votter home

افغان انتخابات، افغانستان کے استحکام میں مشرق وسطیٰ کا استحکام ہے

EjazNews

افغان صدارتی الیکشن میں صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سمیت 18امیدوار میدان میں ہیں۔ سخت سکیورٹی میں افغان عوام نے صدارتی انتخابات کے لیے حق رائے دہی استعمال کیا۔ افغان الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے دورانیہ میں دو گھنٹے کا اضافہ بھی کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔
اس دوران مشرق وسطیٰ کے باقی ممالک کی طرح افغانستان بھی خونریزی ہوئی لیکن باقی ممالک میں ان مواقعوں پر قتل و غارت گری ضرور ہوتی ہے لیکن کہیں پر بم چلنے کی اطلاعات کم ہی ہوتی ہیں لیکن افغانستان میں عوام نے بم دھماکوں کے باوجود اپنے حق رائے دہی کو استعمال کیا۔ ان میں سے بہت سے حملے سکیورٹی گارڈز کی بروقت کارروائی سے ناکام بھی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 37افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5سکیورٹی اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
جنگ زدہ افغانستان پہلے روس کا اکھاڑہ بنا رہا ہے اور امریکہ کے حملے کے بعد سے وہ استحکا م میں نہیں آیا ۔ بم دھماکے اور قتل و غارت گری روز مرہ کا معمول ہے اور شاید نئی نسل کو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ افغانستان ہمیشہ سے ایسا نہ تھا بلکہ افغانستان وہ ملک تھا جس نے ہندوستان میں مسلمانوں کے اقتدار کو بچانے کیلئے اپنی خدمات مہیا کی تھی اور ایک وقت میں ہندوستان کے مرہٹوں کو نیست و نابود کیا تھا۔ لیکن آج کی نسل نے تو جو افغانستان دیکھا ہے وہ قتل و غارت گری والا ہی افغانستان ہے۔ اللہ اس ملک پر ر حم کرے اور اس میں استحکام پیدا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  نریندر مودی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے، کافی ثبوت ہیں: راہول گاندھی
افغان خواتین ووٹ ڈالتے ہوئے

دو مرتبہ ملتوی ہونے والے انتخابات اس دفعہ انعقاد پذیر ہو ئے ہیں جن کا رزلٹ 17اکتوبر کو سامنے آئے گا کہ اقتدار کی کرسی پر کون براجمان ہوتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے افغانستان ایک ہے۔
جس غیر ملکی ادارے نے یہ رپورٹ شائع کی ہے اس کے مطابق شام خطرناک ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر آت ہے اس کے بعد خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں افغانستان دوسرے نمبر پر ہے۔ 2001ءمیں’’ورلڈ ٹریڈ سینٹر‘‘ پر حملے کے بعد امریکہ نے اس کی ساری ذمہ داری افغانستان میں پناہ گزین ،اُسامہ بِن لادن پر ڈال کراپنی فوجیں وہاں بھیج دیں۔تب سے اب تک افغانستان مسلسل انتشار کا شکار ہے۔سیاسی عدم استحکام،حکومت و طالبان کے درمیان چپقلش ،بَیرونی طاقتوں کی دخل اندازی کی وجہ سے مُلک کو بے شمار خطرات کا سامنا ہے ۔جس کے باعث آئے رو ز بمباری و فسادات ہوتے رہتے ہیںاور جس کے نتیجے میں لاکھوں بے گناہ افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران کے پر تشدد مظاہرے،لمحہ فکریہ ہے
افغان ووٹر

اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ دسمبر 1979 ء میں افغانستان میں روسی جارحیت کے بعد سے افغان سُکون کی نیند نہیں سو سکے ۔ وہ اس وقت سے امن کے متلاشی ہیں، آتش و آہن کی بارش ،جنگی جہازوں کاشور اورگولیوں، بمو ں کی خوف ناک آوزیںآج بھی ان کے کانوں میں گونجتی ہیں۔
اس ملک کے استحکا م میں ہی مشرق وسطیٰ کا استحکام مضمر ہے ۔پاکستان کا افغانستان سے بہت گہرا رشتہ ہے، اتنا گہرا کہ کوئی بھی اسے توڑ نہیں سکتا۔ افغانیوں کی بہت سی نئی نسلیں یہی پر پلی بڑھی ہیں اور یہی پرورش پاک کر جوان ہوئیں ہیں اس ملک کے استحکام کے لیے پاکستان نے ہمیشہ سے مثبت کر دار ادا کیا ہے۔