wife with husband smiling mood

گھریلو مشکلات کے حل کی عجیب تجویز

EjazNews

(خوشی بھرے راستہ) کی سیاست

یہ بالکل فطری بات ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ڈھیر ساری مشکلات کا سامنا کریں خواہ وہ گھر یلو ہو یا مالی یا سروس اور ملازمت کی ۔ یہ انسانی طبیعت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے: ’’ لقد خلقنا الانسان فی کبد‘‘ ہم نے انسان کو پریشانی جھیلنے کے ساتھ پیدا کیا۔ (سورہ بلد )
تو ہر انسان جوئی مشکل کوحل کرنا چاہے اسے چاہئے کہ وہ دو بنیادی اصولوں کومد نظر رکھے جنھیں تخلیہ تحلیہ کا اصول کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ کوشش کرے کہ اس مشکل کے خلل اورغلطی کے مرکز کو تلاش کرے پھر اسے بند کر نے کی اور اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کرے۔ مثلاً (شوہر کا سلوک غیرمعقول ہے کیونکہ وہ شراب اور نشے کا عادی ہے) دوسری شق یہ ہے کہ برائی کی جگہ اچھائی لائی جائے لیکن اس حالت کو ہم بدلنے کے لیے اصلاح کریں اور نئے اصول و افکار دلوں میں اتارنے کی کوشش کریں۔
مرکز خوشحال گھرانہ دبئی میں میرے کام کے دوران میرے عزیز دوست مسٹر عارف عبد الکریم جلفار ادارہ کے چیئر مین، نے خواہش ظاہر کی کہ مین از دواجی مشوروں کے پروگرام پرکام کرنے والے چند مخلص حضرات جیسے عبدالسلام در ویش، عبداللہ کمالی اور جناب محمد دیماس سویدی صاحبان کے ساتھ شریک ہو جاؤں مجھے کوئی تردد نہیں ہوا اور میں نے اس مشورہ کوقبول کرلیا۔ جو خواتین اپنے شوہروں سے پریشان تھیں اور ان کی ازدواجی زندگی مشکلات کا شکار تھی میں ان کے فون ریسیو کرتا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ایک خاتون اس پروگرام عمل ہی نہیں کرتی ہے جس کا مطالبہ اس سے کیا گیا تھا اور اگر اس نے کیا بھی تو ایک دو مرتبہ۔ اس کے بعد وہ مجھ سے فون پر کہتی (دیکھئے کوئی فائدہ نہیں ہے میں تھک چکی ہوں) پھر وہ اس مشکل کو چھوڑ دیتی تاکہ وہ مزید بڑھ جائے اور اس طرح وہ اس حقیقی پریشانی کے سامنے ہار مان لیتی اور اس نتیجے کے سامنے جھک جاتی جو خود اس نے اپنے دل سے نکالا تھا۔ آپ یقین کریں میں نے اکثر بیویوں کو دیکھا کہ ان کے پاس اپنی پریشانیوں کو منطقی طریقہ سے حل کرنے کی حقیقی استعدادنہیں ہے۔ ان میں سے ہر ایک جادوئی علاج چاہتی ہے کہ اس پرعمل کرتے ہی ہر مشکل حل ہوجائے اور ان کا شوہر علاء الدین جادوگر کے جن کی طرح فرماں بردار ہو جائے مگر جو مشکلات، انسانی تعلقات کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں وہ ایک لمحہ میں حل نہیں ہوتی ہیں اورنہ فوراً ختم ہوتی ہیں بلکہ انھیں ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ بیوی کی سب سے بڑی غلطی اس کے ارادہ کے بغیر یہ ہوتی ہے کہ وہ شوہر سے دور ہو جاتی ہے، اس سے جھگڑتی ہے اور اسے واپس لانے اس سے ہونے والی تکلیف کو برداشت کرنے اور اسی حالت میں اسکو قبول کر لینے کے بجائے اسکے منہ پر محبت کا دروازہ بند کردیتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں مزید نفرت، دوری اورغلطی پر اصرار بڑھ جاتا ہے۔
اب میں آپ کے سامنے مشکلات کے حل کے لیے عموی حل پیش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  مردوں اور عورتوں کے بعض حقائق

ٹیلہ پر کھڑے ہونے کی ابتداء
(پریشانی کی ابتدا کا تجزیہ) ‘
بیوی سب سے پہلے کسی پریشانی کا تجزیہ کرے۔ وہ کس طرح؟ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ عورتوں میں سامنے والے کی نفسیات کو تاڑ لینے اور سمجھ لینے کی عجیب وغریب صلاحیت ہے۔ ایک عورت بڑی آسانی سے اپنے شوہر کی نفسیات کو معلوم کر سکتی ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی سے اپنے اندرونی جذبات چھپا نہیں پاتا۔ کیونکہ اسے یقین نہیں آتا ہے۔ لیکن وہ ان جذبات کاردعمل ناراضگی کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ اسے ایک نظر دیکھتے ہی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ نارمل نہیں ہے اور جیسے کہ کہا گیا ہے۔ (اس کی صورت کسی بات کا پتہ دے رہی ہے)
اس لیے کسی پریشانی کی ابتدا کوسمجھ لینا، اصلانی کام کو85فیصد آسان بنادیتا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو اچھی طرح سمجھ لے۔ وہ کب خوش ہوتا ہے اور اپنی خوشی کس طرح ظاہر کرتا ہے کہ غصہ ہوتا ہے اور کس چیز سے غصہ ہوتا ہے۔ غصہ کی حالت میں وہ کس طرح کا سلوک کرتا ہے؟ وہ کونسا مناسب طریقہ ہے جس سے اسے ٹھنڈا کیا جائے؟ جب ناراض ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ یہ اور اس طرح کی دوسری باتیں ہیں جو بیوی کو چاہئے کہ وہ ان کو دانائی سے سمجھے اور یہ یادر کھے کہ جب جب کسی مشکل کو جلد معلوم کرلیا جائے گا اس کا عمل کرنا آسان اورممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  دو چار منٹ از دواجی تعلقات کا فیصلہ کر دیتے ہیں

ہم بانس پر کیسے چلیں؟
(پریشانی کی ظاہری علامتوں کی پہچان)
جب بیوی کسی پریشانی کی ظاہری علامتوں کا اندازہ لگانے جیسے گھر میں داخل ہوتے ہی شوہر کی خاموشی یا گفتگو اور بات چیت میں اس کا شریک نہ ہونا ،تو وہ ان سب کا سبب متعین کرے کہ وہ اس طرح خاموش کیوں ہے اور مجھ سے بات کیوں نہیں کررہا ہے۔ وہ اپنے آپ سے سوال کرے آخر کیا بات ہوگی ؟ خاموشی کسی پریشانی کا نتیجہ ہے نہ کہ وہ خود اصل بات ہے۔ تو جب بیوی اس کی خاموشی کا سبب سمجھ لے تو وہ دوسرے مرحلہ کی طرف بڑھ سکے گی اور وہ ہے اس پریشانی کے عمل کے زیادہ امکانات کی تلاش مثلاً میراشوہرخاموش ہے بات نہیں کرتا ہے اور اگر کرتا ہے تو ہاتھ کی انگلیوں کی طرح چند الفاظ۔
اس مشکل کو میں مختلف انداز سے دیکھ سکتی ہوں:
1۔ میرا شوہر مجھ سے بات کرنے میں راغب نہیں ہے۔
2۔ گھر کے ماحول میں گفتگو اور بات چیت کا موقع نہیں ہے کیوں کہ وہ تھکا ہوا ہے۔
3۔ اس کا خیال ہے کہ اس کے اس رویہ سے ہر بات مناسب انداز سے چل رہی ہے۔
4۔ اس کی باہر کی مشکلات اور سروس کے حالات اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ انھیں کے بارہ میں سوچتارہے۔
5۔ شاید وہ میری کیا بات سے ناراض ہوگیا ہے۔
ان مفروضات پر بیوی توجہ دے اور ہر نقطہ پرتوجہ سے غور کرے۔
1۔ پہلا احتمال اور خیال خود اس کی ذات سے وابستہ ہے۔
2 ۔ دوسرا خیال اس کے گھر کے درمیان مشترک ہے۔
3۔تیسرے خیال کا مطلب ہے کہ وہ اپنے طور مطمئن ہے کہ معاملات اسی انداز سے بہتر چل رہے ہیں جبکہ یہ اطمینان دوسروں کے پاس نہیں ہے۔
4۔ چوتھے خیال کی بنیاد خارجی کام ہیں جو اس کو نفسیاتی طور پر تھکا رہے ہیں، جس میں بیوی کا کوئی دخل نہیں ہے۔
5۔ پانچویں خیال کے لحاظ سے پریشانی سب سے پہلے بیوی سے متعلق ہے نہ کہ کی شخص سے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام راستوں پر بغیر تھکے چلیں (کسی پریشانی کے عمل کی صحیح پلاننگ)