imran khan amrica

میں اس وقت بھارت کیلئے زیادہ پریشان ہوں ،یہاں تک کہ پاکستان سے زیادہ کیونکہ بھارت صحیح سمت میں نہیں جارہا :وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت صورت حال یہ ہے کہ 80 لاکھ کشمیری 50 روز سے اندر محصور ہیں جنہیں 9 لاکھ بھارتی فوج نے گھروں میں محصور کردیا ہے۔ کشمیر عالمی قوانین سے منسلک ہے اور یہ خطہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر کے عوام کو خود ارادیت کا حق دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘مجھے عالمی برادری سے کم از کم یہ توقع ہے کہ وہ کرفیو ہٹانے کے لیے کہیں گے جو غیر انسانی ہے اور یہ کشمیر کے تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں بھارت کے عوام کو ٹویٹر میں اپنے احساسات پہنچانے کی بہتر کوشش کرتا ہوں، میں بھارت کو جانتا ہوں اور مجھے بھارت سے پیار اور احترام ملا ہے جو کسی بھی پاکستانی سے زیادہ تھا۔ ‘میں اس وقت بھارت کے لیے زیادہ پریشان ہوں ،یہاں تک کہ پاکستان سے زیادہ کیونکہ بھارت صحیح سمت نہیں جارہا ہے، بھارت میں گزشتہ 6 برسوں سے جو ہورہا ہے اس کو دیکھیں تو وہ خوف ناک ہے یہ گاندھی اور نہرو کا بھارت نہیں ہے۔بھارت میں ہندو سپر میسی کا نظریہ غالب آگیا ہے، جب دوسروں سے نفرت کرنے کا نظریہ غالب آتا ہے تو برا ہوتا اسی نظرئیے نے گاندھی کو قتل کیا، اسی نظرئیے پر بھارت میں تین مرتبہ پابندی لگی۔ اب بدقسمتی سے یہ نظریہ بھارت کو چلا رہا ہے اور میں پریشان ہوں اور دو جوہری طاقتوں کو پریشان ہونا چاہیے ۔اسی لیے میں نے وزیراعظم بورس جانسن سے بات کی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر سربراہان مملکت سے بات کروں گا۔
افغانستان میں امریکی جنگ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘افغانستان میں پہلے جہادی پیدا کیے گئے اور پھر ان کو دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کے ساتھ شامل ہونا پاکستان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کی وجہ سے 70 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے تھے میرے ساتھ ملاقات ہو لیکن افغانستان کی حکومت نہیں چاہتی تھی اس لیے یہ ملاقات منسوخ کی۔
پاکستان کی معیشت پر ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘معیشت میں جب خسارہ ہوتو کامیابی حاصل نہیں کرسکتے اسی لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اور ہمیں بدقسمتی سے بدترین کرنٹ اکاؤنت خسارہ ملا لیکن ہم نے تقریباً 70 فیصد خسارہ کم کیا ہے اور ہم صحیح سمت کی جانب گامزن ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب ہم حکومت میں آئے تو بدترین معاشی صورت حال تھی اور چین نے ہماری مدد کی اگر چین سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مدد نہ کرتے تو ہم دیوالیہ کی طرف جارہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘اس وقت چین ہمیں تجارتی مواقع فراہم کررہا ہے اور چینی صنعت کو پاکستان منتقل کرنے کا اچھا موقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہندوستان کی حکومت نے تکبر میں وہ تاریخی غلطی کر دی جس سے کشمیریوں کو آزادی کا موقع مل گیا:وزیراعظم پاکستان

بعض پاکستانی ماہرین معیشت کہتے ہیں کہ 150 ارب سے زائد اور بعض کہتے ہیں 200 ارب سے زیادہ معیشت کو نقصان ہوا ہے۔ میرے خیال میں پاکستان کے لیے یہ بدترین وقت اور اب سبق مل گیا اور پاکستان کو پتہ ہے، اور جب میٹس کہتا ہے کہ پاکستان انتہاپسند ریاست ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے پہلے جہادی پیدا کیے اور بعد میں ان کو مارنا شروع کیا اسی لیے ہم مشکلات کا شکار ہوئے۔
چین کے ساتھ مختلف معاملات پر ہم بات کرتے ہیں جس کو یہاں بیان نہیں کروں گا لیکن ہم افغانستان کے معاملات بھی دیکھ رہے ہیں پھر ایران اور سعودی عرب کے درمیان بھی معاملات ہیں اسی کے دوران بھارت بھی ہے۔چین کے حوالے سے سوالات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین نے تجارت پر توجہ مرکوز رکھی اور چین کی جو بات مجھے سب سے اچھی لگتی ہے وہ کروڑوں شہریوں کو غربت سے نکالنا ہے اور میرا بھی یہی مقصد ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے کرپشن کے خلاف بڑی کارروائیاں کی اور کاش میں اپنے ملک بھی کرپشن کے خلاف ایسا ہی کرسکتا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اس وقت ملتوی ہوئے جب دستخط ہونے والے تھے اگر ہم سے مشاورت کی جاتی تو شاید ہم کردار ادا کرتے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کے احساس پروگرام میں سیلانی مفت کھانا سکیم کی شمولیت