shwita

بھارت کےسب سے بڑے سیکس سکینڈل میں حیرت انگیز انکشافات

EjazNews

بھارتی صوبہ مدھیا پردیش میں ایک ایسے بہت بڑے سیکس سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں چار ہزار سے زائد میڈیا فائلز میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سیاستدانوں کو لڑکیوں کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس نے گروہ کی سرغنہ کو گرفتار کرلیا جو ایک منصوبے کے تحت ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرتا تھا۔ تفصیلات کے مطابق اس گروہ میں ایسی نوجوان لڑکیاں شامل ہیں جنہیں بالی ووڈ میں بی کلاس کا درجہ حاصل ہے اور وہ ایکسٹرا کے طور پر کام کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس گروہ نےبڑی چالاکی سے کالج کی معصوم لڑکیوں کو بھی اپنے جال میں پھانس رکھا تھا۔
مدھیہ پردیش کے مختلف ہوٹلوں اور ریسٹ ہائوسز میں جو بیوروکریٹس اور سیاسی لیڈر قیام کرتے ہیں یہ لڑکیاں انہیں اپنے دام میں گرفتار کر کے ان سے قابل اعتراض حالت میں وڈیوز بنواتی ہیں اور بعد ازاں انہیں انہی ویڈیوز کی بنیاد پر بلیک میل کیاجاتا ہے۔ خیال رہے کہ اس سکینڈل میں اتنے زیادہ بیوروکریٹس اور سیاسی لیڈر شامل ہیں کہ اسے بھارت کا سب سے بڑا سیکس سکینڈل کہا جاسکتا ہے۔
اس میں کم سے کم 8 ریاستی وزرا، ایک درجن اعلیٰ بیورو کریٹس اور امیر ترین افراد تک کو پھانسنے کا انکشاف ہورہا تھا اور یہ ابتدائی معلومات تھیں لیکن جیسے جیسے انڈین میڈیا پر معلومات سامنے آرہی ہیں تو حیران کن طور پر اس میں صرف ایک ہی ریاست نے بلکہ انڈیا کی 5ریاستوں تک پھیلا ہوا یہ سکینڈل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سکینڈل بھارت کی ریاست مدھیا پردیش میں سامنے آیا اور پولیس اس کیس کو اب تک کا بھارت کا سب سے بڑا سیکس و بلیک میلنگ کا سکینڈل قرار دے رہی ہے،اس سکینڈل کی 5 مرکزی ملزم خواتین کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے جو ایک این جی او کے نام پر حکومتی وزیروں، سرکاری افسران، تاجروں اور امیر شخصیات کو بلیک میل کر تی رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس گروہ نے ایک ہزار قابل اعتراض اور برہنہ ویڈیوز بنائیں تھیں لیکن اب انکشاف ہوا کہ ان کی تعداد 4ہزار سے بھی زائد ہے۔ اس سکینڈل کی مرکزی ملزمہ 39 سالہ شویتا جین نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ہی اس سکینڈل کا منصوبہ تیار کیا اور اس مقصد کے لیے غریب اور متوسط گھرانے کی نوجوان لڑکیوں کی خدمات حاصل کیں ۔پولیس کے مطابق اس کیس کی تفتیش کے لیے گرفتار کی گئی 5 خواتین مرکزی ملزمان ہیں جو اپنے اپنے حساب سے ایک الگ گینگ چلا کر اعلیٰ شخصیات کو بلیک میل کرتی رہیں۔
خوبرو اور کالج میں زیر تعلیم لڑکیوں کو نوکریوں اور پرتعیش زندگی کی لالچ دے کر یہ اپنے گروہ میں شامل کرتیں تھیں اور انہیں وزرا، اعلیٰ افسران، تاجروں اور بااثر ترین مرد حضرات کو بلیک میل کرنے کا ٹارگٹ دیاجاتا تھا۔ اب ایک کالج کی لڑکی کس طرح بلیک میل کرے گی یہ ویڈیو ،آڈیو اور وٹس ایپ سے ہی اندازہ ہو سکتا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق ان ہائی پروفائل ویڈیوز، تصاویر، چیٹنگ کا ریکارڈ اعلیٰ پولیس افسرو ں سے بھی چھپایا جارہا ہے اور چند ایک لوگوں کی اس مواد تک رسائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  صدر ٹرمپ کی کرونا سے صحت یابی کے بعد الیکشن مہم کیسے چلے گی؟

انڈین میڈیا کے مطابق بھارت کے سب سے بڑے اس سیکس سکینڈل میں نہ صرف خواتین اور نوجوان لڑکیاں بلکہ مدھیا پردیش کے صحافی بھی ملوث ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس کیس میں نہ صرف عام صحافی بلکہ اخبارات کے ایڈیٹرز اور ایک ٹی وی چینل کا مالک بھی ملوث ہے جس پر الزام ہے کہ وہ بلیک میل ہونے والے افراد اور خواتین کے درمیان معاہدہ کرنے میں کردار ادا کرتا تھا۔کیس میں ملوث صحافیوں سے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ اس وزرا، سرکاری افسران اور بااثر شخصیات کو ایسا تاثر دیتے تھے کہ وہ انہیں ایک بدنامی سے بچا رہے ہیں، لیکن دراصل وہ خواتین کے گینگ سے ملے ہوتے تھے۔ اس سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد بھارت ایک تہلکہ مچا ہوا ہے۔ اس کیس کے حوالے سے ہر روز نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سکینڈل کے تحت بلیک میل کیے جانے والے اور سیاستدان بھی سامنے آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ نے چین پر عائد 2سو ارب ڈالر زکے ٹیکسز موخر کرنے کا فیصلہ کر لیا

ابھی تک یہ خبر بھی منظر عام سے غائب ہے کہ جن لوگوں کو بلیک میل کیا جاتا رہا ہے ان سے کیسی بلیک میلنگ کی جاتی ہے اگر صرف پیسے لیے جاتے رہے ہیں تو آج تک یہ کتنے پیسے لے چکی ہیں۔ اگر پیسوں کے علاوہ ان سے کوئی کام لیا جاتا تھا تو وہ کیا تھا۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق فرانزک ایکسپرٹ اس پر کام کر رہے ہیں ۔ اور میموری کارڈ سے معلومات نکال رہے ہیں جو کہ ڈیلیٹ بھی ہو چکی ہوں گی۔ اور خیال کیا جارہا ہے کہ ان سیکس ویڈیوز کی تعداد 5ہزار سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ حیرت انگیز طورپر جن لڑکیوں کو اس کام کیلئے استعمال کیا جارہا تھا ان میں سے زیادہ تر کی عمر صرف 18سال تک ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ بھوپال کا ایلیٹ کلب بھی اس کام کیلئے استعمال ہوتا رہا ہے وہاں پر ریکارڈز میں نام غائب تھے لیکن سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں لڑکیوں کی تصاویر تھیں جو اس سیکس سکینڈل میں شامل ہیں ۔
انڈیا میڈیا کے مطابق اس میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے سیاستدان بھی شامل ہیں اور کانگریس کے بھی اس لیے ان ویڈیوز اور تصاویر کو منظر عام پر آنے سے روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جارہی ہے۔کچھ لوگو ں نے بلیو ٹروتھ کے ذریعے ان میں سے کچھ ٹرانسفر کرنے کی کوشش کی لیکن بروقت پتہ چلنے پر روک لیا گیا۔
انڈین میڈیا کہہ رہا ہے ان لڑکیوں کے سینئر پولیس افسران سے بھی ناجائز تعلقات تھے۔ اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سچائی کس قدر کھل کر سامنے آتی ہے یا پھر کہیں گم ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا جنگ کے نتائج جانتے ہو؟