Qandeel-Baloch

قندیل بلوچ کے قاتل کو عمر قید کی سزا

EjazNews

قندیل بلوچ کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا۔سب سے پہلے پشاور کے رہائشی شاہد بلوچ نے دعویٰ کیا تھا کہ جولائی 2003 میں انھوں نے قندیل بلوچ سے کورٹ میرج کی تھی، لیکن ان کے خاندان والوں نے انھیں قبول نہیں کیا تھا، بعدازاں انھوں نے قندیل بلوچ کو طلاق دی تھی۔دوسری بار کوٹ ادو کے علاقے شیخ عمر کے رہائشی عاشق حسین نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی 22 فروری 2008 کو فوزیہ عظیم (قندیل بلوچ) سے شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے جس پر قندیل نے اس کا اعتراف بھی کرلیا تھا۔
اُنہیں 2014 میں اُس وقت شہرت ملی جب ان کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی، جس میں وہ سوال کرتی ہوئی نظر آئیں،میں کیسی لگ رہی ہوں؟
اس کے بعد انھوں قندیل بلوچ آفیشل کے نام سے اپنے فیس بک پیج پر کئی متنازع ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جن پر تنقید بھی کی گئی جبکہ ان کے مداح ان تصاویر اور ویڈیوز کو ماڈل کی آزادی قرار دیتے تھے۔قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کئی طریقے آزمائے، جن کا وہ برملا اظہار بھی کرتی تھیں۔ مفتی عبدالقوی کے ساتھ قندیل بلوچ کی سیلفیز اور ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا جس کے بعد مفتی صاحب کو رویت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا تھا۔
کورٹ نے 2016 میں قتل کی گئیں اداکارہ و ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم اور قندیل بلوچ کے بھائی وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی۔کیس کے تفصیلی فیصلے کے مطابق استغاثہ یہ بات ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ ملزم نے اپنی بہن فوزیہ امین عرف قندیل بلوچ کا قتل ارادتاً کیا تھا چنانچہ اسے قتل عمد (جان بوجھ کر قتل) کا مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔عدالت کی جانب سے فیصلہ سامنے آنے کے بعد مفتی قوی کے سپورٹرز نے عدالت کے باہر خوشی کا اظہار کیا۔ملزم وسیم کے وکیل نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم فیصلے کے خلاف اپیل ہائی کورٹ میں بھی دائر کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چھوٹے بجٹ کی فلموں کا بڑا اداکار