After Marriage

ایلاءکا بیان

EjazNews

ایلاءکسے کہتے ہیں اوراس کے کیا احکام ہیں؟
ایلاءکے معنی قسم کے ہیں اور شرعی ایلاءیہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے ہم بستری کے چھوڑنے پر قسم کھا لے یعنی یوں کہے کہ خدا کی قسم میں اپنی بیوی سے جماع نہیں کروں گا یا یوں کہے کہ میں اس کے قریب نہیں جاﺅں گا اور اس سے اس کی نیت ترک جماع ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں یا تو وہ مدت چار مہینے سے کم ہو گی یا زیادہ ہو گی اگر کم ہے تومدت پوری کرے اور اس کے درمیان عورت بھی صبر کرے۔ اوراس سے مطالبہ اور سوال نہ کرے۔ پھر دونوں ملیں جلیں۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کے لئے قسم کھالی تھی اور انتیس دن پورے کر کے اپنی ازواج سے ملے۔
ایلاءکا یہ حکم ہے کہ اگر مدت کے بعد جماع کرے اور رجوع کر لے تو کچھ نہیں دینا پڑے گا اور اگر کوئی عدت کے اندر جماع کرے ، قسم توڑ ڈالے تو قسم کے توڑنے کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا ۔ قرآن مجید میں ایلاءکے بارے میں یہ آیت کریمہ آئی ہے۔
ترجمہ: ”جو لوگ اپنی بیویوں سے علیحدہ رہنے کی قسم کھالیں ان کے لئے چار مہینے ٹھہرنے کی مدت ہے اگر اس مدت رجوع کرلیں تو اللہ غفور الرحیم ہے اور اگر طلاق دینے کاارادہ کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔“
یعنی قسم کےبعد یا تو وہ لوٹا لیں اور نہایت خوش اسلوبی سے میاں بیوی مل جل کر رہیں اور اگر ملاپ کی صورت ممکن نہیں ہے تو طلاق دیدیں ۔ درمیان میں لٹکائے رہنا سخت گناہ ہے اور اگر خاوند طلاق نہیں دیتا تو مسلمان حاکم طلاق دلائے گا۔ اور بلا طلاق دئیے طلاق نہیں پڑے گی۔ جمہور علماءکا یہی مذہب ہے کہ مولی (ایلاءکرنے والا) یعنی قسم کھانے والے کو حاکم کے سامنے کھڑا کیا جائے گا یا تو وہ لوٹا لے ورنہ طلاق دیدے بغیر طلاق دئیے طلاق نہیں پڑے گی۔
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ایلاءکے چار مہینے گزر جائیں تو مولی (قسم کھانے والے) کو حاکم کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور بغیر مولی کے طلاق دئیے طلاق نہیں پڑے گی ۔ حضرت عثمان و علی و ابوالدرداءاور بہت سے صحابہ کرام کا یہی مسلک ہے۔ (نیل الاوطار)

یہ بھی پڑھیں:  کیا نکاح سے پہلے اجنبی عورت کو دیکھنا جائز ہے؟