malaria

ملیریا عالمی طور پر خطرناک سمجھا جاتا ہے

EjazNews

عالمی ادارہ صحت کو ملیریا کے پھیلاﺅ پر شدید تفتیش ہے۔91ممالک میں اب تک ملیریا ختم نہیں کیا جاسکا۔2015ءمیں اس کے 21کروڑ 20لاکھ کیس سامنے آئے جس میں سے 43لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ یہ کوئی معمولی اعداد و شمار نہیں عالمی ادارہ صحت اس پر گہری تفتیش ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹھوس اقدامات اٹھانے کا بھی مشورہ دے رہا ہے۔ سب صحرائی افریقہ میں ملیریا کے 90کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 92فیصد مریضوں کی موت واقع ہو گئی۔ سب صحرائی افریقہ میں ایسا کیا ہے کہ سب سے زیادہ ملیریا کے مریض وہیں سامنے آرہے ہیں آپ اموات کی شرح بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
کچھ لوگوں نے اس پر تحقیق کی انہوں نے بتایا کہ ملیریا کا جراثیم انتہائی قدیم ہے۔ یہ ایک خاص قسم کے مادہ مچھر کے کاٹنے سے منتقل ہوتا ہے۔ ہر قسم کی مادہ ANOTHELESمکھی کے کاٹنے سے ملیریا نہیں ہوتا ۔ لیکن عمومی طور پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سورج کی تیز کرنوں میں اس کا پھیلاﺅ بڑھ جاتا ہے۔ یہ موسم ملیریا کے لیے موافق ہے۔ ملیریا کے جراثیم والی مادہ مکھیاں اس موسم میں زیادہ انجوائے کرتی ہیں۔ اسی لیے ملیریا کا براہ راست تعلق ماحولیات سے ہے۔ نئی تحقیق سے پتہ چلا کہ 67کم ترقی یافتہ ممالک میں اس کا پھیلاﺅ زیادہ تیزی سے ہو رہا ہے ،اس کا موسم ملیریا کی جراثیم والی مکھیوں کے لیے موافق بنتا جارہا ہے اور یہی وہ زیادہ تیزی سے پھیلتا جارہا ہے ۔ محققین نے بتایا کہ ان ممالک میں درختوں کی کٹائی کی رفتار زیادہ ہے۔ درختوں کے درخت چنڈ منڈ کا منظر پیش کر رہے ہیں، موسم تو بدلے گا اور مکھیوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملے گا۔
کینیا کی مثال لیجئے۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلا کہ وہاں درختوں کے کاٹنے کے بعد ملیریا میں پھیلاﺅ آیا ہے۔ ملیریا کا پھیلاﺅ کسی خاص ملک تک محدود نہیں جہاں جہاں درخت کٹ رہے ہیں وہاں اس کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ایسے میں عالمی ادارہ صحت کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگری کلچرل آرگنائزیشن (عالمی ادارے کی تنظیم برائے خوراک و زراعت) اسے ملیریا کے پھیلاﺅ اور جنگل کے کٹاﺅ میں ایک باہمی ربط محسوس ہوا۔ بعد کی مزید تحقیقات کے نتیجے میں ان کی اس تحقیق کو سپورٹ کیا۔ جنگل کے کٹاﺅ کے نتیجے میں کئی ماحولیاتی مسائل جنم لیتے ہیں، مثلاً پانی کے تیلاب پر سورج کی روشنی ڈریک پڑنے شروع ہو جاتی ہے جس سے ملیریا والی مکھیوں کے لیے یہ انتہائی موافق ہوجاتا ہے۔
تلابوں کے علاوہ گڑھے اور کھڈوں میں بھی پانی جمع ہو جاتا ہے۔ کم تیزابی ہونے کے باعث اس پانی میں ملیریا والے مچھر تیزی سے پروان چڑھتے ہیں ۔ جنگل پانی کو جزب کر لیتے ہیں جس سے جنگلوں اور گھروں میں پانی جلدزمین میں جزب ہوجاتا ہے۔ درختوں کے کٹنے کی وجہ سے پانی زیادہ دیر تک بنجر زمینوں پر یا مکانوں میںکھڑا رہتاہے۔ حرارت بڑھتے پر یہاں ملیریا مچھر کی افزائش ہو تی ہے۔ تو پھر اس کا حل کیا ہے۔ درخت تو کٹ چکے مچھروں سے کیسے نبٹا جائے اس کے لیے فوری طور پر زرعی پلان بنایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ درختوں کی افزائش کی جائے۔ کاشتکاری میں اضافہ کیاجائے جہاں جہاں درخت کاٹے گئے ہیں وہاں متبادل بندوبست کیا جائے ورنہ تو ملیریا سے بچاﺅ ممکن نہیں۔
یہ ملیریا جیسے سب صحرائی ممالک کا مسئلہ ہے ہمارے ہاں بھی یہ اسی طرح بھیانک روپ سے تو نہیں ہے لیکن بڑھ ضرور رہا ہے کیونکہ زرعی زمینوں پر ہاﺅسنگ سکیمیں بن رہی ہیں اور تیزی سے پھیل بھی رہی ہیں ۔ اور درخت اتنی تیزی سے کاٹے جارہے ہیں کہ متبادل نظر ہی نہیں آتے۔ پہلے دس مرلے کے گھر میں درخت ضرور لگایا جاتا تھا اب نئی ہاﺅسنگ سکیموں میں بننے والے گھروں میں آپ کو لان اور درخت نام کی چیز نہیں ملتی ۔ اس بارے میں غورو فکر کرنے کی اشد ضرور ت ہے ۔ ملیریا عالمی طور پر ایک خطرناک مرض سمجھا جاتا ہے۔
خصوصاً دیہی علاقوں میں ملیریا غریب طبقے کا دشمن ہے۔ پسماندہ اور نواحی بستیوں میں بھی اس کے کیسز زیادہ ہیں۔ 16فیصد مریض اس کا شکار ہیں۔ ناقص، سینٹری سسٹم اور سیوریج کے باعث پیدا ہونے والے مچھروں اور مکھیوں کے ذریعے سے یہ بیماری پھیل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مساج یا مالش کی اہمیت
کیٹاگری میں : صحت