The Mudlark-child

ملکہ وکٹوریہ کے عشق میں مبتلا بچے کی کہانی

EjazNews

ملکہ وکٹوریہ اپنے عہد جوانی کے لیے برطانویوں کے لیے بڑی پرکشش شخصیت تھیں یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ ان سے شادی کے خواہش مند تھے ۔آئے روز طرح طرح کے پیغامات مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہتے تھے ۔
14دسمبر 1838ءکی رات کو ایک باورچی کو اپنی کھڑکی کے باہر ایک سایہ دکھائی دیا ایک دھندلا سا ہیولا ،اسے کہیں حرکت کرتا دکھائی دیا۔ باورچی نے باہرنکل کر دیکھا ادر ادھر دیکھا سکیورٹی والوں کو اطلاع کی انہوں نے تلاش کیا لیکن کچھ نہ ملا۔ تھک ہار کر سب اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ باورچی اپنے کاموں میں اور سکیورٹی والے مین گیٹ پر کھڑے ہوئے۔ کچھ ہی دیر بعد جب محل کے کمرے میں وکٹوریہ پہنچی تو انہیں ہر چیز الٹ پلٹ نظر آئی جس سے پورے محل میں لہر دوڑ گئی کسی انجانے شخص نے ہر شے الٹ پلٹ کر دی تھی۔ ان کے کمرے کی بڑی بری طرح تلاشی لی گئی تھی جیسے کسی نے کوئی خاص چیز تلاش کرنے کی کوشش کی ہو۔
تب انہیں باورچی اور لانڈری والے کا خیال آیا جب انہوں نے کسی کو بھاگتے دیکھا جو بعد میں اگلے روز اسی روشنی میں انہیں ایک لڑکے کا ہیولا دکھائی دیا ، کالے سیاہ رنگ کا ہیولا۔ کچن کی روشنی سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے منہ پر بری طرح گریس لگی ہوئی تھی، کپڑے بھی چپے چپے ہوئے تھے یہ بھی ایک عجیب لڑکا تھا۔ پولیس نے اسے پینٹ اتارنے کو کہا تو پتہ چلا اس نے اپنی قمیض کے نیچے ایک اور قمیض پہن رکھی ہے اور وہی اس نے ملکہ وکٹوریہ کے کچھ سلے اور ان سلے کپڑے چھپا رکھے تھے۔ قمیض کے اترتے ہی کپڑے زمین پر گر گئے۔ پھر شیشہ ٹوٹنے کی آواز آئی انہی کپڑوں میں اس نے ملکہ وکٹوریہ کی ایک تصویر بھی چھپا رکھی تھی۔
اس لڑکے کا نام جونز تھا۔ یہ کسی طریقے سے ملکہ کے محل میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گیا اور پھر اس نے مزے سے اس کی راہداریوں ، کمروں اور بیڈرومز کا جائزہ لیا اور اپنے پسند کی کچھ چیزیں اٹھالیں۔ اس کے کچھ خطوط بھی دستیاب ہوئے۔ خوش قسمتی سے اس وقت ملکہ اپنے کمرے میں نہ تھی اس رات وہ ونڈسل کاسل میں سوئی شاید یہ جنونی بچہ انہیں کہیں نقصان نہ پہنچا دیتا تب بچے نے اپنا نام ایبٹ کاٹن بتایا۔وہ سارا دن چمنی کے اندر چھپا رہتا اور اس نے ایک سال ملکہ کے محل میں گزار دئیے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا۔ وہ سارا دن چمنی میں چھپا رہتا جوہی رات گزرتی وہ چمنی سے نیچے آجاتا سب اپنے اپنے کمرے میں سو رہے ہوتے ۔پولیس دروازے پر الرٹ کھڑی ہوتی وہ تو محل کے اندر تھا وہ آج نہیں ایک سال پہلے محل کے اندر داخل ہوا تھا تب اس پر دو چار دفعہ کسی کی نظر پڑی تھی وہ اسے کھوجنے میں ناکام رہے۔ کچھ لوگوں نے اس کا پیچھا بھی کیا اسے تلاش کرنے کی کوشش بھی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کوئی بچہ چمنی میں چھپا ہوا ہے ۔را ت کو وہ محل کے اندر آجاتا اور کبھی کبھی کھانے کی میز کے نیچے چھپ جاتا ،ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ وہ میز کے نیچے بیٹھا ہوا تھا ملکہ اور اس کے دوسرے اہل خانہ اوپر بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہوتے ۔دو چار دفعہ اسے ملکہ اور اس کی کابینہ کی گفتگو سننے کا بھی موقع مل گیا۔ کابینہ وہی موجود ہوتی وہ نیچے چھپا ہوتا اوپر قومی سلامتی کے منصوبے بن رہے ہوتے نیچے جونز سلامتی کی تمام حدود کو توڑتا ہوا مزے سے ان کے منصوبے توڑ رہا ہوتا۔ کابینہ کے تمام اجلاس کی تفصیلات اس نے اپنے کانوں سے سنی۔ کبھی کبھی تو اسے بہت ذاتی باتیں سننے کا موقع بھی مل گیا۔ چمنی میں رہنے کی وجہ سے وہ بہت گندا دکھائی دے رہا تھا ۔وہ اپنے آپ کو جب زیادہ ہی گندامحسوس کرتا تو کبھی کبھار باورچیوں کے جانے کے بعد وہ کچن میں گھس جاتا جہاں اس کے سوا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اس رات کی تاریکی میں وہ کچن کے نلکے سے اپنے چہرے کو آہستہ آہستہ صاف کرتا ۔ اس کا تھوڑا بہت گند اتارتا کبھی کبھی وہ اس طرح قمیض بھی دھو لیتا تھا۔ پورے ایک سال میں اس نے کبھی پینٹ دھونے کی ضرورت محسو س نہ کی اسی لیے گندا ملیج دکھائی دے رہا تھا لیکن اسے تو ملکہ وکٹوریہ سے محبت تھی اسی لیے اس چھوٹے بچے نے ایک سال چمنی میں گزار دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:  میں پنجاب جارہی ہوں ،فلم کی پروموشن کیلئے:مہوش حیات

اس زمانے میں ملکہ وکٹوریہ کے تمام انکلز بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ عمر کی آخری بہاریں دیکھ ر ہے تھے کچھ کرنے کے قابل نہ تھے۔ اس کے باوجود کرپٹ تھے۔ بادشاہوں کا بھی یہی حال تھا۔ ایسے میں قوم کو ملکہ وکٹوریہ سے بہت امیدیں وابستہ تھیں معصومیت ان کے چہرے سے ٹپکتی تھیں ،وہ ایک سیلبرٹی تھیں لوگ انہیں روزانہ ہی ہزاروں خطوط لکھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی تو شادی کی دستاویزات گلدستوں کے ساتھ محل کی دیواروں کے آس پاس دکھائی دیتے ۔
جولائی1838ءمیں تھامس لور نامی ایک شخص ملکہ کے بیڈ روم میں گھس گیا خوش قسمتی سے ملکہ وہاں موجود نہ تھیں وہ ان کی کرسی پر بڑے آرام سے سوتا رہا اور باہر حفاظتی عملہ سوتا رہا۔یہ بھی ان کا ایک پرستار تھا جو کسی طریقے سے محل میں گھسنے میں کامیاب ہو گیا اور پھر تھک ہار کر ملکہ وکٹوریہ کے بیڈ روم کی کرسی پر اوندھے گر کر سو گیا اسے جیل ہو گئی۔ لیکن دو دوستوں نے 50پاﺅنڈ جرمانہ ادا کر کے اسے رہا کرالیا۔ ملکہ کی حفاظت کا فریضہ اور محل کو چلانے کی ذمہ داری نا اہلوں کے سپرد تھی، اس کام کے لیے کئی ڈویژن اور دفاتر قائم کیے گئے۔ مثلاً صرف کھڑکیوں کی صفائی کے لیے دو محکمے بنائے گئے تھے ان کا کام کھڑکیوں کی صرف اندرون و بیرون اطراف صفائی تھا۔ایک محکمہ کھڑکیوں کی بیرونی اور دوسرا اندرونی صفائی پر معمور تھا ،ایک دفعہ ملکہ نے کچھ جلانے کے لیے آگ کی خواہش ظاہر کی۔ نو کر دائیں بائیں بھاگتے رہے انہیں کچھ سمجھ نہ آیا کہ ملکہ کو کچھ گرم کرنے کے لیے آگ کیسے مہیا کی جائے۔ سکیورٹی تو بہت سست اور بے ڈھنگی تھی۔ برمنگھم پیلس کی سکیورٹی کا عالم بھی یہی تھا۔ رائل باڈی گارڈ میںاے ڈویژن کے جوان شامل ہوتے تھے۔ جو اکثر اپنی ڈیوٹی سے غائب رہتے۔ جبھی تو جونز کو محل میں داخل ہونے کا موقع مل گیا۔ محل کی دیواریںبھی اونچی نہ تھیں کوئی بھی درختوں کا سہارا لے کر اندر گھس جاتا۔ محل کے اندر باغ کے ساتھ شرابی اور ایسے لوگ سو رہے ہوتے۔ فوجیوں نے بھی اسے اپنا بیڈ روم سمجھ رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک گروہ میرے خلاف سازشیں کررہا ہے:اے آر رحمٰن

ایڈورڈ کوٹن یعنی جونز کو 19دسمبر کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کے چہرے پر کوئی پریشانی نہ تھی۔ کمرہ صحافیوں سے کھچا کھچ بھرا تھا، ایسے میں کئی لوگوں نے جونز کو شناخت کر لیا اور اس کا نام ایڈورڈ جونز بتایا۔ اس کے باپ کی بھی شناخت کر لی گئی۔ مجسٹریٹ کو لگا کہ وہ کوئی جاسوس ہے۔ تم جاسوس ہو یا چور اس نے سوال کیا۔ نہیں میں کچھ بھی نہیں۔ تو پھر میں تمہیں جیل بھیج دوں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔ لیکن وہ کہتا تھا کیا میرے دل کو بھی جیل بھیج دیں گے۔ لڑکے نے پرسکون لہجے میں جواب دیا وہ کہتا تھا کہ کیا میرے دل کو بھی میرے ساتھ قید کی سزا ملے گی۔
ہر سماعت کے موقع پر کمرہ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوتا۔ لوگ اس ننھے عاشق کی کہانی سننے کے لیے ہر بار عدالت میں امڈ آتے ۔کبھی کبھی تو ان پر قابو پانے کے لیے پولیس کی مدد لینا پڑتی بعض لوگوں نے تو اسے انتہائی ذہین اور شاطر بچہ قراردیا، اس کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی تجویز پیش کی گئی ۔ شام کو محل میں آجانا پورے محل میں گردش کرنا یہ کوئی بے وقوف بچہ تو نہیں کرسکتا۔
جج نے بالآخر جونز کو رہا کردیا۔ اس کے دو سال بعد ملکہ وکٹوریہ کے ہاں پہلا بیٹا پیدا ہوا پرنس ایلبرٹ ۔3دسمبر 1848ءکو ملکہ کی آیا کو اس کے صوفے کے نیچے کچھ حرکت محسوس ہوئی اس نے مڑ کر دیکھا تو جونز پھر وہی چھپا ہوا تھا۔”تصور کیجئے کوئی میرے بیڈ روم میں گھس آیا ہے ، میں کس قدر خوف زدہ ہوئی ہوں گی وکٹوریہ نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے لکھا“ جونز ایک مرتبہ پھر گرفتار ہوگیا ایک مرتبہ پھر وہ سلاخوں کے پیچھے تھا اس مرتبہ اسے 3ماہ کی سزا ہوئی ۔ مارچ میں رہائی پانے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ملکہ کے محل میں گھس گیا اور ایک مرتبہ پھر 3مہینوں کے لیے جیل چلا گیا۔ پہلی مرتبہ اسے نرم سزا ملی تھی۔ اب کی بار قید سزا با مشقت تھی۔ عدالت کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس ننھے عاشق کے ساتھ کیا کرے، جرم جرم ہوتا ہے مذاق نہیں ہوتا اگر یہ جرم کوئی جذبات میں کرے تو عدالت کیا کرے ،نیک نیتی سے کرے تو عدالت کون سے جرم اس پر عائد کرے۔ ہر سماعت کے موقع پر جج صاحب یہی سوچتے رہے کبھی سر کھجاتے اور کبھی جونز کی طرف دیکھتے اور پھر قانون کی کتابوں میں کھو جاتے وہ اسے زندگی بھر تو برطانیہ کی جیل میں رکھنے سے قاصر تھے۔ بالآخر جونز کو برطانوی بحریہ میں نوکری کی پیشکش ہوئی۔ بحریہ میں نوکری کے ذریعے ملکہ وکٹوریہ اور اس کا محل اس سے نجات پا سکتا تھا۔ وہ گہرے پانیوں میں محو سفر رہتا اور اسے بھول جاتا پختہ ذہن کے جونز نے بڑے سادے طریقے سے یہ نوکری ٹھکرا دی اسے ملکہ وکٹوریہ کے سوا دنیا کی کوئی عورت اچھی نہ لگتی تھی۔ وہ بہت زبردست کردار تھا۔ لیکن وہ کوئی پاگل یا خبطی نہ تھا بس اکھڑ تھا اور اپنے موڈ کا پکا تھا۔
ایک مرتبہ پھر رہائی کے بعد جونز کو حکومت نے زبردستی برازیل بھجوا دیا۔ جہاں وہ سمندری جہاز پر 6سال قید رہا۔ دوران قید اسے شراب نوشی کی عادت پڑگئی اور وہ چوری چکاری بھی کرنے لگا۔ وہ اپنے برطانیہ کے محل کو کیسے بھول سکتا تھا، چنانچہ پھر برطانیہ واپس آپہنچا پھر پکڑا گیا لیکن اس مرتبہ حکومت نے اسے آسٹریلیا بھجوا دیا۔ اس مرتبہ اس نے آسٹریلیا میں چھوٹی موٹی چیزیں بیچ کر کچھ پیسے کمائے اور گزارہ کیا لیکن اس کی آخری منزل لندن تھی وہ پھر کسی طریقے سے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ۔چنانچہ حکومت نے اسے پھر آسٹریلیا بھجوا دیا اس مرتبہ اس نے پرتھ میں ایک مزدور کی طرح محنت مزدوری کی ۔ وہ سامان پیٹھ پر لادتا اور منزل مقصود تک پہنچا دیتا جس سے اسے کچھ پیسے مل جاتے ۔اس مرتبہ وہ لندن جانے کے لیے ٹکٹ کے پیسے اکٹھے کر رہا تھا۔ 1980ءکی دہائی میں اس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ ملکہ ہی کی باتیں کرتاتھا اور اپنی قید کے واقعات کو لطیفوں کی طرح بیان کرتا ۔ آسٹریلیا میں بھی اس کی یہی حالت تھی۔ ایک روز 1893ءمیں گہرے پانیوں میں ایک آدمی کی لاش ملی یہ لاش جونزکی تھی۔ وہ سمندر کے کنارے پر بیٹھا شراب پی رہا تھا کہ نشے میں دھت حالت میں گہرے پانیوں میں گر گیا اس کے بعد سے ملکہ وکٹوریہ نے مزید سپاہی بھرتی کر لیے۔
ٹھہرئیے”یہ کوئی حقیقی کہانی نہیں ہے بلکہ 1950ءمیں ریلیز ہونے والی ایک فلم The Mudlarkکی کہانی ہے جس میں ملکہ وکٹوریہ کا کردار Irene Dunneنے ادا کیا جبکہ جونز کا کردار اینجو رے نے نبھایا اور خوب نبھایا“۔

یہ بھی پڑھیں:  2ماہ بعد سائرہ اور شہروز نے طلاق کی تصدیق کر دی