divorce-kula

خلع کسے کہتے ہیں ؟اور اس کے احکام

EjazNews

خلع کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟
مال کے بدلے میں طلاق دینے کو خلع کہتے ہیں یعنی میاں بیوی کے درمیان نا اتفاقی پیدا ہو جائے اور بیوی کسی صورت میں اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہے تو اپنے خاوند کے دئیے مہر کو واپس کر دے یا معاف کر دے اور خاوند اس کے عوض میں طلاق دیدے جس طرح مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی وجہ سے اگر بیوی پسند نہیں اور نباہ نہیں ہو سکتا تو طلاق دے سکتا ہے اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ خاونداسے پسند نہیں ہے اور کسی صورت میں نباہ نہیں کر سکتی تو مال دے کر اپنی خلاصی کر اسکتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ اسلام میں سب سے پہلا خلع حضرت ثابت بن قیسؓ کی بیوی نے کیا تھا۔ (مسند بزار)
فتح الباری کی عبارتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ثابت کی دو بیویاں تھیں اور یکے بعد دیگرے دونوں نے خلع کیا تھا ایک کا نام جمیلہ بنت ابی تھا۔ انھیں حضرت ثابت کی شکل و صورت پسند نہ تھی۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنے خاوند کی یوں شکایت کرتی ہیں کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اور ثابت دونوں ایک جا نہیں رہ سکتے۔ اور میرے اور ثابت کے ساتھ کوئی چیز جمع نہیں کر سکتی۔ ایک دفعہ میں نے گھر کے پردے کو اٹھا کر دیکھا تو میرے خاوند ثابت چند آدمیوں کے ساتھ آرہے تھے میںن ے ان کو دیکھا تو ہ سب سے زیادہ پستہ قد اور سب سے زیادہ سیاہ فام تھے خدا کی قسم میں دین اور اخلاق میں کوئی خرابی نہیں دیکھتی۔ صرف ان کی بدصورتی کی وجہ سے وہ مجھے ناپسند ہیں۔ اگر خدا کا خوف نہ ہوتا تو ان کی بدصورتی کی وجہ سے ان کے منہ پر تھوک دیتی اور میری خوبصورتی کو آپ دیکھتے ہیں اور ثابت بہت بد صورت ہیں ان کی اطاعت اور فرماں برداری نہیں کر سکتی اور خاوند کی نافرمانی سے میں ڈرتی ہوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ”جو اُس نے مہر میں تجھے باغ دیا ہے اسے واپس کر دوگی؟ انہوں نے کہا ؟ بلکہ اورزیادہ دینے کو تیار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ کی ضرورت نہیں ہے اس کے باغ کو واپس کر دو۔ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثابت ؓ سے فرمایا:”تم اپنے باغ کو قبول کر لو اور اس کو طلاق دے کر چھوڑ دو۔ “ (بخاری)
حضرت ثابت ؓ کی دوسری بیوی حبیبہ بنت سہل انصاریہ ہیں۔ ان کا واقعہ ابوداﺅد اور امام مالک ؒ نے یوں بیان کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے اپنے دولت خانہ سے باہر تشریف لائے تو دروازہ پر حبیبہ کو کھڑا پایا ۔ دریافت فرمایا کیا بات ہے ؟ حبیبہ نے کہا مجھ میں اورثابت میں اب نہیں بنھ سکتی ہے۔ اس نے اتنا مارا ہے کہ ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اس کا دیا ہوامال میرے پاس موجود ہے۔ ثابت ؓ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنے مہر کو واپس کر لو۔ اور اسے چھوڑ دو۔ ایسے لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی
ترجمہ:اور تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ جو کچھ تم اپنی بیویوں کو دے چکے ہو، وہ واپس لے لو مگر یہ کہ دونوں میاں بیوی کو اس بات کا خوف ہو کہ اللہ کی حدوں پر نہیں قائم رہ سکیں گے تو ایسی حالت میں جبکہ تم کو اندیشہ ہو کہ دونوں میاں بیوی اللہ کی حدود پرقائم نہ رہ سکیں گے تو کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ اگر عورت کچھ بدلہ دے کر اپنے نفس کو چھڑا لے۔ “ (البقرہ)
اس آیت کریمہ سے خلع کا مسئلہ ثابت کیا جارہا ہے کہ جب دونوں میاں بیوی کو یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر قائم نہ رہ سکیں گے اور دونوں میں میل ملاپ نہیں رہ سکے گا اور وہ آپس میں نباہ نہ کرس کیں گے تو جس طرح مرد کو طلاق دینے کا اختیار دیا گیا ہے اور مہر دینے کا حکم دیا گیا ہے تو عورت بھی جب کہ عقد نکاح سے آزاد ہونا چاہتی ہے تو مال دے کر مہر واپس کر کے یا معاف کر کے طلاق لے لے اور جب عورت یہ فدیہ پیش کرے تو مرد کو قبول کر لینا چاہئے قرآن مجید میں فدیہ کا لفظ عام ہے جو بھی آپس کے سمجھوتے میں طے ہو جائے خواہ مہر ہو یا اس سے زیادہ ہو یا اس سے کم ۔
حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں اس آیت کریمہ کے تحت میں فرماتے ہیں کہ جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ خلع میں عورت سے اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لے لے تو بھی جائز ہے کیونکہ قرآن مجید نے ”فیما افتدت بہ“ فرمایا ہے۔
حضرت عمرؓ کے پاس ایک عورت بگڑتی ہوئی آئی آپ نے فرمایا اسے گندگی والے گھر میں قید کر دو۔ پھر قید خانہ سے اسے بلویاا اور کہا کیا حال ہے اس نے کہا آرام کی رات میری زندگی میں یہی گزری ہے۔ آپ نے اس کے خاوند سے فرمایا اس سے خلع کر لے۔ اگرچہ گوشوارہ کے بدلے ہی ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ اسے تین دن وہاں قید رکھا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا یہ اپنی چٹیا کی دھجی بھی دے تو لے لے اور الگ کر دے۔ حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں کہ اس کے سوا سب کچھ لے کر بھی خلع ہو سکتا ہے۔ ربیع بنت معوذ بن عفراء فرماتی ہیں میرے خاوند جب موجود ہوتے تو بھی میرے ساتھ سلوک کرنے میں کمی کرتے اور کہیں چلے جاتے تو بالکل ہی محروم کر دیتے۔ ایک مرتبہ جھگڑے کے موقع پر میں نے کہہ دیا کہ میری ملکیت میں جو کچھ ہے لے لو اور مجھ سے خلع کر لو۔ اس نے کہا ہاں ! اور معاملہ فیصل ہو گیا۔ لیکن میرے چچا معاذ بن عفراءاس قصہ کو لے کر حضرت عثمان ؓ کے پاس گئے۔ حضرت عثمانؓ نے بھی اسے برقرار رکھا اور فرمایا کہ چوٹی کی دھجی چھوڑ کر اورسب کچھ لے لو۔ بعض روایتوں میں ہے کہ اگر اس سے بھی چھوٹی چیز ہو غرضیکہ سب کچھ لے لو۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے پاس جو کچھ ہے دے کر وہ خلع کراسکتی ہے اور خاوند کی دی ہوئی چیز سے زائد لے کر خلع کرنا جائز ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
مختلعہ بغیر حلالہ کے اپنے اول خاوند کے لئے حلال ہے یا نہیں؟
حلال ہے کیونکہ خلع سے طلاق بائن پڑتی ہے اورطلاق بائن میں حلالہ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ البتہ نکاح جدید کی ضرور ضرورت پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عدت کا بیان