kashmir in threat

کشمیری مسلمانوں کاقتل عام اور جنگ آزادی کا آغاز

EjazNews

جموں وکشمیر میں ان تمام سازشوں کے باوجود وہاں کے مسلمانوں کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے تھے اور وہ کسی صورت میں بھی ہندو کی غلامی کوقبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ 19جولائی1937ء کو آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس جو کشمیری مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت تھی اور اس عہد کی کشمیر اسمبلی (پر جیہ سبھا) میں منتخب شد ہ مسلمان اراکین کی اکثریت بھی ابھی اسی جماعت سے وابستہ تھی ۔نے اپنے کنونشن میں ایک قرارداد پاس کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ چونکہ جغرافیائی اقتصادی، نسلی، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے یہ ضروری ہے کہ ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہونا چاہیے اس لئے مہاراجہ کوخبر دار کیا جاتا ہے کہ اگر اس کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ان حالات میں مسلم دشمن بھارتی لیڈروں نے مہاراجہ کشمیر کو مشورہ دیا کہ مسلم اکثریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے وہی طریقہ کار اختیار کیا جائے جو کپورتھلہ اور نابھہ کی ریاستوں میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لئے اختیار کیا گیا یعنی مسلمان آبادی کا قتل عام بڑے پیمانے پر شروع کر دیا جائے ۔ اس حکمت عملی سے مسلمانوں کی آبادی کم ہو جائے گی اور جو بچیں گے وہ ریاست سے فرار ہو کر پاکستان چلے جائیں گے [جیسا کہ اس وقت مشرقی پنجاب میں امرتسر، جالندھر ،فیروز پور، گورداسپور سمیت مختلف اضلاع میں ہور ہا تھا۔]
اس بھیانک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے راشٹریہ سیوک سنگھ کے مسلح غنڈوں کے ساتھ ساتھ مقامی ڈوگرے اور مہاراجہ کی فوج کے سپاہی بھی شامل ہو گئے۔ اس قتل عام کو شروع کرنے سے پہلے پاکستان سے ملحقہ سرحد یں ممکن حد تک بند کر دی گئیں تا کہ نہتے کشمیریوں کی مدد کوکوئی نہ پہنچ سکے۔ تمام مسلمانوں سے اسلحہ لے کر قریبی تھانوں میں جمع کروا دیا گیا تا کہ کسی بھی قسم کی مسلح مزاحمت نہ ہو سکے ۔ پولیس اور فوج میں موجود مسلمانوں سے ان کے ہتھیار واپس لے کر ان کو غیر مسلح کر دیا گیا (جس طرح مشرقی پنجاب میں مسلمان پولیس کو نہتا کر کے ان کے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے ڈنڈے پکڑادیئے گئے تھے )یا پھر ان کا تبادلہ دور دراز کے علاقوں میں کر دیا گیا تا کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد نہ کرسکیں۔ مسلم کانفرنس کے تمام سرگرم رہنماؤں کوگرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

مہاراجہ کی مدد کے لئے انتہا پسند ہندو ریاستوں پٹیالہ اور نابھہ وغیرہ سے فوجی دستے سادہ کپڑوں میں ریاست کشمیر میں داخل کر دیئے گئے تھے تا کہ مناسب وقت پر اپنے منصوبے پر عمل در آمد کرسکیں- 4اگست کے بعد سے مذکورہ بھیانک منصوبے کے مطابق مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا ۔ ان کی جائیدادیں لوٹ لی گئیں۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور زندہ بچ جانے والوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ پاکستان چلے جائیں۔ صرف صوبہ جموں میں لاکھوں افرا قتل و غارت گردی کا نشانہ بنے اورظلم وستم کا یہ سلسلہ پورے زور و شور سے اکتوبر 1947ء تک جاری رہا۔The Statesmanکے چیف ایڈیٹر مسٹر آئن سٹیفن (lan Stephen) جموں کے مسلمانوں کی حالت کے بارے میں لکھتے ہیں: ۔
1947ء کی خزاں تک تقریباً 5 لاکھ مسلمانوں کی یہ آبادی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی۔ ان میں سے دو لاکھ کا بالکل نام ونشان ہی مٹ چکا تھا۔ 15 اگست 1947ء اور29 اکتوبر 1937ء کے مختصر سے عرصے کے دوران کشمیر کے حوالے سے برصغیر کی صورت حال میں زبردست تغیرات ظاہر ہوئے اور مہاراجہ ہری سنگھ کی افواج اور بیرونی مد د گاروں کے ظلم وستم کے خلاف ضلع پونچھ میں مقامی بغاوت بعد میں ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کرگئی – ایک صدی قبل گلاب سنگھ ڈوگرہ نے یہیں پر مسلمانوں کا قتل عام کرایا تھا اور سرکردہ لوگوں کی کھالیں کھنچوائی تھیں جس کی خون آشام یادیں اب تک پونچھ کے لوگوں کو چر کے لگارہی تھیں۔ سب سے پہلے انہوں نے جہاد کاعلم اٹھایا پھر دوسرے علاقوں بلتستان گلگت وغیرہ کے لوگ جہادحر یت میں شامل ہو گئے۔ اسی دوران قبائلی پٹھانوں نے کشمیری عوام کے قتل عام کی خبریں سن سن کر اپنے دینی بھائیوں کی امداد کے لئے کشمیر کا رخ کیا۔ ان کی آمد سے ان کشمیری مسلمانوں کو تقویت کی جو پہلے ہی ڈوگروں کے خلاف برسر پیکار تھے اور بہت سا علاقہ آزاد کروا چکے تھے۔ اس جہاد حریت میں قبائلیوں کے ساتھ محب وطن کشمیریوں کے علاوہ ڈوگر فوج اور پولیس کے مسلمان سپاہی بھی شامل تھے۔ ان مجاہدین نے تیزی سے حرکت کرتے ہوئے راستے میں آنے والی تمام فوجی چوکیوں کو تہس نہس کر دیا اور برق رفتاری سے دار الحکومت سری نگر کی طرف بڑھنے لگے۔ ہری سنگھ نے جب مجاہدین کی بڑھتی ہوئی کامیابیوں کو دیکھا تو اس نے سری نگر سے جموں کی طرف راہ فرار اختیار کی۔ بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا کہ اس نے مہاراجہ ہری سنگھ کی خودمختار ریاست پر قبائیلیوں کے ذریعے حملہ کروایا اور29 اکتوبر 1937ء کو کشمیر بھارت الحاق کے بعد نئی دہلی پر یہ شرط عائد ہوگئی کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کا علاقائی تحفظ کرے جواب اس کے بقول بھارت ہی کا ایک حصہ بن چکی تھی۔
فی الحقیقت مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے بھارت سرکار کو فوجی امداد کے لئے درخواست دینا اور پھر راتوں رات بھارتی مسلح افواج کا سری نگر بن جانا ایک ایسی سازش کا پردہ چاک کرتا ہے جس کے تانے بانے اس سے قبل ہی نئی دہلی اور سری نگر کے درمیان کئے گئے تھے۔ اس سلسلے میں شیخ محمد عبداللہ نے اپنے سیاسی مربی اور دوست وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی علی الاعلان حمایت کے بل بوتے پر مہاراجہ ہری سنگھ کو ریاست بدر کرنے اور بعد میں ریاست کو بھارت کا حصہ بنانے کا منصوبہ بہت پہلے مرتب کر لیا تھا- 1934ء میں قائم شدہ مسلم کانفرنس کو بعد میں 1939ء میں نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنے کی تحریک بھی عبداللہ کو نہروہی سے ملی تھی جس میں عبدالله کوشیشے میں اتارنے والے چند غیر مسلموں پنڈت پریم چند بز از، سردار بدھ سنگھ اور کشیب بندھو نے ایک موثر رول ادا کیا تھا تا کہ اہل کشمیر کی بھاری مسلم اکثریت کے منشاء کے خلاف کشمیر کو بھارت کے ساتھ ملحق کیا جائے۔
’’سازش‘‘ کی یہ المیہ داستان خاصی دلچسپ بھی ہے اور عبرت انگیز بھی جسے بڑی محنت اور شواہد سے پروفیسر السٹائر لیمب کے حوالے سے جناب غلام نبی خیال نے اپنی تالیف ’’اقبال اور تحریک آزادی کشمیر میں پیش کیا ہے۔ ہم اس داستان کو اسی حوالے سے یہاں درج کرتے ہیں:
’’السٹائرلیمب نے بالخصوص کشمیر بھارت الحاق کے سلسلے میں اپنی تحقیقاتی تصانیف میں بھارت کے اس دعویٰ کی نفی کی ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے واقعی دستاویز ہند، کشمیر الحاق پراپنے دستخط ثبت کر لئے ہیں۔ لیمب نے تاریخی واقعات کے تسلسل کی روشنی میں کہا ہے کہ مہاراجہ اس دستاویز پر دستخط کرنے سے ہر وقت کتراتے ہی رہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر حکومت ہند نے دستاویز الحاق کے اصل مسودہ کو آ ج تک ایک سرکاری دستاویز کی حیثیت میں یا بین الاقوامی اخبارات میں بھی پیش نہیں کیا ۔ ایک بھارتی صحافی ایم جے اکبر نے بھی جو خود کانگریس جماعت کے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔’’ ہند کشمیر الحاق ‘‘ کو پاکستان کو کشمیر سے محروم رکھنے والی نہرو ماؤنٹ بیٹن سازش کا نام دیا ہے۔( کشمیر:بی ہاینڈ دی ویل – وا یکنگ نئی دہلی، 1991ء ص99)

یہ بھی پڑھیں:  عمرانیات

22 اکتوبر 1947ء کو شروع ہونے والی’’ قبائلی مداخلت‘‘ سے لے کر 27اکتوبر تک کے تمام حالات و واقعات اور مہاراجہ ہری سنگھ، شیخ عبدالله،مہر چند مہاجن اور وی- پی مینن کی حرکات و سکنات کا تاریخ وار مشاہد ہ کر نے کے بعد پروفیسر لیمب یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اصل دستاویز الحاق در حقیقت ایک طبع شدہ فارم سے زیادہ کچھ نہیں تھی جیسے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے لئے چھپی ہوئی درخواستیں فوری طور پر دستیاب ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس لئے اس میں ریاست کے نام۔ مہاراجہ کے دستخط اور تاریخ کے لئے جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اسی دستاویز کے ساتھ ایک اور طبع شدہ قبولیت نامہ تھا ۔جس پر گورنر جنرل کی حیثیت میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے دستخط ثبت کرنا اور تاریخ درج کرنا مقصود تھا۔
کشمیر کے وزیراعظم مہر چند مہاجن کے لئے کوئی دشوار عمل نہیں تھا کہ وہ 27 اکتوبر کو اپنے ساتھ ایسا ہی ایک فارم لے کر پھر جموں گئے جس پر ایک روز قبل یعنی26اکتوبر کی تاریخ درج تھی۔ اس پر گورنر جنرل کی منظوری کے دستخط پہلے ہی کروا لئے گئے تھے مگر ان پر27 اکتوبر کی تاریخ درج تھی تا کہ مہاراجہ آرام سے اس پر دستخظ کر سکیں۔‘‘( کشمیر:اے ڈسپیون لیگیسی – السٹائرلیمب آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی 1993ء ص143)
حقائق کی روشنی میں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوسکتی کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 26اکتوبرہی کو جموں میں دستاویز الحاق پر اپنے دستخط ثبت کر لئے ہوں۔ کیونکہ ان کے اپنے ہی صاحبزادے ڈاکٹر کرن سنگھ کے بقول وہ اس روز سفر میں تھے۔ کرن سنگھ اس دن کا چشم دید حال یوں بیان کرتے ہیں:۔
اس روز یعنی25 اکتوبر کو دسہرہ کی تقریب پر مجھے پیلس میں اکیلا چھوڑ دیا گیا جبکہ میرے والد اور ان کے مصاحب شہر کے محل میں ایک خوبصورت ہال میں دربار لگائے بیٹھے تھے۔
’’یکایک ساری روشنیاں گل ہو گئیں۔ حملہ آوروں نے دو سال کے مقام سے سری نگر جانے والی اس شاہراہ پر کشمیر کے واحد مہورا کے بجلی گھر کوتباہ کردیا تھا جس سے وہ وادیٔ کشمیر کی طرف پیش قدمی کررہے تھے۔
’’پھر یک بیک ایسا نظر آنے لگا کہ پیلس میں سرگرمیاں تیز تر ہوئی ہیں۔ نوکر چاکر پریشان حالی میں ادھر سے ادھر دوڑ رہے تھے تا کہ پٹر ومیکس کی روشنیوں سے تاریکیوں کو دور کیا جا سکے۔
’’میرے والد در بار سے فوری طور پر لوٹ آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ اور مرجھایا ہوا تھا۔ اسی دوران وی پی مینن جہاز میں سری نگر آئے اور انہوں نے میرے والد کو جموں جانے کی تلقین کی ۔جسے مہاراجہ نے پہلے منظور نہیں کیا لیکن بعد میں وہ راضی ہوئے۔
’’اس کے بعد شب خوان کا مارا ہوا27 اکتوبر کو رات گئے سری نگر سے ہجرت کا طویل سفر شروع ہوا۔ ہم ساری رات سفر میں رہے۔ اگر چہ ہم اس وادی کو خیر باد کہنے کی ہرگز خواہش نہیں رکھتے تھے جس پر ہمارے آباو اجداد نے نسل در نسل حکمرانی کی تھی۔ ہمارا قافلہ 28 اکتوبر کو پو پھٹتے وقت نو ہزار فٹ کی بلندی پر در بانہال کے پاس رینگ رہا تھا۔
’’میرے والد اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے اور ان کی بغل میں ان کا ایک دوست اور فرانسیسی جو ہری وکٹ روزن تھال بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے پیچھے دو اسٹاف آفیسر بھری ہوئی پستولوں سمیت گاڑی میں سوار تھے۔ وکٹر نے مجھے بعد میں بتایا کہ مہاراجہ اس سفر کے دوران ایک لفظ بھی نہیں بولے۔ جب وہ دوسری شام کو جموں پہنچے تو انہوں نے صرف یہ ایک بات کہی کہ:’’ کشمیر ہم سے چھن چکا ہے۔‘‘
(ہیئر اپرنٹ، کرن سنگھ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، بمبئی 1983ء۔ص59-57)
کشمیر کی سرحدوں پرقبائلیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں بھارت سرکار کا یہ دعویٰ کہ وہ اس سلسلے میں قطعاً بے خبری تھی اور اسے صرف اس خط سے ہی تازہ صورت حال کا علم ہوا جو ہری سنگھ نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو26اکتوبر کو لکھا واقعاتی طور پر غلط ثابت ہو چکا ہے۔
ابھی ستمبر ہی کا مہینہ تھا کہ اس ماہ کی 27تاریخ کو پنڈت جواہر لال نہرو نے بھارت کے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ سردار ولبھ بائی پٹیل کو ایک گیارہ نکاتی خط لکھا۔ اس میں ایک ممکنہ’’ پاکستانی مداخلت‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے نہرو نے خبر دار کیا کہ مجھے شک ہے کہ آیا مہاراجہ اور اس کی ریاستی فوجیں اس صورت حال کا مقابلہ کرسکتی ہیں جب تک کہ انہیں ایک عام حمایت حاصل نہ ہو۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ کشمیر میں جو سب سے بڑی عوامی جماعت ہے اور جو ان کا ساتھ دے سکتی ہے وہ شیخ عبدالله کی قیادت والی نیشنل کانفرنس ہے۔ اگر اتفاق سے یہ جماعت مہاراجہ کی مخالف یا بالکل الگ تھلگ ہی رہی تو مہاراجہ اور اس کی سرکار بھی الگ تھلگ ہو کے رہ جائے گی اور پھر پاکستانیوں کو نسبتاً ایک کھلا میدان ہاتھ آ جائے گا۔ لہٰذا مجھے اس کے سوا اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا کہ مہاراجہ سب سے پہلے شیخ عبداللہ اورنیشنل کانفرنسیوں کو جیلوں سے رہا کرے۔ ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے ۔ ان کی حمایت حاصل کرے۔ انہیں اس بات کا احساس دلائے کہ مہاراجہ اس معاملے میں نیک نیت ہے اور پھر وہ بھارت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کرے۔ ایک بار جب کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا پھر پاکستان کے لئے ریاست پر سرکاری طور پر یا غیر سرکاری طور پر بھارت سے پنجہ لڑائے بغیر حملہ کرنا بے حد مشکل بن جائے گا۔ میں اس بات کو بے حد اہمیت کا حامل سمجھتا ہوں کہ ریاست جموں وکشمیر کے بھارت کے ساتھ ہونے میں کوئی دیر نہیں ہونی چاہیے۔ شیخ عبد الله پاکستان سے دور رہنے کے لئے بے چین ہیں اور وہ ہم پر ہر قسم کے مشورے کے لئے اعتبار کرتے ہیں۔‘‘
( سردار پٹیلس کارسپانڈنس – جلد اول50-1935ءنیولائٹ آن کشمیر ،نو جیون پبلشنگ ہاؤس احمد آباد،1971،ص50-49)
پروفیسر لیمب کے خیال میں ’’یہ مراسلہ اس بات کی شہادت پیش کرنے کے لئے بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت پاک تصادم کی شکل اختیار کر سکتا تھا جس کے نتیجے میں براہ راست بھارتی مداخلت عمل میں آ سکتی تھی، اس سے صاف طور پر بھارت کی یہ دلیل بھی رد ہو جاتی ہے کہ بھارت کو 22اکتوبر کے واقعہ سے زبردست حیرانی ہوئی تھی۔‘‘(ایضاً)
ستمبر1947ء میں جیل سے عبد الله کی رہائی کے ساتھ ہی بھارت کے ساتھ ان کے سیاسی رشتے کا ارادہ پر ایک بار بے نقاب ہو چکا تھا۔ کل ہند سٹیٹسپیوپلز کانفرنس کے سیکرٹری دوارکا ناتھ کا چرونے نہر کو اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں یہ اطلاع دی کہ شیخ عبداللہ اور ان کے قریبی ساتھیوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ شامل ہوں گے۔ لیکن یہ فیصلہ ابھی تک مشتہر نہیں کیا گیا ہے اور تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ گویا نیشنل کانفرنس نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔( سردار پٹیلس کارسپانڈنس ،ص54)۔
شیخ محمد عبد اللہ کے بھارت سے منسلک ہونے کے فیصلے کے بارے میں مہر چند مہاجن نے بھی ایک ایسے تاریخی واقع کا ذکر کیا ہے جس میں عبدالله کی بر وقت خاموشی غالباًکشمیر کو بھارت کا ایک حصہ بنانے سے بچا سکتی تھی۔ کشمیر کی سنگین صورت حال کے فوراًبعد جب مہر چند مہاجن بھارت کی فوجی امداد کے حصول کے لئے دہلی گئے اور جواہر لال نہرو نے فوری طور پریہ امداد دینے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا تو ان کے بقول ’’ پھر میں نے وزیر اعظم ہند جواہر لال نہرو کو بتایا کہ مجھے (مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے) یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر ہمیں فوری طور پر فوجی امد انہیں دی گئی تو میں پاکستان چلا جاؤں۔ یہ سن کر نہرو پریشان ہو گئے اور ناراضگی میں مجھ سے بولے ’’مہاجن ‘‘دفع ہو جائو،میں کھڑا ہو کر کمرے سے نکلنے والا ہی تھا کہ سردار پٹیل نے میرے کان میں یہ کہہ کر مجھے روکے رکھا کہ’’ مہاجن !تم پاکستان نہیں جاؤ گے۔‘‘
’’اُسی وقت وزیراعظم کو کاغذ کا ایک پرزہ دیا گیا ۔ انہوں نے وہ پڑھا اور با آواز بلند کہا اچھا شیخ صاحب کا بھی یہی خیال ہے۔‘‘ شیخ عبدالله اس ڈرائنگ روم کے ساتھ ملحق ایک شبستان میں بیٹھ کر یہ ساری گفتگو سن رہے تھے جہاں ہم بات کر رہے تھے۔ نہرو کالہجہ اسی وقت بدل گیا ۔‘‘ (’’لونگ بیک‘‘ [Looking Back] مہر چند مہاجن- ایشیا پبلشنگ ہاؤسبمبئی 1963ء میں 152۔
نام نہاد بھارت ’’کشمیر الحاق کی رو سے بھارتی افواج کو ظاہری طور پر 27 اکتوبر کوسری نگر روانہ کیا گیا لیکن اس سے قبل ہی ریاست جموں و کشمیر میں پٹیالہ کی مسلح افواج داخل ہو چکی تھیں ۔ حالانکہ ریاست پٹیالہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی بھارت کا ایک جز ولا ینفک بن چکی تھی اور اس کی اپنی ریاستی افواج کا خودمختار کردار ختم ہو کے رہ گیا تھا اور وہ بھارت سرکار کی فوج کا ایک باضابط حصہ بن چکی تھیں۔
پٹیالہ کے سکھ مہاراجہ نے اکتوبر کے پہلے دو ہفتوں میں ہی مہاراجہ ہری سنگھ کے پاس اپنی پیادہ فوج کی ایک بٹالین اور توپ خانہ بھیجا تھا – غالباً یہ امراسی وقت طے پایا تھا جب مہاراجہ پٹیالہ جولائی 1947ء میں کشمیر کے دورے پر آیا تھا۔27 اکتوبر کو جب بھارتی فوجی دستے علی الصباح سری نگر کے ہوائی اڈہ پر اتر ے تو انہیں یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پٹیالہ کے بندوقچی پہلے ہی سے اس ہوائی اڈے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے جہاں انہیں کم ازکم 17 اکتوبر سے تعینات کیا گیا تھا۔ یہ بندوقچی کس طرح سری نگر لائے گئے اس کا آج تک کوئی پتہ نہیں چل سکا – یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں ان گاڑیوں میں بھر بھر کرکشمیر پہنچایا گیا جورسد اور دیگر اشیاء لے کر جموں سے سری نگر گئی تھیں۔ یہ رسد بھارت سرکار کی طرف سے مہاراجہ کی التجا کے بعد روانہ کی گئی تھی کہ پاکستان نے ریاست کو اشیاء کی فراہمی بند کر دی ہے۔ بھارتی فوج کی مداخلت کے فورا ًبعد پٹیالہ کا مہاراجہ یدھوندر سنگھ بنفس نفیس اپنے فوجیوں کی کمانڈ کرنے کی غرض سے جموں آ گیا۔ (کشمیر اے ڈسپیوٹڈلیگسی۔ ص 131)نیز کشمیریز فایٹ فارفریڈم ، محمد یوسف صراف ، لا ہور1979ء۔ ص909) ۔السٹائر لیمب کی رائے میں پٹیالوی دستوں کی آمد خفیہ طور پرعمل میں لائی گئی اور اس کا علم سردارپٹیل اور وزیر دفاع بلد یو سنگھ کوتھا، لیکن وزیراعظم نہرو کو اس اقدام سے بے خبر ہی رکھا گیا۔
سری نگر کے ہوائی اڈے پر بھارتی افواج کی آمد کے ساتھ صورت حال بدل گئی۔ کشمیری حریت پسند رضا کاروں اور قبائلیوں کی پیش قدمی رک گئی۔ مجاہد ین بارہ مولا سے پسپاہوکر اپنے معمولی اسلحہ کے ساتھ دفاعی مورچوں کی طرف چلے گئے اور اپنے آزاد کردہ علاقوں ( گلگت بلتستان ،مظفر آباد، ضلع پونچھ ،میر پور وغیرہ کے نواح) کی حفاظت ان کے لئے مقدم ہوگئی۔
27اکتوبر1947ء کو جدید اسلحہ سے لیس بھارتی افواج کی کشمیر میں آمد سے (نہرو، پٹیل، ماؤنٹ بیٹن سازش‘‘ کے مطابق) یہ خطرہ بھی پیدا ہوگیا کہ مشرقی پنجاب و دہلی کا المیہ اب کشمیر میں بھی دہرایا جائے گا اورعسکری ظلم و تشدد کے ذریعے کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کوختم کرنے کے لئے جموں کے قتل عام کی طرح وادی میں بھی قتل و غارتگری کا سلسلہ وسیع پیمانے پر شروع ہو جائے گا اور بچے کھچے مسلمانوں کو سرحد پار پنجاب کی طرف ہجرت پر مجبور کر دیا جائے گا۔ اس طرح جو بہیمانہ ناٹک مشرقی پنجاب اور دہلی میں رچایا گیا وہ کشمیر کا بھی مقدر ہو جائے اور اس طرح کشمیر میں پنڈت نہرو کا استصواب رائے عامہ کاپرفریب وعدہ بھی پورا ہو جائے گا۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ اس وقت گورنمنٹ ہاؤس لاہور میں مقیم تھے۔ انہوں نے بھارت کی اس جعل سازی اور فریب پر مبنی’’الحاق‘‘ کی سازش کا بروقت احساس کرتے ہوئے پاکستانی افواج کے قائم مقام کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو گورنر پنجاب سرفرانسس مودی کے ذریعے حکم دیا کہ صورت حال کو نپٹنے کے لیے پاکستانی افواج فوراً حرکت میں آ کر سری نگر میں کارروائی کریں۔ دنیا کو اس بات پرتعجب ہوا ہو گا کہ سراپا قانونی مجاہد مسٹر جناح نے اس موقع پر حرب وضرب کی راہ کیوں اختیار کی؟ یہ درست ہے کہ قائد اعظم کی پوری جدوجہد جدل کی بجائے عدل کی رہن منت رہی۔ مگر اس موقع پر انہیں یقین ہو گیا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ اب ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جب قانونی موشگافیاں اور عدل و انصاف کے دلائل ختم ہو گئے اور زور بازو آزمانے کا وقت آ گیا ۔ اس لئے قائداعظم کا یہ حکم فطری تھا۔
مگر دوسری طرف پھر سازشیں بر سر کار تھیں۔ جنرل گریسی نے سپریم کمانڈرز فیلڈ مارشل آکن لک (Auckin Leck) کی پیشگی منظوری کے بغیر کارروائی کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ سپریم کمانڈر کو دہلی فون کر کے صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ وہ اگلی صبح دہلی سے لاہور پہنچا اور قائداعظم سے ملاقات کی اور ان سے احکامات واپس لینے کے لئے دلائل دیئے۔ ظاہر ہے یہ سب باتیں ماؤنٹ بیٹن کی منشا کے مطابق ہوئی ہوں گی۔ کیونکہ اس موقع پر جنگ شروع ہو جاتی تو ماؤنٹ بیٹن اور ہندو لیڈروں کے بنائے گئے منصوبوں کی تکمیل ممکن نہ ہوتی ۔ ماؤنٹ بیٹن کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ۔ کیمبل جانسن کے 28 – اکتوبر 1937ء کے روز نا مچے میں تحریر کردہ واقعات سے اس کی تصدیق یوں ہوتی ہے کہ ماؤنٹ بیٹن اور آ کن لیک پہلے سے ہی فوجیں بھیجنے کے معاملے میں رابطہ رکھے ہوئے تھے اور آ کن لیک کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ معاملات کو ماؤنٹ بیٹن کی مرضی کے مطابق آگے بڑھائے نہ کہ قائد اعظم کی مرضی سے ،جو کہ یقینا ماؤنٹ بیٹن کی سازش کا حصہ تھا جو اس نے ہندو لیڈروں کے ساتھ مل کر کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے لئے کی تھی۔ چنانچہ فیلڈ مارشل آ کن لیک نے قائداعظم سے طویل ملاقات میں انہیں یہ باور کرایا کہ چونکہ پاکستانی فوج میں برطانوی افسروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو حملے کی صورت میں کارروائی میں حصہ نہیں لے گی اس لئے فوج کی کارکردگی متاثر ہوگی جو پاکستان کے حق میں نہیں- درحقیقت یہ آ کن لیک کی جانب سے واضح اشارہ تھا کہ احکامات پر عمل در آمد نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرتار پور راہدی ایک سنگ میل ہے

قائد اعظم نے صورت حال کو سمجھتے ہوئے فوج کشی کے اپنے احکامات واپس لے لیے۔ فیلڈ مارشل آکن لیگ نے اس کامیابی کی خبر فوراً دہلی میں ماونٹ بیٹن کو دی کہ وہ جناح کو گذشتہ رات کا وہ حکم منسوخ کرنے پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس کے ذریعے انہوں نے پاکستانی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کے لئے کہا تھا۔‘‘
قائداعظم حالات کی سنگینی سے باخبر تھے۔ اس لئے اب انہوں نے مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی راہ اختیار کی اور گورنر جنرل بھارت لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہر کو دعوت دی ۔ نہرو نے مذاکرات سے فرار کی راہ اختیار کی اور مشترکہ دفاعی کونسل کے اجلاس میں صرف لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں قائد اعظم نے مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں:
لڑائی فوری طور پر بند کروائی جائے۔ دونوں گورنر جنرل صاحبان کو اپنی اپنی حکومت یہ اختیار دے کہ وہ ایک اعلان کریں جس میں برسر پیکار قوتوں کو جنگ بندی کے لیے 48 گھنٹے کا نوٹس دیا جائے۔ اگرچہ پاکستان کا آزادکشمیرکی فوجی لڑائی میں مصروف قبائلی مجاہدین پر کوئی کنٹرول نہیں پھر بھی ان کوخبر دار کیا جائے گا کہ اگر وہ جنگ بندی کو تسلیم نہیں کریں گے تو دونوں ملکوں کی متحد ہ فوج ان کے خلاف کاروائی کرے گی۔
ہندوستانی افواج اور قبائلی مجاہد ین ریاست سے واپس چلے جائیں۔
دونوں گورنر جنرل صاحبان کو اپنی اپنی حکومت کی جانب سے مکمل اختیار حاصل ہو کہ وہ جموں وکشمیر کا انتظام سنبھالیں اور امن بحال کریں تا کہ ان کے مشتر کہ کنٹرول اور نگرانی میں فوری رائے شماری کروائی جا سکے۔
لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس موقع پر یہ موقف اختیار کیا کہ وہ اپنی حکومت سے ہدایت حاصل کیے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ تاہم اس نے وعدہ کیا کہ وہ نئی دہلی جا کر جواب بھجوادے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوا-2 – نومبر 1947ء کو ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک نشری تقریر میں یہ بات واضح کر دی کہ بھارتی حکومت اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر فیصلہ کرے گی اور اپنے قبضے اور کٹھ پتلی انتظامیہ کو برقرار رکھے گی اور جب مسلح افواج ریاست کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گی تو ریاست میں رائے شماری کروا کر عوامی رائے بھی معلوم کر لی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خاں نے 4 نومبر کو نہرو کی تقریر کا جواب دیا جس میں استصواب کے نعرے کو گمراہ کن قرار دیا گیا۔
پاکستان نے اس موقع پر بھی صبرو تحمل سے کام لیتے ہوئے ہندوستان کی زیادتی کا کوئی غیر مہذب جواب نہ دیا۔ بلکہ مذاکرات کے ذریے مسئلہ کوحل کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، لیکن ہر کوشش ناکام ثابت ہوئی -12 نومبر کو پاکستان نے تجویز پیش کی کہ تمام مسائل بشمول فوجی دستوں کی واپسی عبوری انتظامیہ کے اختیارات اور رائے شماری کے انعقاد کو اقوام متحدہ (U.N.O ) کے سپرد کر دیا جائے۔ لیکن ہندوستان نے یہ تجویز ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔ اس انکار کی وجہ بھارت کا وہ گھمنڈ تھا جو اس کو اپنی فوجی برتری کے باعث تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ سابق انگریز وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن جو کہ اب بھارت کا گورنر جنرل تھا اور دیگر انگریز فوجی و سول افسران کی طرفداری نے بھارت کی آنکھوں پر غرور کی پٹی باندھ رکھی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ بھارتی افواج آرام سے کشمیری اور قبائلی مجاہد ین پر قابو پالیں گی لیکن یہ ان کی خام خیالی ثابت ہوئی ۔ کیونکہ23 – اگست 1947ء کو جو بغاوت ہوئی اس کے نتیجے میں شمالی علاقہ جات اور موجودہ آزاد کشمیر کے علاقے آزاد کروا لئے گئے اور اس علاقے میں 24اکتوبر 1947ء کو آزاد حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا تا کہ مجاہدین کے آزاد کردہ علاقوں اور مستقبل میں آزاد کروائے جانے والے علاقوں کا انتظام احسن طریقے سے چلایا جا سکے۔ اس حکومت کا پہلا سربراہ سردارابراہیم خاں کو بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  زراعت صرف توجہ کی طلبگار ہے