children-normobaric oxygen

پانی میں ڈوبنے سے دماغی حالت ٹھیک ہو گئی

EjazNews

19جولائی تب کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن طبی ماہرین کو ایک انوکھا تجربہ ہوا۔ 2سالہ بچی کا دماغ ایک حادثے میں متاثر ہوا تھا وہ ٹھیک طرح سے نہ بول سکتی تھی اور نہ ہی کوئی کام کرسکتی تھی۔ لیکن 17جولائی کو 15منٹ پانی میں ڈوبنے سے یہ بچی بھلی چنگی ہو گئی۔ پانی میں ڈوبنے کے بعد 2گھنٹے اس کا دل بند رہا۔ اس حادثے کے بعد اس کے دماغ میں زخم آیا۔ نہ وہ بات کرسکتی تھی اور نہ ہی چل پھر سکتی تھی۔ تاہم وہ کمرے میں چکر لگاتی رہتی کبھی ہاتھ ہلاتی اور کبھی ساقت بیٹھی رہتی۔ یونیورسٹی آف نارتھ ڈیکوٹا کے ڈاکٹروں نے اس بچی پر Hyperbaric oxygen therapy نامی تجربہ کیا۔ جس سے اس کی دماغ کی کیفیت بالکل ٹھیک ہو گئی۔ اس علاج سے اس کے متاثرہ ٹشوز آکسیجن کی فراہمی کے باعث دوبارہ نشوونما حاصل کرنے لگے۔ نیو آرلینز سکول آف میڈیسن کے سپیشلسٹ Paul Harchکے مطابق اس طریق علاج میں آکسیجن کی فراہمی کے باعث بچی بالکل ٹھیک ہو گئی۔
2سالہ Eden Carlson کی والدہ واش روم میں تھیں۔ بچی کھیل کے دوران سوئمنگ پول میں جاگری، ماں کو پتہ ہی نہ چلا۔ 10-12منٹ بعد جب وہ باہر آئی تو ماں نے بچی کو غائب پایا۔ کافی ڈھونڈنے پر بچی سوئمنگ پول سے ملی۔ اس کے دل کی حرکت بند ہو چکی تھی۔ ماں نے فوری علاج شروع کیا، ڈاکٹروں کو بلایا ۔ واشنگٹن ریجن میڈیکل سنٹر واقع ایلکن ساز کی ٹیم نے بھی بچی کو 48گھنٹے تک انتہائی نگہداشت میں رکھا۔ پانی میں ڈوبنے سے اس کے دماغی ٹشوز بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ڈاکٹروں نے ٹشوﺅں کی نشوونما کے لیے ہائیپر بیرک آکسیجن تھراپی تجویز کی۔ اس میں آکسیجن کی اضافی مقدار ایک خاص طریقے سے فراہم کی جاتی ہے۔ بچی کو ایک سیل مند پریشرائز چیمبر میںرکھا جاتا ہے۔ اس میں ہوا کا دباﺅ بھی کنٹرول کیا جاتا ہے، زخمی یا بیمار ٹشوز کو آکسیجن کی اضافی مقدار ملنے سے تقویت ملتی ہے۔ دن میں دو مرتبہ یہ علاج ہوا۔ رفتہ رفتہ بچی ہاتھ پاﺅں ہلانے کے قابل ہو گئی پھر وہ کھانے پینے لگی اور اب تو ہنس بھی سکتی ہے۔ بعد ازاں یہ خاندان ارکن ساز سو نیو آرکلین چلا گیا۔ جہاں 10سیشنز کے بعد بچی کی دماغی حالت تقریباً پہلے جیسی ہو گئی۔ اب وہ پہلے کی طرح بول بھی سکتی تھی۔ اس کے تمام اعصابی ٹیسٹ نارمل آئے۔ پانی میں ڈوبنے کے 162دن کے بعد ہونے والے ایم آر آئی میں اس کے دماغ میں انتہائی معمولی سوزش موجود ہے۔ لیکن مجموعی طور پر وہ صحت مند ہے۔ اس طرح کا علاج اس سے پہلے کہیں رپورٹ نہیں ہوا۔ وہ ایڈین کی قسمت کھل جانے پر ڈاکٹر بھی خوش ہیں اور اس کی ماں بھی۔ ڈاکٹروں کے مطابق محض ہائپر بیرک آکسیجن تھراپی کافی نہ تھی۔ اس کے لیے normobaric oxygenطریقہ بھی اختیار کیا گیا۔ ڈوبنے سے انسانی دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو یہ انتہائی سادہ، آسان اور مو¿ثر طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نوجوان کی دلہن کے بغیر انوکھی شادی