China Tecnlogy

میڈ ان چائنہ 2025ء، کیا چین برطانیہ اور امریکہ کو ٹیکنالوجی میں پیچھے چھوڑ دے گا

EjazNews

چین کے سکولوں میں بچوں کو یہی سکھایا جارہا ہے امریکہ نے تمام تر ترقی برطانیہ کی ٹیکنالوجی کو چوری کر کے کی۔ ٹیکنالوجی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ اسی نقطے کو لے کر چینی سافٹ وئیر ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن امریکہ ان کے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ امریکہ کے خیال میں چین ، شمالی کوریا کے حوالے سے مناسب اقدامات نہیں اٹھا رہا۔ اس کے تجارتی اقدامات درست نہیں جہاں ضرورت پڑتی ہے وہ عالمی قوانین کے ساتھ کھڑا ہوجاتا ہے اور جہاں ضرورت نہیں پڑتی وہاں وہ اس کی حمایت نہیں کرتا۔ کاپی رائٹ اور ٹریڈ مارک کے قوانین وہ اپنے طریقے سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ دراصل چین 2025ءمیں عالمی لیڈر بننا چاہتا ہے۔ عالمی روبوٹیٹ اور میڈیکل ٹیکنالوجی کے شعبے میں وہ بے پایاں ترقی کر رہا ہے۔ اسی لےے میڈان چائنہ 2025ءکے انعقاد تک چین ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوسرے ممالک سے بہت آگے ہوگا۔ چین کے سکالر کے مطابق دوسرے ممالک دانشورانہ قوانین کو اپنے مفاد میں اور دفاع کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے سے وہ کمزور ممالک کی مارکیٹوں پر بھی قبضہ کر رہے ہیں اور دوسری ممالک کی کمپنیوں کو اپنی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں مگر اب وقت بدل گیا ہے۔ اب چین کوپوری طاقت سے اس کا جواب دینا ہوگا۔ اب کوئی ہمیں گردن سے دبوچ کر ہماری ترقی کا راستہ نہیں روک سکتا۔ چینی رہنماﺅں کا کہنا ہے، چینی رہنما دنیا بھر میں چینی مفاد کو پیش نظر رکھا ہوا ہے۔ چینی رہنماﺅں کے خیال میں ترقی کی بنیاد سرمائے پر رکھی گئی ہے جو اب نہیں ہوگا ۔ بڑی بڑی امریکی کمپنیاں اب چین کے ساتھ مشترکہ منصوبے بنانے پر آمادہ ہیں۔ اس لیے کاپی رائٹس کا معاملہ پیچھے رہ گیا ہے۔ وہ اچھے معاہدوں کے ذریعے دنیا کی لیڈر شپ حاصل کر سکتے ہیں۔ ماضی میں امریکہ نے سٹیم انجن بنائے۔ اس انجن کے نمونے انہوں نے دوسرے ممالک سے چوری کیے۔ صنعتی انقلاب کے زمانے میں سیموفلیٹر کے نام سے کون واقف نہیں۔ عالمی میڈیا میں ایک زمانے میں اس کا بڑا چرچا تھا۔ اسے امریکی صنعتی انقلاب کا بانی کہا جاتا ہے لیکن 17ویں صدی میں یہی شخص برطانیہ سے ٹیکسٹائل کے ڈیزائن چوری کر کے امریکہ لایا تھا۔ اس لیے چین میں دانشورانہ قوانین اور پیٹن کے قوانین ٹھوس بنیادوں پر استوار کیے ہیں اور اس کے لیے مخصوص عدالتیں تشکیل دے دی گئی ہیں ۔ 2015ءمیں دانشورانہ حقوق اور سبسڈی کے حوالے سے5لاکھ درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ بہت سی چینی کمپنیاں پیٹن قوانین پر غور کر رہی ہیں ،اس سے ہمیں بیرون ملک اچھا معاوضہ مل سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی اب پیٹن کی طرف جارہے ہیں اور میڈ ان چائنہ کا مطلب بھی یہی ہے۔ 2025ءمیں چین روبوٹ، برقی کاریں اور مصنوعی ذہانت میں یورپ اور امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یورپ اور امریکہ چین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ افغانستان کی جان کب چھوڑے گا

چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور لوگوں کو غربت سے باہر نکال رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں دنیا کا ملک ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا ۔ ہمارے اکابرین کو بھی چاہیے کہ وہ ہمسائیگی کا فائدہ اٹھائیں اور چائنہ کی جدید ٹیکنالوجی کو پاکستان میں ٹرانسفر کرنے کی کوشش کریں ۔