boran a king

سعودی عرب کی پہلی بڑی فیچر فلم

EjazNews

بورن اے کنگ سعودی عرب کے تیسرے بادشاہ کے گرد گھومتی فلم ہے جسے انگریزی زبان میں بنایا گیا ہے۔ فلم میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ برطانیہ اور افریقہ کے معروف اداکاروں نے بھی کردار ادا کیے ہیں۔
فلم کی کہانی ہینری فرٹز نے لکھی ہے ج کہ اس کی ہدایات سپینش ہدایت کار اینڈرس گومیز نے دی ہیں جو اپنی سپینش فلموں کی وجہ سے سب سے آسکر کے لیے بھی نامزد ہوچکے ہیں۔ بورن اے کنگ کو سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر 23 ستمبر کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سمیت دیگر خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں ریلیز کیا گیا تھا۔ فلم کو ابتدائی طور پر اپریل 2019 میں فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا تھا اور اسے متعدد عالمی فلم فیسٹیول میں پیش کیاجانا ہے۔
فلم کی کہانی میںسلطنت عثمانیہ کے بکھرنے اور سعودی عرب میں بادشاہت بننے کے قیام کے ابتدائی دنوں کو دکھایا گیا ہے۔ فلم میں اس وقت عرب ممالک میں خانہ جنگی کو بھی دکھایا گیا اور یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سعودی شہزادے دیگر ممالک کو فتح کرتے آئے ہیں۔
فلم کی مرکزی کہانی سعودی عرب کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کے گرد گھومتی ہے، جنہیں اپنے والد انتہائی کم عمری میں سعودی عرب کے قیام کے لیے مذاکرات کے لیے لندن بھیجتے ہیں۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک کم عمر بچہ اس وقت کے سب سے طاقتور ترین سیاسی رہنماوں جن میں ونسٹن چرچل، برطانوی شہزادی میری اور لارینس آف عربیہ سمیت دیگر رہنما شامل ہیں ان سے ایک بادشاہ کے انداز کی طرح بات کرتا ہے۔ فلم میں شاہ فیصل کے بچپن کا کردار سعودی عرب کے اداکار 18 سالہ عبداللہ علی نے ادا کیا ہے۔
فلم میں برطانوی اداکار و ریپر ای ڈی سکرین، فلموں م،ہارمونی کورفیلڈ، لارنس فاکس، جیمز فلیٹ، سپینش اداکارہ مرینا گتیل اور لیوس ریوس سمیت دیگر اداکاروں نے جوہر دکھائے ہیں۔ فلم کو مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر سعودی عرب میں انتہائی پذیرائی ملی ہے اور اس فلم کو سعودی عرب پر بنائی جانے والی پہلی بڑی فیچر فلم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
فلم کی کہانی لکھنے میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود کے بیٹے اور سعودی عرب کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے لکھاری کی مدد کی اور انہیں اپنے والد کے حوالے سے کئی واقعات بتائے۔

یہ بھی پڑھیں:  گیمز آف تھرون کا نیا سیزن14اپریل سے شروع ہو رہا ہے