tayb urdgan

جنوبی ایشیاءکے استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے جدا نہیں کیا جاسکتا :ترک صدر طیب اردگان

EjazNews

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی صحیح رہنمائی کی طرف جارہے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اردگان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے باوجود 80لاکھ افراد کشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 72سال سے مسئلہ کشمیر کا تنازع اپنے حل کا منتظر ہے۔ اس معاملے کو انصاف، مذاکرات اور برابری کی بنیاد پر حل ہونا بہت ضروری ہے۔ رجب طیب اردگان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ 15مارچ کو کرائسٹ چرچ کی مسجد پر حملے میں 51نمازی شہید ہوئے اس دن کو ہرسال اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی یوم یکجہتی کے طور پر منایا جائے ۔ جبکہ منتخب صدر محمد مرسی کی عدالت میں شہادت اور ان کے خاندان کو تدفین کی اجازت نہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو اجازت نہ دے کر ہمارے دلوں میں کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
انہوں نے اپنی تقریر میں سمندر میں ڈوب کرمرنے والے شامی بچے ایلان کی تصویر دکھائی اور اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بہت جلد ایلان کو بھول گئی ، انسانیت کی قسمت مٹھی بھر ممالک کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ ی جاسکتی۔
جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں فلسطین کا نقشہ دکھاتے ہوئے طیب اردگان کا کہنا تھا کہ اسرائیل تقریباً سارے ملک پرقبضہ کرچکا ہے لیکن اس کی لالچ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ وہ بقیہ علاقے کو بھی لوٹنا چاہتا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل پیرا نہیں تو یو این نے کیا کر دار ادا کیا؟یروشلم میں دارالحکومت منتقل کرنا اقوام عالم کے منہ پر تھپڑ کے مترادف ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے کے پلیٹ فارم سے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا پانچ سے بڑی ہے۔ دنیا میں نا انصافی کے سائے تلے ترکی انسانیت کی آواز بن گیا ہے۔ شامی بچے کا درد، غزہ کے یتیم کا غم، یمن اور صومالیہ میں اولاد کو ایک روٹی فراہم نہ کرنے والے باپ کا دکھ اور کشمیری بھائیوں کو درپیش مشکلات کو ہم محسوس کرتے ہیں۔ ماضی کی طرح آج بھی ترکی رنگ ونسل کی تفریق کیے بغیر ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نریندر مودی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے، کافی ثبوت ہیں: راہول گاندھی

جبکہ اس تقریر کے بعد وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکاﺅنٹ کے ذریعے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھانے اوراس دیرینہ تنازع کے حل کی ضرورت پر زور دینے پر ترک صدر اردگان کاشکریہ ادا کیا۔ ان کا کہناتھا کہ میں ترک صدر جناب اردگان کامشکور ہوں ۔ کشمیر کے محاصرے کا حوالے دیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باودود 80لاکھ لوگ مقبوضہ کشمیر میں محصور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اردگان کے اس بیان کو کہ جنوبی ایشیاءکے استحکام و خوشحالی کو مسئلہ کشمیر سے جدا نہیں کیا جاسکتا نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان امن عمل :فریقین پھونک پھونک کا قدم رکھ رہے ہیں