے پانی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا حضور میں تو صرف اس کا مالک ہوں۔ خدا کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا پھر دو مہینے پے در پے روزے رکھو میں نے کہا یارسول روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا۔ آپ نے فرمایا پھر جاﺅ صدقہ کرو۔ میں نے کہا اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں۔ بلکہ آج کی شب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے۔ فرمایا اچھا بنو زریق کے قبیلہ کے صدقہ دینے والوں کےپاس جاﺅ اور ان سے کہو کہ وہ صدقہ کا مال تم کو دیدیں۔ تم اس میں سے ایک وسق تو ساٹھ مسکینوں کو دے دو۔ اور باقی اپنے اور اہل کے کام میں لاﺅ۔ میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں نے کشادگی پائی اور برکت پائی، حضور کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دیدو۔ چنانچہ انہوں نے اپنے صدقے مجھے دے دئیے۔ (ابوداﺅد)۔
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت اوس بن صامت اور ان کی بیوی صاحبہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کے واقعہ کے بعد کا ہے۔
چنانچہ حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ حضرت اوس بن صامت کا ہے جو حضرت عبادہ ابن صادمت کے بھائی تھے۔ ان کی بیوی کا نام خولہ بنت ثعلبہ بنت مالک تھا۔ اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہو گئی۔ انہوں نے آکر حضور سے عرض کیا کہ میرے میاں عبادہ ابن صامت کے بھائی تھے ان کی بیوی کا نام خولہ بنت ثعلبہ بنت مالک تھا۔ اس واقعہ سے حضرت خولہ کو ڈر تھاکہ شاید طلاق ہو گئی۔ انہوں نے آکر حضور سے عرض کیا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا۔ اور اگر ہم علیحدہ ہو گئے تو دونوں برباد ہو جائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ میرے اولاد ہوں۔ اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا ہے اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی تھیں۔ اب تک ظہار کا حکم کوئی اسلام میں نہ تھا۔ اس پر یہ آیتیں شروع سورہ ”قد سمع اللہ سے عذاب الیم “ تک اتریں۔ حضور نے حضرت اوس بن صامت کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو۔ انہوں نے قسم کھا کر انکار کیا ۔ حضور نے ان کے لئے رقم جمع کی۔ انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کر لیا۔ (ابن جریر، ابن کثیر)
س: اگر کفارہ ادا کرنے سےپہلے جماع کرے تو دو کفارہ اداکرنا پڑے گا یا ایک ؟
ایک ہی کفارہ کافی ہے۔ لیکن بغیر کفارہ ادا کئے جماع نہ کرے۔ نیل الاوطار اور ترمذی وغیرہ میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا تھا پھر بغیر کفارہ ادا کئے جماع کر لیا۔
آپ نے فرمایا اللہ تیرے حال پر رحم کرے۔ تم نے ایسا کیوں کیا۔ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندنی رات میں اس کے خلخاں کی چمک نے مجھے بیتاب کر دیا۔ آپ نے فرمایا اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ نہ ادا کردو۔
حضرت سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا ، جو مظاہر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کرے تو وہ کتنے کفارہ ادا کرے ۔ آپ نے فرمایا ایک کفارہ کافی ہے۔ (ابن ماجہ ، ترمذی)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں نکاح کی اہمیت