patient

پاکستان میں پائی جانے والی چند خطرناک بیماریاں

EjazNews

دنیا بھر میں ایک لاکھ امراض بنی نوع آدم کی نسل کو مٹا رہی ہیں۔ چھوت اور وبائی امراض انسان کے دشمن ہیں۔ بہت سے جراثیم فضا میں سفر کر تے ہیں جبکہ کچھ بذریعہ خوراک انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ کچھ انسان کے طرز زندگی بہت سی بیماریوں کو جنم دیتی ہے اور لا تعداد امراض بڑھتی ہوئی عمر میں انسان کو پکڑ لیتے ہیں۔ اتنی ساری بیماریوں کی موجودگی میں انسان پھر بھی زندہ ہے۔ اسی پر سائنسدانوں کو حیرت ہے۔ پاکستان میں 10نوعیت کے امراض انتہائی خطرناک ہیں۔
سانس کی بیماریاں:
سانس کی نالی کی بیماریاں پاکستان میں عام ہیں۔ پاکستان میں پائی جانے والی 51فیصد بیماریوں کا تعلق سانس کی نالی سے ہے۔ اس کا شکار زیادہ تر بچے یا کمزور لوگ بنتے ہیں۔ نمونیہ اور انسووینزا اس میں زیادہ ہیں۔
ملیریا:
خصوصاً دیہی علاقوں میں ملیریا غریب طبقے کا دشمن ہے۔ پسماندہ اور نواحی بستیوں میں بھی اس کے کیسز زیادہ ہیں۔ 16فیصد مریض اس کا شکار ہیں، ناقص سینٹری اور سیوریج کے باعث پیدا ہونے والے مچھروں اور مکھیوں کے ذریعے سے یہ بیماری پھیل رہی ہے۔
ہیپاٹائٹس:
پاکستان میں ہیپا ٹائٹس میں بی اور سی کے مریضوں کی تعداد 1 کروڑ 20لاکھ یعنی7.5فیصد ہے ،بعض علاقوں میں 20فیصد تک افراد میں ہیپا ٹائٹس بی اور سی کے جراثیم پائے گئے ہیں۔
ہیضہ:
چھوٹی آنت کی ایک بیماری ہیضہ ہے ۔ قابل علاج ہونے کے باوجود یہ پاکستان میں لا علاج ہے ۔برسات میں اس کے جراثیم زیادہ شدت سے پھیلتے ہیں۔
ڈینگی فیور:
ڈینگی بخار قابل علاج ہونے کے باوجود انسان کے قابو سے باہر ہوا ہے ۔
ٹی بی:
ٹی بی کا شمار پاکستان کی بڑی موضی بیماریوں میں ہوتا ہے۔ بظاہر اس کے خاتمے کے لیے مرکزی حکومت نے متعدد پروگرام شروع کیے لیکن کسی پروگرام کو قابل ذکر کامیابی نہیں ملی۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ٹی بی کے امراض کی تعداد بالحاظ فیصد زیاد ہ ہے ۔ یہاں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ ٹی بی کے ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جو متعدد ادویات کیخلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔
چھاتی کا سرطان:
پاکستان میں چھاتی کا سرطان ایک عام بیماری ہے۔ ہر 9ویں عورت اس میں مبتلا ہے جبکہ ہرسال 40ہزار خواتین اس مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔
دل کے امراض:
پاکستان میں دل کے امراض سے ہونے والی شرح اموات دو لاکھ سالانہ سے تجاوز کر چکی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا ذیباطیس اور دل کے امراض کا سبب بن رہا ہے۔
ذیبا طیس:
پاکستان میں ذیباطیس میں مبتلا افراد کی تعداد 70لاکھ سے زائد ہو چکی ہے اور یہ بالحاظ تناسب جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔
پھیپھڑوں کا سرطان:
پھیپھڑوں کے سرطان سے 1لاکھ افراد ہر سال مر جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق 90فیصد مریضوں نے اس مرض کی وجہ سگریٹ نوشی ہے ۔جنوبی ایشیاءمیں پاکستان کا شمار سب سے زیادہ سگریٹ نوشی کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے ،جہاں ہر دوسرا شخص دو انگلیوں میں سگریٹ دبائے دھوئیں کے منگولے اڑاتا ہوا دکھائی دیتاہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سال 2013ءپاکستان کیلئے خسرہ کے حوالے سے ایک خطرناک سال تھا۔ جب ملک کے مختلف حصوں میں 94مرتبہ خسرہ کی وبا پھوٹی۔ ڈبلیو ایچ او نے وبائی امراض کے کیسوں کی وجہ سے پاکستان کو خسرہ کے حوالے سے ایک خطرناک ملک قرار دیا تھا۔ تاہم پنجاب حکومت نے عالمی ادارہ صحت کے اس دعوے کی تردید کی تھی ۔ خسرے کی وباءنے سب سے ز یادہ بلوچستان میں اور پھر پنجاب میں نقصان کیا تھا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق یکم جنوری 2013ءسے 19جنوری 2013ءتک 103بچوں کا انتقال ہوا۔ جن میں سے سندھ میں 66، بلوچستان میں 33اور پنجاب میں 7بچے شامل تھے۔ تاہم اسی عرصے میں ملک بھر میں تقریباًڈھائی ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ اور صرف جنوری میں1211 کے قریب کیسز رپورٹ ہوئے۔ سندھ میں 1211، خیبر پختونخواہ میں 290اور بلوچستان میں 483کیسز رپورٹ ہوئے۔ ضلع نصیر آباد میں 220کیسز میں سے 30جان لیوا ثابت ہوئے۔اسی طرح جعفر آباد میں جھلک مگسی میں 3میں سے 1، ضلع نصیر آباد میں 4میں سے 1ہیں۔ گوجرانوالہ، قصور، لاہور، راجن پور، بکھر اور راولپنڈی میں بھی خسرہ کے کیسز رپورٹ ہوئے تھے ۔ پنجاب میں 2013ءمیں مجموعی طور پر خسرہ سے 14افراد جاں بحق ہوئے۔
سندھ میں پانی سے پھیلنے والی بیماریاں بھی بہت عام ہیں۔ گندے پانی کی فراہمی سندھ کے کئی حصوں میں خوفناک امراض کا سبب بن رہی ہے۔ اس سلسلے میں انوائر مینٹ پروٹیکشن ایجنسی ایکٹ اور دوسرے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ سندھ کے پانی میں ایک مرتبہ 336نمونے لیے گئے ان سے پتہ چلا کہ ان میں مختلف طرح کے جراثیم اور خوفناک کیمیائی مادوں کا پتہ چلا۔ ان میں سے 23فیصد نمونے مضر صحت پائے گئے ان میں پوٹاشیم، کیلشیم، فلورائیڈ، سلفیڈ، نائیٹریٹ اور آئرن کی مقدار ضرورت سے زیادہ تھی۔ اسی طرح30فیصد نمونے مضر صحت تھے جبکہ مزید 23فیصد نمونوں میں جمالیاتی خرابیاں تھیں ان کا رنگ خراب تھا یا ان میں کرواہٹ تھی جبکہ 74فیصد نمونے مختلف جراثیم کی موجودگی کے باعث خوفناک تھے۔ اس طرح مجموعی طور پر 336نمونوں میں سے 251 یعنی 85فیصد مضر صحت تھے۔ اور صرف 85فیصد قابل استعمال تھے۔ کچی آبادیوں اور نواحی بستیوں میں ان امراض کی تعداد زیادہ تھی۔ کراچی میں نارتھ سندھ اربنائزیشن کارپویشن، بنائی گئی جس کا بنیادی مقصد پانی کی فراہمی کو بہتر بنانا تھا۔ یہ کارپوریشن سندھ سٹیز انویسٹمنٹ امپورویمنٹ پروگرام کے تحت ایشیائی ترقیاتی بنک کے قرضوں سے قائم کی گئی تھی۔ حکومت نے اسے بہتر بنانے کے لیے دعوے کیے جو سب جھوٹے ثابت ہوئے۔ شکار پور کو سندھ کا پیرس کہا جاتا ہے۔ چونکہ یہاں ماضی میں بہترین سیوریج سسٹم قائم کیا گیا تھا،پارک موجود تھے۔پینے کے صاف پانی اور ہسپتالوں کی سہولت میسر تھی لیکن گزشتہ چند عشروں میں یہ شہر بھی پیرس کی بجائے وینس میں تبدیل ہوگیا۔ ناقص سیوریج سٹم کے باعث گلیو ں، بازاروں میں گندا پانی، درجنوں اقسام کی بیماریوں کا سبب بننے لگا۔ کراچی بھی اندرون سندھ سے مختلف نہیں۔ یہاں ٹریٹ منٹ پلانٹ لگائے جانے کے دعوے کبھی پورے نہیں ہوئے اور صنعتوں کا گندا پانی پینے کے صاف پانی میں جگہ جگہ مل رہا ہے۔
پانی ایک بنیادی چیز ہے اور پورے پاکستان کا اگر آپ جائزہ لیں تو شاید ہی کسی شہر یا دیہات کو آپ کہہ سکیں یہاں میں ٹوٹی سے پانی پی سکتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  سفید چینی :کچھ احتیاطی تدابیر
کیٹاگری میں : صحت