Qasim-Suri

ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار

EjazNews

قاسم سوری کی بات کی جائے تو وہ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے بہت متحرک اور بااثر رکن ہیں اور وہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف سے ہی کیا اور وہ 1996 سے اس جماعت سے منسلک ہیں، 2007 میں وہ ایک عہدیدار بن گئے۔اس کے بعد وہ 2009 میں پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر منتخب ہوئے جبکہ 2013 میں انٹراپارٹی انتخابات میں بھی وہ صدر کے عہدے پر منتخب ہوئے۔2013 کے عام انتخابات میں قاسم سوری کو بلوچستان سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے پارٹی ٹکٹ دیا گیا تھا لیکن وہ اس میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے۔تاہم 2018 کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ اس نشست سے انتخاب لڑا اور 25 ہزار 973 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ لشکر رئیسانی 20 ہزار 389 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
قاسم سوری کی انتخابی کامیابی کو نوابزادہ لشکر رئیسانی نے چیلنج کیا تھا اور 2018 انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ لشکر رئیسانی ان 5 امیدواروں میں سے ایک تھے جنہوں نے این اے 265 سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن انہیں قاسم سوری سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے امیدوار کی جانب سے اپنی درخواست میں کہا گیا تھا کہ این اے 265 کے انتخابات میں کل ایک لاکھ 14 ہزار ووٹ ڈالے گئے جس میں سے 65 ہزار ووٹ غلط تھے، انہوں نے اعتراض کیا کہ یہ انتخابات دھاندلی زدہ تھے کیونکہ 65 ہزار جعلی ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔اس درخواست پر جسٹس عبداللہ بلوچ کی سربراہی میں الیکشن ٹریبونل نے سماعت کی تھی اور 14 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے سنایا گیا۔الیکشن ٹریبونل نے این اے 265 کوئٹہ ٹو سے قاسم سوری کی کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کا حکم بھی جاری کردیا۔
واضح رہے کہ قاسم سوری نے عام انتخابات 2018 میں بلوچستان میں قومی اسمبلی کے حلقہ 265 کوئٹہ 2 سے کامیابی حاصل کی تھی۔بعد ازاں وہ 15 اگست 2018 کو 183 ووٹز حاصل کرکے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرتار پور کے بعد ہندووں کیلئے شاردا مندر کھولنے کا فیصلہ