Insani damag

دماغی صحت کو بہتر رکھنے کے کامیاب نسخے

EjazNews

سائنسدانوں نے اپنی تحقیقات میں دماغی صحت کو کئی عوامل سے مشروط کیا ہے۔ ادھیڑ عمر میں پیدا ہونے والے دماغی امراض پر بھی قابو پایا جاسکتاہے لیکن اس کے لیے کچھ احتیاطیں ضروری ہیں ۔سائنسدانوں نے سگریٹ نوشی، جہالت، ذہنی دباﺅ، سستی کاہلی، تنہائی، موٹاپے اور بلڈ پریشر کو بھی دماغی صحت کے لیے زہر قاتل قرار دیا ہے۔
الزائمر ایسوسی ایشن انٹرنیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس میں تحقیقی رپورٹ پیش کی گئی تھی۔ جس میں یادداشت میں کمی، الزائمر میں اضافہ اور مجموعی طور پر دماغی صحت پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2050ءتک دنیا بھر میں 13کروڑ لوگ ڈی مینشیا کا شکار ہوں گے اور اس وقت کم از کم 5کروڑ لوگ اس مرض میں مبتلا ہو ں گے۔ اس مرض کا سراغ بھی عمر کے آخری حصے میں چلتا ہے۔ لیکن دماغ میں تبدیلیاں جوانی میں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں بلکہ بچپن کے کچھ فیصلے بھی دماغی تبدیلیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر گل لیونگ سٹون نے اپنے مقالے میں اسی بات کو تحقیق کا موضوع بنایا وہ لکھتے ہیں کہ دماغ میں ہونے والی 65فیصد تبدیلیاںانسان کے کنٹرول میں نہیں۔ انسان کچھ بھی کرلے اس پر قابو پانا ممکن نہیں یوں سمجھ لیجئے ڈی مینشیا کے 65فیصد اسباب اس کے بس میں نہیں ۔لہٰذا اس بات کو ایک طرف رکھ دیجئے۔ پھر جوانی میں ہونے والی قوت سماعت میں کمی ڈی مینشیا کا سبب بنتی ہے۔ یعنی کان کے بعض امراض کا براہ راست تعلق دماغی صحت سے ہے۔ یوں بھی ٹی این ٹی دماغ کے ہمسائے میں واقع ہے۔ گلٹ کے مطابق 9عوامل باقی ماندہ 35فیصد ڈی مینشیا کا سبب بنتے ہیں ان میں قوت سماعت سے کمی سے 9فیصد،ثانوی تعلیم حاصل کرنے میں ناکامی 8فیصد،سگریٹ نوشی 5فیصد، ڈپریشن 4فیصد،دماغی سستی، کاہلی ، کام چوری 3فیصد،سماجی تنہائی2فیصد،ہائی بلڈ پریشر 2فیصد،موٹاپا 1فیصد اور
ذیابیطس 1فیصد ہے۔
اس میں بھی 9فیصد پر انسان کا کوئی خاص کنٹرول نہیں ۔ قوت سماعت کو بہتر رکھنا انسان کے بس میں ہیں تاہم شور سے بچنے والے اپنی قوت سماعت کو بہتر رکھ سکتے ہیں۔ اس طرح میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تقریباً 74فیصد دماغی صحت پر ہمارا کوئی کنٹرول نہیں۔ ہاں تعلیمی صلاحیت بیدار کرنا اور تعلیمی صحت حاصل کرنا ہمارے بس میں ہیں لیکن پاکستان جیسے ملک میں یہ بھی ہمارے بس میں نہیں کیونکہ حکومت اس سلسلے میںکوئی مدد مہیا نہ کر رہی ہے۔ اس طرح ہمارے آدھے سے زیادہ بچے ثانوی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔ چنانچہ یہ دماغی کمزوری کا سامنا کرسکتے ہیں۔ سگریٹ نوشی ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے یا سگریٹ نوشی سے ڈپریشن پیدا ہوتا ہے، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ڈپریشن کا تعلق بھی حالات سے ہے۔ سیاسی ، سماجی اور معیشت پر قابو پانا ہمارے بس میں نہیں۔ بے روزگار، روزگار حاصل نہیں کر سکتے اور گھریلو جھگڑے بھی کسی کے بس میں نہیں کیونکہ یہ تو ہونے ہی ہوتے ہیں اس لیے ڈپریشن بھی ہماری زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ ہاں سستی ،کاہلی پر قابو پایا جاسکتا ہے یہ کام بے روزگار لوگ بھی ورزش کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ تنہائی کوبھی دور کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بلڈ پریشر کا تعلق سماجی حالات سے بھی ہے آج کل سٹریس شوگر عام ہے اور یہ مسلسل بڑھتی جارہی ہے اس طرح ہمارے سماجی حالات ہمیں دماغی امراض کی طرف دھکیل رہے ہیں اور اس میں ڈی منشیا سر فہرست ہے۔
گلٹ نے اپنے مقالے میں تجویز دی کہ رسمی تعلیم حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے اپنے آپ کو کتابوں کے ذریعے مصروف رکھ سکتے ہیں ۔ کتابی تعلیم ہی انہیں ذہنی صحت مند رکھنے میں کامیاب ہو سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام امریکی امراءکتاب بینی کے شوقین ہے بلکہ دنیا کے امیر ترین لوگ کتب بینی کے مشورے بھی دیتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی انہی میں سے ایک ہے، جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت بھی ورزش کے ذریعے برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ ثانوی تک تعلیم حاصل کرنے سے زبردست نشوونما ہوتی ہے اور یہ تعلیم حاصل نہ کر نے والے اپنے آپ کوکمزور کر لیتے ہیں۔
محقق کے مطابق قوت سماعت میں کمی بھی بسا اوقات انسان کو تنہائی پسند بنا دیتی ہے لیکن اس کے ذریعے آلات موجود ہیں جن کے ذریعے سے قوت سماعت کو بہتر بنا یا جاسکتا ہے۔ اس کے ذریعے حتیٰ الوسع اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ گھلنے ملنے والے لوگ بہتر ذہنی صلاحیت کے حامل ہیں۔ اکیلے بیٹھنے والے اپنے دماغ کو بھی کمزور کر رہے ہیں ۔ پھر ہمارے اکثر محققین سگریٹ نوشی کیخلاف ہیں اگرچہ وہ کوئی ٹھوس تعلق نہیں ڈھونڈ سکے کیونکہ سگریٹ نوشی کا ٹی بی اور ہارٹ اٹیک سے تعلق بھی جوڑا جاتا ہے۔ اب گلٹ نے اس کا تعلق دماغی مرض سے بھی تلاش کر لیا ہے۔ اسی طرح الزائمر سوسائٹی کے ڈائریکٹر آف ریسرچر ڈوم براﺅن بھی انہی خیالات کے حامل ہیں بلکہ انہوں نے تو خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا نے اپنا انداز فکر او ر رہن سہن تبدیل نہ کیا تو 21ویں صدی میں سب سے زیادہ لوگ ڈی منشیا سے ہی مریں گے اور ہمیں اس خطرے سے آگاہ ہو جانا چاہیے اور فوری طور پر اپنے طرز زندگی میں بنیادی تبدیلیاں لا کر اپنے آپ کو محفوظ بنا لینا چاہیے ورنہ جلدی موت ہمارا مقدر ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں:  اخروٹ آپ کو خطر ناک بیماریوں سے محفوظ رکھتاہے
کیٹاگری میں : صحت