syed kamal

نہ جانے کیوں ایسا لگتا ہے سید کمال ہم سے بچھڑے نہیں

EjazNews

سید کمال فلم انڈسٹری میں بھی کمال کی شخصیت تھے۔ ان کا انداز گفتگو اور سوچ اورویژن دوسرے لوگ سے بہت آگے تھا۔ 27اپریل 1937کو متحدہ ہندوستان کے شہر میرٹھ میں پیدا ہونے والے سید کمال نے زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے۔ لیکن وہ کبھی ہارے نہیں ۔مجھے یاد ہے کہ اپنی وفات سے قبل وہ ایک نامور صحافی کو ٹی وی انٹرویو دے رہے تھے اور اس انٹرویو میں وہ مسلسل صحافی کا نام لے کر انہیں مخاطب کر رہے تھے ان کا جوش و ولولہ کسی بھی 20-25سال کے جوان سے کم نہیں تھا اور یہی جوش و جذبہ ہمیں ان کی فلموں میں بھی دیکھنے کو ملا ۔ 1957ءمیں شباب کیرانوی کی فلم سے فلمی سفر کا آغاز کیااور یہ سفر کم و بیش 2سو فلموں پر محیط ہے۔ بطور فلم ساز، ہدایت کارانہوں نے فلم انڈسٹری کیلئے اپنی خدمات مہیا کیں۔
جب ٹی وی انڈسٹری نے پاکستان میں قدم رکھا تو وہ ان لوگوںمیں سے تھے جو اس وقت کہتے تھے کہ اگر فلم انڈسٹری نے محنت نہ کی اور بہتر فلمیں عوام کو دیکھنے کیلئے نہ دیں تو یہ میڈیم فلم کو کھا جائے گا اور ان کے سوچ بالکل ٹھیک تھی۔ ان کا ٹیلی ویژن پر ایک شو ”کمال شو “عوام میں بڑی پذیرائی کا حامل رہا۔
اداکار کمال انہوں اداکاروںمیں شمار ہوتے ہیں کہ وہ اگر اردو فلم میں کام کرتے تھے تو لوگ انہیں سمجھتے تھے کہ کمال کو پنجابی نہیں آتی اور جب انہوں نے پنجابی فلم میں کام کیا تو آپ یقین کیجئے بہترین فلم ساز ، ہدایت کار اور اداکار کا ایوارڈ حاصل کیا۔
بے پناہ صلاحیتوں کے مالک کمال یکم اکتوبر 2009ءکو حرکت قلب بند ہوجانے سے اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ لیکن جب بھی ان کا ذکر آتا ہے تو نہ جانے کیوں میری آنکھوں میں ایک چمک سی آجاتی ہے جیسے وہ آج بھی میرے ساتھ ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ پاکستان فلم انڈسٹری ایک دن ضروردنیا میں نام کمائے گی بس آپ اس کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیتے رہو۔
سید کمال ہم سے بچھڑ چکے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں کہ وہ واپس لوٹ کر نہیں آنے والے لیکن نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ ہم سے بچھڑے نہیں ہیں وہ کہیں نہ کہیں ہمارے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس : عرفان خان اپنی والدہ کے جنازہ میں شریک نہ ہو سکے