mashra

ذمہ دار معاشرے کے قیام کی جدوجہد

EjazNews

ایک روایتی مفروضہ یہ ہے کہ اگر معاشرے میں شہریوں کو اپنے حکومتی نمائندے منتخب کرنے کا اختیار ہو تو وہ ایک جمہوری معاشرہ ہوتا ہے۔ جہاں سماجی انصاف کے نظریات کی بنیاد مساوات اور بنیادی حقوق پر ہوتی ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کے آغاز میں عالمی حقائق ایسے مفروضات کی نفی کرتے نظر آتے ہیں ۔ حالات سے پتا چلتا ہے کہ ایک جمہوری معاشرے کی ترقی کیلئے سیاسی نظام میں حکومتی عہدے داروں کے عوامی احتساب کا نظام لازم شامل ہونا چاہئے ۔ اس کے علاوہ سیاسی شرکت کے نظریات بہت حد تک بدل چکے ہیں ۔ اب عام لوگوں کا سیاسی کردار صرف ووٹ دینے یا کبھی کبھار کسی احتجاجی جلسے جلوس میں شرکت سے کافی حد تک بڑھ چکا ہے۔ ایک منصفانہ اور مساوات پرمبنی معاشرے کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ لوگ مسائل کے حوالے سے اپنی آواز اٹھائیں اور تبدیلی کا مطالبہ کریں۔ اب لازم ہے کہ سیاسی راہنماؤں اور نمائندگان کو ہر طرح کی بے انصافی سے آگاہ کیا جائے اور ایک بہتر معاشرے کی تعمیر کیلئے بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا جائے ۔ اس نوعیت کی شرکت کے بغیر ایک منصفانہ، مساوی اور دیانتدارانہ معاشرے کی تعمیر ناممکن ہے۔ لیکن سیاسی شرکت سے مراد کوئی سیاسی جماعت بنانا یا اس میں شامل ہونا ہی نہیں ہے۔ انفرادی اور اجتماعی شرکت کی اور بھی کئی صورتیں ہیں ۔منتخب نمائندوں کو خط لکھنا حکومتی پالیسی کے بارے میں اپنی رائے دینا اور دوسرے لوگوں کی بھی اسی نوعیت کے کاموں کیلئے حوصلہ افزائی کرنا، اہم سیاسی سرگرمیاں ہیں ۔ ارکان پارلیمنٹ کسی بل کو غیر جمہوری یا غلط قرار دینے والے ہزاروں خطوط کو نظرانداز نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں آئندہ الیکشن کے بارے میں بھی سوچنا ہوتا ہے۔ جن ملکوں میں دباؤ ڈالنے کیلئے کوئی خاص طریقہ نہیں ہوتا وہاں قومی اخبارات میں لکھنا یاٹی وی، ریڈیو یاکسی اور طریقے سے اپنی بے چینی کا اظہار کافی موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ انسانی حقوق کے ملکی و بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرنا بھی عوامی شرکت کا مفید طریقہ ہے کیونکہ ا کثر کو حکومتیں اپنی بین الاقوامی ساکھ کے بارے میں کافی محتاط ہوتی ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں لابنگ کے مختلف طریقے ہیں۔ جن کے ذریعے لوگ انفرادی اور گروہی طور پر کسی خاص سیاسی ، قانونی یا ساری اہمیت کے معاملے میں رائے عامہ حکومت، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی برادری پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایک مثال دیکھیے 1990 ء میں سری لنکا کی حکومت نے شادی ، تنسیخ شادی اور بچوں کی تحویل بارے قوانین کی اصلاح کا فیصلہ کیا اور اقلیتی مذاہب کو اجازت دی گئی کہ وہ اپنے اوپر اپنے عقیدے کے مطابق عائلی قوانین کا اطلاق کر سکتے ہیں ۔ سری لنکا میں 6.7فیصد مسلمان ہیں جن کیلئے نیا عائلی ضابطہ تشکیل دیا جانا تھا۔ حکومت نے اسلامی کمیونٹی کے رہنماؤں اور سری لنکا اور مشرق وسطی کے چند انتہائی قدامت پرست سنی رہنماؤں کو نئے عائلی ضابطہ کی تشکیل میں مدد دینے کیلئے کہا۔ سری لنکا کی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین کے متحرک حلقے اس صورت حال سے آگاہ تھے اور انہیں خواتین کیلئے عائلی ضابطہ کی اہمیت کا پورا اندازہ تھا، وہ متحرک ہوئے اور مسلم ویمن ریسرچ اینڈ ایکشن فورم (MWRAF) کے ساتھ مل کر کونسل میں عورتوں کی نمائندگی کیلئے کوشش کی اس پر اس فورم کی خاتون وکلاء کو کمیٹی میں شرکت کی دعوت دی گئی ۔ لیگل ریفارم کمیٹی کے دیگر ارکان میں 14 مردشامل تھے۔ مسلم ویمن ریسرچ اینڈ ایکشن فورم پہلے ہی مسلم عائلی قوانین کے بارے میں اپنی تحقیق کر چکا تھا اور وہ سری لنکا کی خواتین اور مقامی آبادی کے اہم مسائل سے بھی واقف تھے۔ یہ عورتیں دیگر مسلم معاشروں میں بھی عائلی قوانین اور اس کے نفاذ کی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ تھیں ۔ انہوں نے خواتین زیر اثر مسلم قوانین سے رابطہ قائم کیا اور انہیں مختلف مسلمان ملکوں مثلاً تیونس، مصر، ترکی، ایران اور ملائیشیا کے عائلی ضابطوں کی دستاویزات بھیجنے کی درخواست کی۔ ان تمام کے مطالعے اور اپنے ملک کے ثقافتی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی تجاویز پر مبنی ایک دستاویز تیار کی اور لوگوں سے لابنگ کو بھی جاری رکھا۔ ایک کے سوا ان کی تمام تجاویز منظور کر لی گئیں ۔ عورتوں کی اس مداخلت کا کافی فائدہ ہوا کیونکہ انہوں نے اپنی اس مہم کوٹھوس تحقیق اورتحریری مدد فراہم کی تھی ۔ حکومت کی جانب سے آئندہ بھی کئی موقعوں پر عورتوں کے گروپوں اورتنظیموں کو دعوت دی گئی ۔ اس دوران مسلم ویمن ریسرچ اینڈ ایکشن فورم اور عورتوں کی دیگر تنظیموں نے عورت کی سماجی و قانونی حیثیت کے بارے میں اصلاحات کیلئے اپنی کوشش مسلسل جاری رکھی ۔ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ تھیں کہ اگر انہوں نے نئے عائلی ضابطے کی تشکیل کے آغاز ہی سے کوشش نہ کی ہوتی تو قانون بن جانے کے بعد اس میں اصلاح اور تبدیلی بہت ہی مشکل ہوتی ۔
تاہم سیاسی شرکت کو باقاعدہ فیصلہ سازی کے عمل اور بڑے حکومتی افسران سے مخاطب ہونا ہی ضروری نہیں ہوتا۔ ایسے بہت سے غیر رسمی طریقہ کار بھی ہیں جن کے ذریعے ساری تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ 1995ء میں ایک محقق تہران شہر کے نواح میں کم آمدنی والے طبقے کی عورتوں کے خاندانی منصوبہ بندی کے تصورات کے بارے میں تفصیلی انٹرویو کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کو اس علاقے میں ایک واقعہ کا علم ہوا جس میں وہاں کی عورتوں نے گھریلو تشدد سے آزادی پر علاقے کے مولوی کی مدد حاصل کی تھی، حالانکہ عام طور پر مولوی عورتوں کے معاملات سے لاتعلق ہوتا ہے۔ اس مولوی نے عورت کے حقوق کی حمایت کی اور ایک عام عورت نے ملا جیسی اہم مذہبی شخصیت کو اس مسئلے میں ملوث کر کے موجودہ مذہبی ڈھانچے کو اپنے علاقے میں ایک مثبت تبدیلی کیلئے استعمال کیا۔
یہ مسئلہ اسی علاقے میں رہنے والے ایک مرد سے متعلق تھا۔ جو روزانہ اپنی بیوی کو مارتا تھا وہ کم آمدنی والے کئی خاندانوں کے ساتھ مل کر کرائے کے مکان کے ایک کمرے میں رہتے تھے۔ تمام ہمسائے اس صورت حال سے باخبر تھے اور اکثر اس عورت کو شوہر کی مار پیٹ سے بچانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ لیکن نہ تو ہمسائے اور نہ ہی عورت کے عزیز واقارب اس آدمی کے رویے میں تبدیلی لا سکے۔ بالآخر اس عورت کے عزیزوں نے اس کو طلاق کا مشورہ دیا۔ عورت کے تین چھوٹے بچے تھے اور طلاق کی صورت میں اس کے بچے اپنے باپ کی تحویل میں چلے جاتے کیونکہ ایران کے عائلی قانون کے تحت باپ بچوں کی سر پرستی کا حقدار ہوتا ہے اس قانون کی وجہ سے عورت طلاق نہیں لینا چاہتی تھی اور اس کا شوہربھی اس حقیقت سے باخبر تھا۔ ہمسائے کی ایک بوڑھی عورت نے اس کے شوہر سے ملاقات کی اور اس کے رویے کو ظالمانہ کہا جوان کے بچوں کیلئے بھی سخت نقصان دہ تھا اور خدا کی نظروں میں بھی ناقابل معافی تھا۔ اگرچہ اس آدمی نے بوڑھی عورت کی بات سنی لیکن اس کے رویے پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
اس صورت حال سے سخت مایوس اور دلبرداشتہ بوڑھی عورت علاقے کے مولوی کے پاس چلی گئی۔ اس نے مولوی سے کہا کہ اگر چہ رسم و رواج کے مطابق مرد ہی خاندان کے سربراہ ہوتے ہیں لیکن ایک آدمی کا اپنی بیوی کو مارنا پیٹنا بالکل غیر اسلامی ہے۔ اس نے مولوی سے کہا کہ علاقے کے مرداس جیسے بوڑھے لوگوں کی نصیحت پر بالکل عمل نہیں کرتے کیونکہ علاقے کے مذہبی رہنما مردوں کو خاندان اور برادری سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ نہیں کرتے۔ اس نے مولوی کو یاد دہانی کرائی کے اس کے اسلامی عہدے کے مطابق یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطبہ میں اس موضوع پر بات کرے۔ اس نے مولوی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اس ظالم شوہر کے گھر جائے اور اس سے بات کرے۔ مولوی جانتا تھا کہ علاقے کے تمام لوگ اس ملاقات سے باخبر ہیں چنانچہ اس کے پاس اس آدمی سے ملنے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا۔
یہ ملا قات کامیاب رہی اور شوہر نے اپنار و یہ مکمل طور پر تبدیل کر لیا۔ اس تبدیلی کے پس پردہ اثر انداز ہونے والے کئی حقائق تھے۔ روایتی طور پر مولویوں کو بہت عالم فاضل اور نیک سمجھا جاتا ہے اور ان کا
بے حد احترام کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کم آمدنی والے ایسے علاقوں میں رہنے والے مرد عام طور پر مزدور پیشہ ہوتے ہیں اور انہیں اکثر اوقات اپنے کام کیلئے مسجد سے چھوٹے موٹے قرضوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور کاموں کیلئے انہیں مسجد کی جانب سے اچھے کردار کی سند اور حوالے کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ نوکری کی تلاش ، راشن کارڈ پر دستخط اور کئی اور کاموں کیلئے بھی انہیں مولوی کی مدد درکار ہوتی ہے۔ اس لئے ایسے علاقوں کے مردوں کیلئے مقامی مولوی کے ساتھ اچھے تعلقات بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سے ان کی شناخت بھی بطور اچھے مسلمان کے طور پر ہوتی ہے۔ مولوی نے مسلسل کئی خطبوں میں گھریلو تشدد کے موضوع پر بات کی اور مردوں کونصیحت کی کہ انصاف اور اچھا برتاؤ اسلام کے لازمی اصول ہیں۔ اس نے انہیں خبر دار کیا کہ اگر وہ اپنے خاندان کے معاملے میں ان اصولوں پرعمل کرنے میں ناکام رہے تو وہ خدا اور اس کے رسولؐ کے گناہ گار ہونگے۔ مولوی کے یہ الفاظ رائیگاں نہیں گئے ۔ علاقے کی عورتوں نے خاص طور پر ان باتوں کو پوری توجہ سے سنا اور اکثر اپنے شوہروں کو مولوی کے یہ الفاظ یاد دلاتی رہیں۔ بیوی کو مارنے پیٹنے والے شوہر کے رویے میں تبدیلی کو بھی عورتوں نے بڑی توجہ دی ہے وہ بھی مولوی کے پاس رہنمائی کیلئے جانے لگیں اور اپنی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اس کی مدد طلب کی۔ علاقے کے لوگوں نے خیرات کی تقسیم کی ذمہ داری کا کام بھی مولوی کو سونپ دیا جس سے علاقے میں اس کی حیثیت اور بہتر ہوگئی ۔ در حقیقت اس نے علاقے میں خاندانی ثالث کی حیثیت اختیار کر لی۔ عورتوں کیلئے بھی اپنے مسائل کے حل کیلئے مولوی سے رابطے زیادہ آسان تھا کیونکہ اس سے انہیں عدالتوں کے غیر مانوس اور پیچیدہ طریقہ کار اور اجنبی لوگوں سے ملنا نہیں پڑتا تھا۔ یہ واقعہ مولوی کیلئے بھی ایک نئے تجربے کا باعث بنا۔ اسے ایک نئے حلقے یعنی عورتوں اور ان کے مسائل سے آگاہی ہوئی۔ جس کو وہ اس سے پہلے نظر انداز کرتا رہا تھا۔ جوں جوں وہ عورتوں اور ان کے مسائل سے آگاہ ہوتا گیا تو عورتوں کے اسلامی حقوق کے بارے میں اس کی تشریحات زیادہ لبرل اور بہتر ہوتی گئیں۔ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بے انصافی اور ظلم کو نظرانداز نہ کر کے کس طرح ایک عام عورت نے پورے علاقے کی سماجی فضا کو بہتر بنادیا۔
اسی نوعیت کے ایک اور واقعہ میں مانچسٹر کے ایک پاکستانی نے اپنی 17 سالہ بیٹی کی شادی ایک ایسے آدمی سے کرنے کا فیصلہ کیا جسے اس کی بیٹی نے بھی نہیں دیکھا تھا۔ لڑکی انگلینڈ میں پیدا ہوئی اور وہیں اس کی پرورش ہوئی تھی لیکن اس کے باپ کا اصرار تھا کہ بطور سربراہ خاندان وہی اپنی بیٹی کی شادی کا فیصلہ کر یگا کہ وہ کب اور کس کے ساتھ شادی کرے۔ اس کا خیال تھا کہ رسم ورواج اور مذہب دونوں طرح سے ہی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کی بیٹی نے اس مسئلے کیلئے اپنے خاندان اور اساتذہ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ چنانچہ اس نے مدد کیلئے عورتوں کی کچھ تنظیموں سے رابطہ قائم کیا۔ انہوں نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ اسی صورت میں اس کی مدد کرسکتی ہیں اگر وہ اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور پناہ لے لے لیکن لڑکی اپنا گھر چھوڑنا نہیں چاہتی تھی۔ کیونکہ اس سے اس کے خاندان کو بہت صدمہ پہنچتا۔ یہ لوگ روایتی پاکستانی کمیونٹی کا حصہ تھے، بالآ خرلڑ کی اور چند اور پاکستانی عورتوں نے علاقے کی مسجد کے مولوی سے رابطہ کیا ۔ انہوں نے اسے تمام صورت حال بتائی اور مدد کی درخواست کی ۔ اس مولوی کی اپنی بھی دو نوجوان بیٹیاں تھیں اور وہ بھی ایک روایتی سوچ کا مرد تھا۔ اس نے لڑکی کو صبر کی تلقین کی اور اس کے باپ سے بات کرنے پر تیار ہو گیا۔ مسجد کے مولوی نے لڑکی کے باپ سے ملاقات میں قرآن شریف کا سہارا لیا اور لڑکی کے باپ کو کہا کہ عام رواج کے باوجودلڑ کی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کرنا ایک گناہ ہے اور الله کی نظر میں ایسی لڑکی گناہ گار زندگی گزارتی ہے۔ اسلائی نقطہ نظر سے زبردستی کی شادی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ تاہم اس نے آخری فیصلہ لڑکی کے باپ پر چھوڑ دیا۔ مولوی کی رائے اور تمام پاکستانی کمیونٹی کے اس مسئلے سے آگاہ ہونے کی وجہ سے لڑکی کے باپ نے شادی منسوخ کر دی ۔ اس واقعہ نے انگلینڈ اور کئی دیگر جگہوں پرنوجوان لڑکیوں کو اپنا گھر چھوڑے بغیر زبردستی کی شادی کے خلاف لڑنے کیلئے ایک اچھی مثال فراہم کر دی۔
عام طور پر غیر منصفانہ رسم ورواج کومذہب کا نام استعمال کر کے درست قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ایسے میں اسلام کی متبادل تشریح کے ذریعے صورت حال کا مقابلا کیا جاسکتا ہے۔ اگر چہ عورتیں ہر موقع پر مذہبی رہنماؤں کی مدد حاصل نہیں کرسکتیں لیکن ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ غیر روایتی طریقے سے مقامی اداروں اور مذہب کے غیر روایتی استعمال کے ذریعے غلط رسموں کوتوڑاجاسکتا ہے۔
غیر روایتی طریقے صرف ذاتی معاملات میں بھی مفید ثابت نہیں ہوتے بلکہ کئی بار قومی مسائل کے حل میں بھی مددگار ہو سکتے ہیں ۔ فروری 1998ء میں تہران کےمئیر غلام موسن کار باشی کو گرفتار کرلیا گیا کیونکہ اس نے شہر کی انتظامیہ کو بڑے موثر انداز میں چلا کر اور لبرل نظریات کے باعث عوام اور خصوصاً خواتین میں بڑی مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ قدامت پسند مذہبی رہنما اسکی بڑھتی ہوئی شہرت سے خائف تھے۔ کار باشی نے مئی 1997ء میں ایران کے آزاد خیال صدر محمد خاتمی کے الیکشن کی فتح میں بھی خاصا اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
ایران میں عدالتوں، پولیس اور فوج کو حکومت کی بجائے قدامت پسند مذہبی رہنما کنٹرول کرتے ہیں اس لئے مئیر کے معاملے میں لوگ کافی مایوس تھے اور اس کی زندگی خطرے کا شکارتھی ۔ اس مسئلے کے حل کیلئے لوگوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے بین الاقوامی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ایرانی خواتین نے میئر کی حمایت کیلئے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ مئیر کی گرفتاری کے دوران کچھ عورتیں روزانہ اس کے گھر پر انکی حمایت کے اظہار کیلئے پھولوں کی بارش کرتیں۔ پھولوں کے یہ انبار دیکھنے کیلئے مئیر کے گھر پر تماشائیوں کی تعداد روز بروز بڑھنے گی۔
عوام کے غم و غصے اور بغاوت کے اندیشے کے پیش نظر انتہاء پسند مذہبی رہنماؤں نے مئیر کو ضمانت پر رہا کر دیا حالانکہ اس سے قبل وہ ضمانت سے انکار کر چکے تھے۔ مئیر کو اپنے مقدمے کی تیاری کی اجازت بھی دے دی گئی۔ ایران کے موجودہ سیاسی حالات میں یہ واقعہ عوام کی فتح کی واضح علامت تھا کیونکہ پولیس، عدالتوں اور ذرائع ابلاغ قدامت پسند مذہبی طاقتوں کے قابو میں ہیں۔ ان کی طاقت حکومت سے بھی زیادہ ہے اور پچھلے دو عشروں میں انہوں نے بھی اپنے کسی فیصلے کی عوام کے سامنے وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی اور یہ عوام کی ایک واضح فتح تھی۔ اس واقعہ سے ایرانی عوام کو اپنی اجتماعی قوت کا احساس ہوا۔ کیونکہ میئر کے گھر پھول لے جانے میں بے ضرر حرکت نے ملک کے سیاسی پس منظر پر بڑا واضح اثر ڈالا۔ جس سے عدالتی فیصلے پر بھی اثر پڑا۔
اگرچہ حکومت کی مخالفت عام لوگوں کیلئے ایک مشکل فیصلہ ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ہی ایسا کر سکتے ہیں لیکن کئی بار پہلے سے موجو طریقہ کار کو استعمال کر کے بھی حکومت کی کسی پالیسی کی مخالفت کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں عورتوں کے پہلے بینک کو نجی شعبے میں دیئے جانے سے روکنا اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے۔ جس میں عورتوں کی تنظیموں اور عورتوں کے حقوق کے کارکنوں نے یہ کام کر دکھایا ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات میں محتاط منصوبہ بندی اور مضبوط عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بینک کی بنیاد 1989ء میں بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دورحکومت میں رکھی تھی۔ پاکستانی عورتیں کچھ عرصے سے ایک ایسے بینک کا مطالبہ کر رہی تھیں جہاں کم آمدنی اور تعلیم رکھنے والی خواتین بھی منصفانہ شرائط پر مالیاتی سہولتیں حاصل کر سکیں ۔ کیونکہ وہ عام بینکوں کے اہلکاروں سے قرضہ لینے اور دیگر معاملات میں مشکل محسوس کرتی تھیں ۔ عورتوں کے اس بینک میں ایک عام تجارتی بینک اور تر قیاتی ادارے کے کام کو اکٹھا کر دیا گیا ہے تاکہ عورتوں کی مالیاتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ یہ بینک دنیامیں اپنی نوعیت کا واحد بینک تھا جسے پیشہ ور خواتین چلاتی تھیں۔ کچھ ماتحت عملہ مردوں پر بھی مشتمل تھا۔ یہ بینک عورتوں اور ایسے اداروں اور تجارتی کمپنیوں کو جن کی 50 فیصد ملکیت عورتوں کے پاس ہو یا ایسی کمپنیوں کو جن کا تمام عملہ خواتین پرمشتمل ہو قرضے فراہم کرتا ہے۔ بینک چھوٹے قرضوں کا ایک پروگرام بھی چلاتا ہے جس میں عورتوں کو بغیر ضمانت کے چھوٹے قرضے دیئے جاتے ہیں۔ 1997ء تک اس بینک کی ملک بھر میں 33 شاخیں تھیں۔
1997ء میں حکومت پاکستان نے عورتوں کے پہلے بینک سمیت تمام عوامی بینکوں کو نجی ملکیت میں دینے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کے اس فیصلے سے خواتین کی سرگرم کارکنوں کو احساس ہوا کہ اس فیصلے سے بینک کی قرضہ اور کارکنوں کی بھرتی کے بارے میں پالیسیاں ختم ہوجائیں گی اور یہ دیگر مالیاتی اداروں کی شکل اختیار کرے گا۔ چنانچہ فعال کارکن خواتین نے بینک کی نجی ملکیت روکنے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کر دی۔ بینک کی فروخت کی تاریخ قریب آئی تو عورتوں کی تنظیموں نے عدالت سے بینک کی نجکاری کے خلاف حکم امتنائی حاصل کر لیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ بینک عام تجارتی بینک نہیں ہے بلکہ اسے عورتوں کو قرض اور مالیاتی امداد فراہم کرنے کے اعلان کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ اگر چہ حکومت نے عدالت میں یہی موقف اختیار کیا کہ یہ بھی دیگربینکوں کی طرح ایک عام تجارتی بینک ہے۔
لیکن جج نے عورتوں کے موقف کوتسلیم کرتے ہوئے انہیں دلائل اور مقدمہ تیار کرنے کیلے چند دن کی مہلت دے کر سب کو حیران کر دیا۔
کیس کی تیاری کیلئے جمعہ سے پیر تک وقت تھا اس دوران عورتوں اور ان کی تنظیموں نے کئی لوگوں سے رابطے کئے اور ضروری دستاویزات اکٹھی کیں۔ میڈیا سے بھی رابطہ کیا گیا تا کہ کیس کی تشہیر ہو سکے۔ بینک کی نجکاری نہ کرنے کے حق میں دلائل تیار کئے گئے خاص طور پر بے نظیر حکومت کی کابینہ کے اس اجلاس کی کاروائی کی تفصیل حاصل کی گئی جس میں وویمن بینک کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس کی قرضوں اور ملازمین کی بھرتی کی پالیسیاں بنائی گئیں۔ اس کے علاوہ اس وقت کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے اس خط کی نقل بھی حاصل کی گئی جو بینک کی پہلی صدر کے نام لکھا گیا تھا اور اس میں ان پالیسیوں کا اعلان درج تھا۔
یہ تمام دستاویزات عدالت میں جمع کرائی گئیں اوربینک کونجی ملکیت میں دیئے جانے سے صرف چند گھنٹے پہلے عدالت نے فیصلہ دیا کہ اگر چہ حکومت بینک کو نجی ملکیت میں دینے کا حق رکھتی ہے لیکن نئے مالک بینک کی پالیسیاں تبدیل نہیں کر سکتے ۔ عدالت نے کہا کہ بینک کو شروع کرنے کا اصل مقصد (مینڈیٹ ) اب بھی لاگو ہوتا ہے۔ عدالت نے یہ حکم بینک کی نیلامی کے موقع پر پڑھ کر سنائے جانے کا حکم دیا۔ جسے قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست دکھایا گیا۔ ظاہر ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کوئی بھی نجی سرمایہ کار بینک حاصل کرنے کا خواہش مند نہیں رہا اوربینک بدستور ایک قومی ادارے کے طور پر برقرار رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  مفتی محمود،سیاست کو عبادت سمجھنے والے عظیم شخص

(نائلہ رضا)