divorce rajiyi

طلاق رجعی کسے کہتے ہیں ؟

EjazNews

رجعی طلاق کسے کہتے ہیں اور کے کیا احکام ہیں؟
رجعی اور رجعت کے معنی لوٹا لینے کے ہیں اور ایک یا دو طلاق دے کر عدت کے اندر طلاق کو لوٹا لینے اور واپس کر لینے کو رجعی طلاق کہتے ہیں۔ عدت میں واپس نہ کر لینے کی وجہ سے دوبارہ نکاح کی ضرورت پڑے گی۔ جب کہ بیوی بھی اس پر راضی ہو اور اگر راضی نہیں ہے تو نکاح نہیں ہو سکتا اور عدت میں بغیر اس کی رضا مندی کے لوٹا سکتے ہیں۔
قرآن مجید میں ہے:
ترجمہ: اوران مطلقہ عورتوں کے خاوند ان عورتوں سے (عدت میں)لوٹا نے کے حق دار ہیں بشرطیکہ اصلاح مقصود ہو۔ (البقرہ)
اور حدیث گزر چکی ہے بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے حیض کی حالت میں اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لٹا لینے کا حکم دیا اور لوٹاتے وقت دو اچھے آدمیوں کو گواہ بنا لینا چاہئے۔ حضرت عمران بن حصین ؓنے فرمایا : ”عورت کو طلاق دیتے وقت گواہ بنا لو اور اس سے رجوع کرتے وقت گواہ بنا لو۔ “ (ابوداﺅد )
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ طلاق رجعی کے بارے میں فرماتا ہے:
ترجمہ: ”پس جب عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انھیں یا تو قاعدے کےساتھ اپنے نکاح میں رہنے دویا دستور کے مطابق الگ کردوا ور آپس میں دو عادل شخص گواہ کر لو اور اللہ کی رضا مندی کے لئے ٹھیک ٹھیک گواہی دو یہی ہے وہ جس کی اسے نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جس کا اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کاایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (الطلاق)
یعنی عدت والی عورتوں کی عدت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے توان کے خاوندوں کو چاہئے کہ دونوں باتوں میں سے ایک کر لیں۔ یا تو انھیں بھلائی اور سلوک کے ساتھ اپنے نکاح میں روک رکھیں یعنی طلاق جو دی تھی اس سے رجوع کر کے باقاعدہ اس کے ساتھ بودو باش رکھیں یاانھیں اور طلاق دیدیں۔ لیکن برا بھلا کہے بغیر، گالی گلوچ دئیے بغیر سرزنش اور ڈانٹ ڈپٹ کئے بغیر ۔ بھلائی، اچھائی اور خوبصورتی کے ساتھ یہ یاد رہے کہ رجعت کا اختیار اس وقت ہے جب ایک طلاق ہوئی ہوی ا دو ہوئی ہوں۔ پھر فرماتا ہے اگر رجعت کا ارادہ ہو اور رجعت کر لو یعنی لوٹا لو تو اس پر دو عادل مسلمان گواہ رکھ لو۔
ابوداﺅداور ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سےدریافت کیا گیا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے پھر اس سے رجوع کرتا ہے، نہ طلاق پر گواہ رکھتاہے، نہ رجعت پر۔ تو آپ نے فرمایا کہ اس نے خلاف سنت طلاق دیا اور خلاف سنت رجوع کیا۔ طلا ق پر بھی گواہ رکھنا چاہئے اور رجعت پر بھی اب دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
حضرت عطاءرحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں نکاح طلاق رجعت بغیر دو عادل گواہوں کے جائز نہیں۔ جیسا کہ فرمان خدا ہے۔ ہاں مجبوری ہو تو اوربات ہے۔
طلاق بائن اور طلاق مغلظ:
اور اگر دو طلاق دیدی اور عدت میں رجوع نہیں کیا تو عدت کے ختم کے بعد دونوں میاں بیوی اگر راضی ہوں تو دوسرا نیا نکاح کر کے زن و شوہر رہ سکتے ہیں اور طلاق بائن میں بھی عدت کے بعد نیا نکاح ہو سکتا ہے اور اگر تین طہر میں بغیر جماع کے تین طلاق علیحدہ علیحدہ دی ہیں تو بغیر حلالہ کے اس خاوند سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دو طلاق تک لوٹا لینے کا حق ہے۔
قرآن مجید میں ہے :
ترجمہ: ”اگر اس دو طلاق کے بعد تیسری طلاق دیدے تو اس کے لئے حلال نہیں ہے یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ “
اس آیت کا بیان پہلے آیت ”الطلاق مرتن “الخ ۔ کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور حدیث عسیلہ میں بھی آچکا ہے کہ دوسرا خاوند بھی اس سے ہم بستر ہو چکا ہو اوربلا کسی جبرو اکراہ و طمع کے اپنی خوشی سے طلاق دے یا مر جائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد پہلے خاوند سے نکاح کرنا جائز ہو گا۔ اگر دوسرا خاوند اس ارادے سے نکاح کرتا ہے کہ دو ایک روز رکھ کر اور جماع کر کے چھوڑ دے تاکہ پہلے خاوند کے لئے نکاح کرنا جائز ہو جائے تو ایسا کرنے والا ملعون ہے۔
حدیث میں ہے:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محلل اور محلل لہ دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔“(دارمی، ابن ماجہ)
اور اس محلل کو اُدھار سانڈ فرمایا ہے اور یہ نکاح متعہ کے حکم میں ہے جوکہ حرام ہے۔ اور اگر کوئی ایک مجلس میں ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دیدے یعنی یوں کہے کہ میں تجھے تین طلاقیں دیدے ، یعنی یوں کہے کہ میں تجھے تین طلاقیں دیتا ہوںیا یوں کہے کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو چاروں اماموں کے نزدیک یہ تینوں طلاقیں پڑ جاتی ہیں اور بغیر حلالہ کے پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہے اور اہل حدیث کے نزدیک اس صورت میں ایک رجعی طلاق پڑتی ہے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کے زمانے میں اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور خلافت میں تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتی تھیں۔ (مسلم)
اور حضرت رکانہ ؓ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دیدی تھیں۔ انھیں بڑا صدمہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ہے تم رجوع کر لو۔ “ (ابویعلی ، نیل الاوطار)
ہنسی میں طلاق :
اگر کوئی ہنسی ہنسی طلاق دیدے تو طلاق پڑے گی یا نہیں؟
پڑ جائے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”تین باتیں ایسی ہیں کہ سچ مچ سچ ہے اور مذاق اور ہنسی بھی سچ ہے۔ (۱) نکاح (۲) طلاق (۳) رجعت۔

یہ بھی پڑھیں:  غصہ اور دیگر حالات میں دی گئی طلاق کا بیان