طلاق کا بیان(۴)

EjazNews

گزشتہ سے پیوستہ

ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ کو طلاق دی وہ اپنے میکے گئیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ ؐ سے فرمایا گیا کہ ان سےرجوع کر لو۔ وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی اور بہت زیادہ نماز پڑھنے والی ہیں۔ وہ یہاں بھی آپ کی بیوی ہیں اور جنت میں بھی آپ کی ازواج مطہرات میں داخل ہیں۔ یہی روایت مرسلاً ابن جریر میں بھی مروی ہے اور بعض سندوں سے یہ بھی روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر رجوع کر لیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی آسیہ کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی۔ حضرت عمر نے یہ واقعہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آپ ناراض ہوئے اور فرمایا اسے چاہئے کہ رجوع کرے، پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے۔ پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہالیں پھر اگر جی چاہے طلاق دیں۔ یعنی اسی پاکیزگی کی حالت میں بات چیت کرنے سےپہلے یہی وہ عدت ہے جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
دوسری روایت میں ہے’’ فطلقو ھن لعدتھن ‘‘یعنی طہر کی حالت میں جماع سے پہلے بہت سے بزرگوں نے یہی فرمایا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں یعنی حالت حیض میں طلاق نہ دو۔ نہ اس طہر میں طلاق دو جس میں جماع ہو چکا ہو۔ بلکہ اس وقت تک چھوڑ دے جب حیض آجائے پھر اس سے نہالے تب ایک طلاق دے۔
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ عدت سے مراد طہر ہے قردئ سے مراد حیض ہے یا حمل کی حالت میں، جب حمل ظاہر ہو جس طہر میں مجامعت کر چکا ہے اس میں طلاق نہ دے۔ نہ معلوم حاملہ ہے یا نہیں۔ یہیں سے با سمجھ علماء نے طلاق کے احکام لئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایلاءکا بیان

اور طلاق کی دوقسمیں ہیں طلاق سنت ا ور طلاق بدعت۔ طلاق سنت تویہ ہے کہ طہر کی یعنی پاکیزگی کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دیدے یا حالت حمل میں طلاق دے اور بدعی طلاق یہ ہے کہ حالت حیض میں طلاق دے۔ یا طہر میں دے لیکن مجاعت کر چکا ہو اور معلوم نہ ہو کہ حمل ہے یا نہیں۔ طلاق کی تیسری قسم بھی ہے جو نہ طلاق سنت ہے اور نہ طلاق بدعت اور وہ نابالغہ کی طلاق ہے اور اس عورت کی جسے حیض آنے سے ناامیدی ہو چکی ہو اور اس عورت کی جس سے دخول نہ کیا گیا ہو۔ ان کی تفصیل آچکی ہے۔ پھر فرمان ہے عدت کی حفاظت کرو۔ اس کی ابتداء انتہا کی دیکھ بھال رکھو۔ ایسا نہ ہو کہ عدت کی لمبائی عورت کو دوسرا خاوند کرنے سے روک دے اور اس بارے میں اپنے معبود حقیقی سے ڈرتے رہو۔ عدت کے زمانے میں مطلقہ عورت کی رہائش کا مکان خاوند کے ذمہ ہے وہ اسے نکال نہ دے اور نہ خود اسے نکلنا جائز ہے۔ کیونکہ وہ خاوند کے حق میں رکی ہوئی ہے۔ فاحشۃ مبینۃ زنا کو بھی شامل ہے اور اسے بھی کہ عورت اپنے خاوند کو تنگ کرے اور اس کی مرضی کے خلاف کرے اور ایذاء پہنچائے یا بدزبانی اور کج خلقی شروع کر دے اور اپنے کاموں سے اور اپنی زبان سے سسرال والوں کو تکلیف پہنچائے تو ان صورتوں میں بے شک خاوند کو جائز ہے کہ اسے اپنے گھر سے نکال دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حدیثیں ہیں اس کی شریعت اور اس کے بتلائے ہوئے احکام ہیں۔ جو شخص ان پر عمل نہ کرے، انھیں بے حرمتی کے ساتھ توڑ دے اوران سے آگے بڑھ جائے وہ اپنا ہی برا کر نے والا اور اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا ہے شاید کہ اللہ تعالیٰ کوئی نئی بات پیدا کر دے۔ اللہ کے ارادوں اور ہونے والی بات کو کوئی نہیں جان سکتا۔ عدت کے زمانے میں مطلقہ عورت کو خاوند کے گھر گزارنے کا حکم دینا اس مصلحت سے ہے کہ ممکن ہے اس مدت میں اس کے خاوند کے خیال بدل جائیں۔ طلاق دینے پر نادم ہو ،دل میں لوٹانے کا خیال پیدا ہو جائے اورپھر رجوع کر کے دونوں میاں بیوی امن و امان سے گزر کرنے لگیں۔ نیا کام پیدا کرنے سے مراد یہی رجعت ہے اسی بنا پر بعض سلف اور ان کے تابعین مثلاً امام احمد بن حنبلؒ وغیرہ کا مذہب ہے کہ مبتوتہ یعنی وہ عورت جس کی طلاق کے بعد خاوند کو رجعت کا حق باقی نہ رہا ہو اس کے لئے عدت گزارنے کے زمانے تک مکان کا دینا خاوند کے ذمہ نہیں۔ اسی طرح جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اسے بھی رہائشی مکان عدت تک کے لئے دینا اس کے وارثوں پر نہیں ہے ان کی اعتمادی دلیل حضرت فاطمہ ؓ بنت قیس فہر یہ والی حدیث ہے کہ جب ان کے خاوند حضرت ابو عمر بن حفص نے ان کو تیسری آخری طلاق دیدی اور وہ اس وقت یہاں موجود نہ تھے بلکہ یمن میں تھے اور وہیں سے طلاق دی تھی تو ان کے وکیل نے ان کے پاس تھوڑے سے جو بھیج دئیے تھے کہ یہ تمہاری خوراک ہے ،یہ بہت ناراض ہوئیں اس نے کہا بگڑتی کیوں ہو تمہارا نفقہ کھانا پینا ہمارے ذمہ نہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں آپؐ نے فرمایا ٹھیک ہے ،تیرا نفقہ اس پر نہیں۔ مسلم میں ہے کہ نہ تیرے رہنے سہنے کا گھر اور ان سے فرمایا کہ تم ام شریک کے گھر اپنی عدت گزارو۔پھر فرمایا وہاں تو میرے اکثر صحابہ جایا کرتے ہیں۔ تم عبد اللہ بن ام مکتوم کے پاس اپنی عدت کا زمانہ گزارو۔ وہ ایک نابینا آدمی ہیں ۔تم وہاں آرام سے اپنے کپڑے بھی رکھ سکتی ہو۔ الخ

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کا بیان ۔ (۳)

مسند احمد میں ہے کہ ان کے خاوند کو حضور نے کسی جہاد پر بھیجا تھا انہوں نے وہیں سے انھیں طلاق بھیج دی ان کے بھائی نے ان سے کہا کہ ہمارے گھر سے چلی جائو ۔ انہوں نے کہا: نہیں جب تک عدت ختم نہ ہو جائے۔ میرا کھانا پینا اور رہنا سہنا میرے خاوند کے ذمہ ہے۔ اس نے انکار کیا۔ آخر یہ معاملہ حضور ؐ کے پاس پہنچا۔ آپ ؐ کو معلوم ہوا یہ آخری تیسری طلاق ہے تب آپ نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے فرمایا: نان و نفقہ گھر بار خاوند کے ذمہ اس صورت میں ہے کہ اسے حق رجعت حاصل ہو جب یہ نہیں تو وہ بھی نہیں۔ تم یہاں سے چلی جائو اور فلاں عورت کے گھر عدت گزارو۔ پھر فرمایا وہاں تو صحابہ کی آمدو رفت ہے تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت کا زمانہگزارو۔ وہ نابینا ہیں تم کو دیکھ نہیں سکتے۔ الخ
طبرانی میں ہے یہ فاطمہ بنت قیسؓ ضحاک ابن فرشی کی بہن تھیں، ان کے خاوند مخزومی قبیلہ کے تھے طلاق کی خبر کے بعد ان کے نفقہ طلب کرنے پرا ن کے خاوند کے اولیاءُ نے کہا تھا نہ تو تمہارے میاں نے کچھ بھیجا ہے نہ ہمیں دینے کو کہا ہے اور حضور کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے جب عورت کو وہ طلاق مل جائے جس کے بعد وہ اپنے اگلے خاوند پر حرام ہو جاتی ہے جب تک دوسرے سے نکاح اور پھرچھوٹ چھٹا نہ ہو جائے تو اس صورت میں عدت کا نان و نفقہ اور رہنے کا مکان اس کے خاوند کے ذمہ نہیں۔ (ابن کثیر) (ختم شد)

یہ بھی پڑھیں:  ظہار کسے کہتے ہیں؟