divorce with agrations

غصہ اور دیگر حالات میں دی گئی طلاق کا بیان

EjazNews

تفویض طلاق کسے کہتے ہیں اور اس کی کتنی صورتیں ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟
اس سے مراد یہ ہے کہ خود طلاق نہ دے بلکہ طلاق دینے کا دوسرے کو مالک مختار بنادے کہ وہ دوسرا خاوند کے حکم سے اس کی بیوی کو طلاق دیدے۔ اس کی تین صورتیں ہیں۔
(۱) تفویض دوسرے کو طلاق دینے کا مالک بنادینا۔
(۲) تو کیل غیر کو یعنی دوسرے شخص کو طلاق کا وکیل بنا دینا۔
(۳)رسالت و پیغام یعنی دوسرے کے ذریعہ سے طلاق کہلا بھیجنا۔
اول صورت تفویض کے تین الفاظ ہیں۔ (۱)تخییر(۲) امر بالید(۳) مشیت اگرخاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے اختیار ہے اور اس سے طلاق دینا مقصود ہے اور اس نے یعنی بیوی نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا اورطلاق دے لیا تو طلاق رجعی پڑ جائے گی اور اگر اس نے خاوند ہی کو اختیار کرلیا تو طلاق نہیں پڑے گی۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کو اختیار دیا تو فاختر ناہ تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا۔(بخاری)
تو طلاق نہیں پڑی۔
اور امر بالید کا یہ مطلب ہے کہ خاوند بیوی سے کہے کہ تیرا کام تیرے ہاتھ میں ہے یہ بھی تخییر کی طرح ہے، اگر اس سے طلاق دینا مقصود ہو اور بیوی نے اس اختیار کو کام میں لا کر اپنے کو طلاق دے لیا تو طلاق پڑ جائے گی نہیں تو نہیں۔
اور مشیت کے معنی چاہنے کے ہیں یعنی خاوند نے اپنی بیوی کو اس کے چاہنے پر چھوڑ دیا اگر وہ چاہے تو طلاق دے لے نہیں تو نہیں اور خاوند کا اس سے طلاق دینا مقصود ہے اور اس نے مشیت کے مطابق اپنے کو طلاق دی تو طلاق پڑ جائے گی۔
معلق طلاق
طلاق معلق کسے کہتے ہیں اور اس سے طلاق پڑے گی نہیں؟
معلق کے معنی لٹکا دینے کے ہیں اور معلق طلاق سے مراد یہ ہے کہ اپنی منکوحہ بیوی سے کہے کہ اگر گھر میں داخل ہو گئی تو تجھے طلاق ہے اور اس کی بیوی گھر میں داخل ہو گئی تو طلاق پڑ جائے گی۔ کیونکہ اس نے طلاق کوگھر میں داخل پر موقوف کر رکھاتھا جب گھر میں داخل ہو گئی تو طلاق پڑ گئی۔
اگر کوئی نکاح سے پہلے طلاق دے توطلاق ہی گی یا نہیں ؟
اگر کوئی اجنبیہ غیر منکوحہ کو طلاق دے تو طلاق نہیں پڑے گی۔ طلاق دینے سے پہلے نکاح کا ہونا ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لا طلاق قبل نکاح “ (شرح السنہ مشکوٰة ) نکاح سے پہلے طلاق نہیں ہے۔
اگر بیماری کی حالت میں طلاق دے تو طلاق پڑے گی یا نہیں؟
اگر بیمار ہوش و حواس کی درست کی حالت میں طلاق دے تو طلاق پڑ جائے گی اس لئے کہ اس میں سب شرطیں موجود ہیں۔
غصہ کی حالت میں طلاق
اگر کوئی شخص غصہ میں آکر طلاق دیدے تو طلاق نہیں پڑے گی یا نہیں؟
اگر غصہ اس قدر تھا کہ عقل جاتی رہی اور کچھ خبر نہیں کہ کیا کہہ رہا ہے تو ایسی بے ہوشی کے غصے میں طلاق دینے سے طلاق نہیں پڑے گی اور اگر ہوش کی حالت میں دی ہے تو طلاق پڑ جائے گی۔
حافظ ابن القیم حنبلیؒ کا غصے والے کی طلاق کے بارے میں ایک رسالہ ہے اس میں فرماتے ہیں کہ غصہ کی تین قسمیں ہیں ایک یہ کہ غصہ اس کو اتنا ہو کہ اس کی عقل میں کوئی فتور نہیں آیا اور اپنے اقوال و افعال کو جانتا اورسمجھتا ہے تو ایسے شخص کی طلاق کے وقوع میں کوئی شک نہیں ہے۔ دوسری قسم یہ ہے کہ غصہ اس کا اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ اس کو اپنے کرنے اور کہنے کی کچھ خبر نہ رہی تو ایسی حالت میں اگر وہ ہوا اور طلاق دیدی تو اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ تیسری قسم یہ ہے کہ درمیانی کیفیت و حالت رہی کہ مجنون جیسا نہ ہوگیا تو ایسے شخص کی طلاق کے وقوع میں تردد ہے۔
دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ طلاق واقع نہ ہونی چاہئے ۔ لیکن کتاب غابہ کی عبارت سے وقوع کا رجحان معلوم ہوتا ہے۔
جبریہ طلاق
جبریہ طلاق کسے کہتے ہیں اور یہ طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
زبردستی طلاق دلانے کو جبریہ طلاق کہتے ہیں۔ جس کی یہ صورت ہے کہ خاوند سے کوئی کہے کہ تو اپنی بیوی کو طلاق دیدے ورنہ میں تجھے جان سے مار ڈالوں گا اور خاوند کو یقین ہے کہ طلاق نہ دینے سے جان یقینا مارا جاﺅں گا۔ اور اس نے جان بچانے کیلئے طلاق دیدی تو اس جبرو اکراہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق نہیں پڑے گی۔
حضرت امام بخاریؒ اس کے متعلق ایک باب منعقدکر کے فرماتے ہیں کہ زبردستی اور جبراً طلاق دینے کا حکم ایسا ہی ہے جیسا کہ نشہ یا جنون میں طلاق دینا دونوں حالتوں میں طلاق دینے کا حکم ایک ہی ہے۔
اسی طرح بھول چوک سے طلاق دینی یا بھول چوک سے شرک کا کلمہ کہہ بیٹھنا یا شرک کا کوئی کام کرنا (ان سب صورتوں میں طلاق نہیں پڑے گی) جیسے بھول چوک سے شرک کا کلمہ کہنے سے مشرک نہیں ہوتا ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ تمام کاموں کادارومدار نیتوں پر موقوف ہے۔اور ہر شخص کو وہی ملے گا جیسی اس کی نیت ہوگی۔ اور حضرت عامر شعب نے اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
”ربنا لا تواخذنا ان نسینا اواخطانا ۔ الخ“ ۔ترجمہ:”خدایا بھول چوک میں ہماری گرفت نہ کرنا۔“
اور وسواسی اور مجنون و پاگل و دیوانہ کا اقرار صحیح نہیں ہے (تو ان کی دی ہوئی طلاق بھی صحیح نہیں ہوگی) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا تھا جس نے زنا کا اقرار کر لیا تھا ۔ ابک جنون کیا تجھے جنون تو نہیں ہے (اگر جنون ثابت ہو جاتا تو اس کے اقرار کا اعتبار نہ کرتے )۔
اور حضرت عثمانؓ نے فرمایا مجنون اور نشے والے کی طلاق نہیں پڑے گی اور حضرت عقبہ بن عامرؓ نے فرمایا کہ وسواسی کی طلاق نہیں پڑتی ہے یعنی اگر کسی کے دل میں طلاق کا وسوسہ گزرے اور زبان سے طلاق نہیں دی ہے تو دل میں طلاق کا وسوسہ گزرنے سے طلاق نہیں پڑتی ہے ۔ اور حضرت عطا نے فرمایا اگر کسی نے انت طالق کہا یعنی تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد شرط لگائی کہ اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو شرط کے موافق طلاق پڑ جائے گی یعنی اس نے یوں کہا تجھے طلاق ہے اگر گھر میں داخل ہوئی اور وہ گھر میں داخل ہو گئی توطلاق پڑ جائے گی۔ شرط کے تقدیم و تاخیر کی دونوں حالتوں میں ایک ہی حکم سے شرط پائے جانے سے طلاق پڑ جاتی ہے اورنافعؒ نے حضرت ابن عمر ؓ سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا، تجھے بائن ہے اگر گھر سے باہر نکلی، پھر وہ گھر سے باہر چلی گئی تو طلاق پڑ ی یا نہیں ۔ تو حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ اگر وہ گھر سے باہر نکل گئی تو طلاق پڑ گئی اور اگر نہیں نکلی تو نہیں پڑے گی اور امام زہری ؒ نے کہا کہ کوئی شخص یوں کہے کہ اگر ایسا ایسا نہ کروں تو میری بیوی کو تین طلاق۔ تو اس شخص سے دریافت کیا جائے گا کہ اس سے اس کی کیا مراد ہے او ر وہ کون سا کام ہے اور کتنی مدت کے لئے ہے۔ اگر وہ کوئی سال دوسال کی مدت معین کر دے اور کام کا تعین کر دے فیما بینہ و بین اللہ اس کی تصدیق کی جائے گی اور حضرت ابراہیم نخعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے یوں کہے کہ اب مجھے تیری ضرورت نہیں ہے تو اس کی نیت پر دارومدار ہوگا۔ (اگر طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق پڑے گی نہیں تو نہیں کیونکہ یہ کنایہ کے لفظوں میں سے ہے اور کنارے میں نیت کی ضرورت ہے۔
اور ابراہیم نخعیؒ نے یہی فرمایا ہے کہ ہر قوم کی طلاق ان کی زبان میں ہے یعنی لفظ طلاق عربی ہے جس کے معنی کھولنے اور چھوڑنے کے ہیں اگر اس کے بجائے اس کے معنی کا دوسرا لفظ اپنی زبان میں بولے تو طلاق پڑ جائے گی ۔ جیسے اردو میں کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا اور اس سے طلاق دینا مراد لیا ہوتو طلاق پڑ جائے گی۔
اور قتادہؒ نے کہا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے یوں کہے کہ جب تجھے پیٹ رہ جائے تو تجھ پر تین طلاق اب خاوند کو لازم ہےکہ ہر طہر پر اپنی بیوی سے ایک بار جماع کرے اور جب معلوم ہو جائے کہ اس کو پیٹ رہ گیا ہے تو اس کی بیوی اس سے جدا ہو گئی۔
اور امام حسن بصریؒ نے کہا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ تو اپنے میکے چلی جا اور اپنے ماں باپ سے مل جا تو اس کی نیت دیکھی جائے گی اگر اس سے طلاق دینے کی نیت ہے تو طلاق پڑ جائے گی اور طلاق کی نیت نہیں تو طلاق نہیں پڑے گی۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ طلاق مجبوری اور ضرورت سے دی جاتی ہے اور غلام اللہ کی رضا مندی کے لئے آزاد کیا جاتا ہے۔
اور امام زہریؒ نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ تو میری بیوی نہیں ہے تو اس سے اگر اس کی نیت طلاق کی ہے تو طلاق پڑ جائے گی۔
اور حضرت علیؓ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں۔ تین شخص مرفوع القلم ہیں یعنی ان کے اعمال نہیں لکھے جاتے اور نہ ان کے اعمال کااعتبار کیا جاتا ہے۔
(۱) دیوانہ یہاں تک کہ ہو ش میں آجائے۔
(۲) بچہ یہاں تک کہ جوان ہو جائے ۔
(۳) اور تیسرے سونے والا یہاں تک کہ جاگ جائے۔
اور حضرت علیؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہر شخص کی طلاق پڑ جاتی ہے مگر نادان اور بے وقوف کی نہیں پڑتی۔ (بخاری)

یہ بھی پڑھیں:  نکاح کی ترکیب