dengue-fever

ڈینگی بخار ، گھبرائیں نہیں

EjazNews

Dr gulam Sidiq

پاکستان میں ڈینگی بخار نے اپنے پنجے پوری طرح گاڑھ لیے ہیں۔اور کئی قیمتی جانیں اس کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں۔ڈینگی بخار کی تاریخ ویسے تو بہت پرانی ہے اور سب سے پہلا کیس جس کا ریکارڈ ملتا ہے اس کا تعلق چین سے ہے۔چین کے ایک انسائیکلوپیڈیا میں،جو جن ویتنی(۴۲۰ ۔۲۶۵)نامی سائنسدان سے منسوب ہے،میں ایک ایسے بخار کا تذکرہ ملتا ہےجو پانی کے زہر سے ہوتا تھا۔اس کو اڑنے والے پتنگوں اور مچھروں کی مرہون منت جانا جاتا تھا۔لیکن موڈرن تاریخ میں ڈینگی فیور کو ایک خاص مچھر ایڈیز ایجیپٹیز سے منسوب کیا جاتا ہے۔پہلے پہل تو یہ مچھر صر ف افریقہ میں پایا جاتا تھا لیکن پندرھویں صدی سے انیسویں صدی کے دوران یہ مچھر افریقہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔اگرچہ سترہویں صدی میں ڈینگی کے وبائی صورت میں پھیلنے کے کچھ شواہد ملتے ہیں لیکن سب سے پہلا ٹھوس ثبوت، جو ڈینگی کے وبائی صورت میں پھیلنے کا ملتا ہے ۔وہ ۱۷۷۸ اور ۱۷۸۰ میں ملتا ہے جب اس نے افریقہ ،ایشیا اور شمالی امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا مگر ایڈیز مچھراور ڈینگی بخار کا تعلق ۱۹۰۶ میں ثابت ہو گیا تھا۔ اور ذرد بخار کے بعد ڈینگی بخار دوسرا ایسا بخار تھا جو کہ وائرس سے ہوتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ بخار پوری دنیا میں مزید پھیلتا چلا گیا اور اسی دوران ڈینگی وائرس کی مختلف اقسام بھی سامنے آنے لگیںاور اس کی سب سے شدید قسم ڈینگی ہیمریجک فیور کا بھی پتا چلا جب اس شدید قسم کو ۱۹۵۳ میں فلپائن میں رپورٹ کیا گیا تھااور ۱۹۷۰ تک ڈینگی بخار دنیا میں بچوں کی اموات کا ایک بڑا سبب بن چکا تھا۔۱۹۸۱ میں پہلی بار وسطی اور جنوبی امریکہ میں ڈینگی ہیمریجک فیور اور ڈینگی شاک سنڈروم سامنے آیا تھا۔ڈینگی بخار گرم مرطوب علاقوں میں پائی جانے والی وائرس کی ایک ایسی انفکشن ہے جو ایک مخصوص مچھرایڈیز کے ذریعے پھیلتی ہے،دوسری جنگ عظیم کے بعد سے یہ بیماری ایک عالم گیر صورت اختیار کرچکی ہے اوردنیا کے ۱۱۰ سےزائد ممالک میں پائی جاتی ہے۔ہر سال اس بیماری سے کروڑوں شخص بیمار ہوتے ہیں اور سالانہ ۲۰ ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں،اس بیماری کا جراثیم ڈینگی فیور وائرس کہلاتا ہے۔اس وائرس کی پانچ اقسام بیان کی جاتی ہیں۔اس وائرس کو بیمار لوگوں سے تندرست انسانوں تک پہنچانے کا کام ایڈیز اہجپٹیز نامی مچھر سر انجام دیتا ہے۔ایڈیز مچھر عموما صبح سویرے اور سر شام ہی کاٹتے ہیں لیکن یہ ۲۴ گھنٹے میں کسی بھی وقت کاٹ سکتے ہیں،اگر چہ اس بیماری کا شکار انسان ہی ہوا کرتے ہیں لیکن یہ بیماری بندروں اور لنگوروں وغیرہ میں بھی ملتی ہے۔کسی تندرست انسان کوبیمار کرنے کے لیے متاثرہ مچھر کا ایک بار کاٹ لینا ہی کافی ہوتا ہے۔جب ڈینگی وائرس سے متاثرہ مچھر کی تندرست انسان کو کاٹتا ہے تو یہ ڈینگی بخار کے وائرس کو اس کی جلد میں منتقل کر دیتا ہے جلد سے یہ وائرس خون کے سفید خلیوں میں داخل ہو جاتا ہے اور سفید خلیوں میں اس کی نشو و نما ہونے لگتی ہےاگر انفیکشن شدیدنوعیت کی ہوتو ڈینگی وائرس سفید خلیوں کے علاوہ جگر اور ہڈیوں کے گودے میں بھی پرورش پاتے ہیں۔ جس قدر وائرس کی تعداد زیادہ ہو گی اتنی ہی زیادہ شدیدعلامات ہوں گی۔وائرس کی وجہ سے خون نالیوں سے نکل کر جسم کے دوسرے حصوں میں جمع ہو جاتا ہے جس سے نظام دوران خون میں خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہےاور بلڈ پریشربہت کم ہو جاتا ہےجبکہ ہڈیوں کے گودے میں پرورش پانے والے وائرس بلڈ پلیٹ لٹس کی مقدار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔پلیٹ لٹس خون کے جمنے میں مدد دیتے ہیں ۔ان کی کمی کی وجہ سے جسمانی سوراخو مثلاً ناک منہ وغیرہ سے خون بہنے لگتا ہےاور اس کو ہیمریجک فیور کہتے ہیں جو اس بخار کی ایک خطرناک قسم ہے ۔جہاں تک ڈینگی بخار کی علامات کا تعلق ہے تو ۸۰ فیصد مریضوں میں تو علامات ہوتی ہی نہیں اور اگر ہوں بھی تو بہت کم ہوا کرتی ہیں یعنی صرف ہلکا سا بخار ہو سکتا ہے صرف پانچ فیصد مریضوں میں شدید علامات ہوا کرتی ہیں اور بہت کم مریض ایسے ہوتے ہیں جن میںاس بخار کی وجہ سے جان کا خطرہ ہوتا ہے۔مچھر کے کاٹنے اور علامات کے ظاہر ہونے کے درمیان ۳ تا ۱۴ دن کا وقفہ ہو سکتا ہے لیکن عام طور پر یہ وقفہ ۴ تا ۷ دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ڈینگی بخار کی مخصوص علامات میں شدید بخار،شدید سردرد ،خاص طور پر آنکھوں میں درد ہڈیوں ،جوڑوں اور پٹھوں میںشدت کا درد اور جسم پر ریش نکل آنا شامل ہیں۔ ہڈیوں اور پٹھوں میں ہونے والا درد اس قدر شدید ہوتا ہے کہ اس بخار کو ـ بریک بون فیور، کا نام دیا جاتا ہے۔ شروع میں تیز بخار چڑھ جاتا ہے جس کی شدت ۱۰۴ تک ہو سکتی ہےجس کے ساتھ جسم اور سر میں شدید درد ہوتا ہے۔یہ مرحلہ دو تا سات دن تک جاری رہتا ہےبعض مریضوں کو الٹی اور متلی کی شکایت بھی ہوسکتی ہے،اس مرحلے میں مریض کے جسم پر ریش نکل آتی ہےاور اس کا جسم ہلکا سرخ ہو جاتا ہے۔جسم پر چھوٹے چھوٹے سرخ دھبے پڑنے لگتے ہیں جو خون کی باریک نالیوں سے خون کے اخراج کی وجہ سے پڑتے ہیں۔کبھی کبھی ناک اور منہ سے ہلکا ہلکا خون بھی بہنے لگتا ہے۔ڈینگی سے بچائو کا تمام تر انحصار اس بات پر ہے کہ ڈینگی پھیلانے والے مچھروں کا خاتمہ کیا جائےاور ان مچھروں کے کاٹنے سے بچا جائےاس سلسلے میں سب سے اہم بات عوام کو اس بارے میں آگہی فراہم کرنا ہے کہ کس طرح اس مرض سے بچائو ممکن ہے۔
سب سے اہم بات مچھروں کا خاتمہ ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پرورش پانے والی جگہوں کو ختم کیا جائےکیونکہ یہ مچھر صاف پانی میں پرورش پاتا ہے اس لیے گھروں،دفتروں،دوکانوں،تعلیمی اداروں اور دوسری جگہوں پر پانی کھلے ہوئے برتنوں میں کسی طور جمع نہیں ہونے دیا جائے۔ہمیں اپنے گھروں میں اس بات کا مکمل خیال رکھنا چاہیے کہ پانی جمع کرنے کے برتن گھڑے ،ڈرم ،بالٹی، ٹب، ٹینکی، وغیرہ ڈھکے ہوئے ہوں،روم کولر کو استعمال کے بعد خشک کر کے رکھنا چاہئے۔پرندوں اور جانوروں کے پانی پینے کے برتن روزانہ صاف کر کے رکھے جائیں ۔گھر کا ناکارہ سامان خاص طور پر ٹوٹے برتن اور ٹائر وغیرہ تلف کر دیئے جائیں ۔پودوں اور گملوں وغیرہ میں پانی جمع نہ ہونے دیا جائے ،اگر پانی کے پائپ وغیرہ لیک کر رہے ہوں تو ان کی مرمت کروائیں ۔اس مقصد کے لیے عوام اور حکومت دونوںکو مل کر کام کرنا پڑے گا اکیلی حکومت کچھ نہیں کر سکتی جب تک اسے عوام کی بھر پور مدد حاصل نہ ہو۔ مچھروں سے کاٹنے سے بچائو کے لیے پوری آستینوں والے کپڑے پہنیں۔کوائل میٹ اور مچھر بھگائو لوشن کا استعمال کریں۔رات کو سوتے وقت مچھر دانی لگا کر سوئیں۔اگر چہ ڈینگی بخار سے بچائو کی ویکسین بازار میں آ چکی ہے لیکن ابھی یہ چند ممالک میں ہی دستیاب ہے،ڈینگی فیور کا ابھی تک کوئی شافعی علاج دریافت نہیں ہوا اور جو علاج کیا جاتا ہے وہ علامات کو کنٹرول کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔وائرس کو مارنے والی دوا ابھی تک مارکیٹ میں میسر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت برقرار رکھنے کیلئے اپنا وزن کم کیجئے
کیٹاگری میں : صحت