karachi-garbeg

کیا کراچی کے سرکاری محکمے روزانہ صرف کراچی کا کچرا اٹھا سکتے ہیں؟

EjazNews

کراچی میں صوبائی محکمہ داخلہ نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کی ہے جس کے تحت کچرا پھینکنے اور پان کی پیک تھوکنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مراسلہ کے ذریعے عوام الناس کو باور کروا گیا ہے کے دفعہ 144 کی رو سے گلی محلے میں اور گھر کے سامنے کچرا پھینکنا یا ساحل پر اور چلتی گاڑی سے سڑک پر گندگی پھیلانا قانوناً جرم قرار پایا ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ تعمیراتی کام کا ملبہ پھینکنے بھی گندمی میں شمار ہوگا اور اس پر بھی جرمانہ عائد کیا جائے گا۔یاد رہے حکومت نے اگلے 90 دنوں کے لیے قابل اسے جرم قرار دے دیا ہے۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے سندھ بھر میں قائم تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے اور ساتھ ہی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188کے تحت مقدمات درج کرنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس سے آگاہی دیں ، خدارا ڈرائے نہیں

محکمہ داخلہ کی جانب سے کچرا پھینکنے اور گندگی پھیلانے کی روک تھام کے لیے سندھ بھر میں دفعہ 144کے نفاذ کے بعد کراچی میں پہلی گرفتاری بھی عمل میں آگئی ہے۔یہ گرفتاری تھانہ سکھن پولیس کی جانب سے کی گئی جنہوں نے بھینس کالونی میں جانوروں کا فضلا اور باڑے کا کچرا سڑک کنارے ڈالنے پر ایک شخص کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا۔
کراچی اور بالعموم تمام سندھ میں صفائی کی ابتر حالت کی وجہ سے صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی سیاسی اور انتظامی صلاحیت و قابلیت پر سوال اٹھ رہے ہیں، اور وفاقی حکومت کی جانب سے بھی انہیں لگاتار تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ کے سندھ حکومت اس صفائی مہم کی کامیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
کراچی میں روزانہ 14ہزار ٹن سے زائد کچرا جمع ہوتا ہے، لیکن شہر کے تمام انتظامی اور بلدیاتی اداروں کی مشترکہ طور پر بھی اتنی صلاحیت نہیں کے وہ روزانہ کی بنیاد پر اس کچرے کو ٹھکانے لگا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچرا پڑے پڑے تعفن پیدا کرتا ہے، جلا دیا جائے تو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا ہے اور گٹر لائنوں اور نالوں میں شامل ہو کر انہیں جام کرنے کا سبب بنتا ہے۔
سندھ حکومت کی کلین مہم میں بمشکل 10 ہزار ٹن کچرا اٹھایا جا رہا ہے، جسے شہر میں ہی قائم عارضی گاربیج ٹرانسفر سٹیشن پر اکھٹا کیا جا رہا ہے۔ یعنی حکومت سندھ کے پاس کسی بھی صورت میں وہ صلاحیت ہی نہیں کے شہر سے روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھا کر اسے لینڈ فل سائٹس تک لے جایا جا سکے۔
صرف کراچی میں 2 ندیاں،13 بڑے اور 250کے لگ بھگ چھوٹے برساتی نالے ہیں جن کے ذریعے شہر بھر کی غلاظت، گٹرکا پانی، ہسپتالوں اور فیکٹریز کا کچرا بلا روک ٹوک سمندر برد ہو رہا ہے۔ درمیان میں کوئی ایسا ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں، جو اس کچرے کو سمندر میں جانے سے روک سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری حکومت کاروبار دوست ہوگی،کاروباربڑھانے کا موقع دیں گے : وزیراعظم عمران خان

جب حالات یہ ہے کہ آپ کے پاس کوئی متبادل انتظام ہی نہیں ہے تو کیا پھر کراچی کے شہری اب اپنے اپنے گھروں کو متعفن کریں گے۔ کیا سندھ حکومت کی کارپوریشنوں میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ سارا کوڑا جمع کر سکیں یا پھر سندھ حکومت کے پاس کوئی ایسی کمپنی ہے جو گھروں ، فلیٹوں ، دفاتر ،ہسپتالو ں اور چھوٹے بڑے کاروباری مراکز کا روزانہ کی بنیاد پر کچرا اٹھا سکے؟۔