UN_General

اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس ،کشمیر کا موقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین فورم

EjazNews

عمران خان اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ گئے ہوئے ہیں، اُن کی ملاقات صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ہوگی۔ عمران خان جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کریں گے، اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس ہر سال ستمبر میں ہوتا ہے، جس میں اس کے 193 رُکن ممالک کے سربراہان کو جنرل اسمبلی سے خطاب کا موقع ملتا ہے۔ اس اجلاس کا سب سے بڑا فائدہ تو یہی ہے کہ دنیا سے خطاب کر کے اپنی پالیسیز کی وضاحت کا موقع مل جاتا ہے۔ نیز، اجلاس کے دَوران دنیا کے اہم رہنماؤں سے ملاقات اور عالمی برادری سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے بھی نادر مواقع ملتے ہیں۔ایرانی صدر روحانی نے انتخابات جیتنے کے بعد اپنے نیوکلیئر معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ نیویارک میں ہونے والی ملاقاتوں ہی میں ہموار کی تھی۔ عمران خان اپنی وکٹری سپیچ میں دنیا سے اچھے تعلقات کے عزم کا اظہار کر چُکے ہیں، اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کی یہی گائیڈ لائن ہے، درحقیقت، خارجہ امور پاکستان کے لیے ہمیشہ ہی سے چیلنج رہے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے اپنی وکٹری تقریر میں امریکہ، چین، بھارت، افغانستان، عرب ممالک اور ایران کا نام لے کر ان کا ذکر کیا تھا۔ بعدازاں، وزیرخارجہ نے ان معاملات کی مزید وضاحت ایک پریس کانفرنس میں کی تھی۔توقع کی جا سکتی ہے کہ اقوامِ متحدہ کا اجلاس نئے اور پُرعزم وزیر اعظم کی سرپرستی میں پاکستان کو ڈپلومیسی کے خارِزار سے نکالنے کا ایک اچھا موقع فراہم کرے گا۔کشمیر کا اہم ترین عنصر بھی ان معاملات میں داخل ہوچکا ہے۔ عمران خان کی حکومت میں وہ عزم، سفارتی لچک اور مہارت موجود ہے کہ وہ امریکہ کے سامنے مؤثر طریقے سے اپنے مطلب کی بات رکھےاور مطالبات منوا سکے۔ یہ ہار، جیت یا منہ توڑ جواب دینے کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے مفادات کو آگے بڑھانے کی بات ہے، جس میں سفارتی کمال اور تدبر کی ضرورت ہے۔ نیز، اس طرح کے معاملات میں صبر اور حوصلے کی ازحد ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر علاقے میں ہمارے قریبی دوست تُرکی اور ایران جن مسائل سے نبردآزما ہیں، اُن کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت بردباری اور دُور اندیشی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
بھارت کے وزیراعظم، نریندر مودی کی جگہ سابق اجلاس میں مرحومہ سُشما سوارج جنرل اسمبلی میں تھیں۔اور پاکستان کی جانب سے شاہ محمود قریشی تھے۔ لیکن اس دفعہ انڈیا سے نریندرا مودی اورپاکستان سے وزیراعظم عمران خان کی تقریر ہوگی۔ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی تنازع ہے، اس لیے دیکھنا ہوگا کہ نئی حکومت عالمی فورم پر اس کا کس انداز میں ذکر کرتی ہےیہی تقریر دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے تعلقات کی سمت طے کرے گی۔
گزشتہ دوار میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں برہان وانی کا ذکر نہ کرنے پر تحریک انصاف اور پی پی پی نے نواز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، یہاں تک کہ اُن پر کشمیر کو بھارت سے دوستی کی خاطر قربان کرنے کا بھی الزام لگا۔لیکن گزشتہ دور میں جب شاہ محمود قریشی نے یو این او کے اجلاس میں شرکت کی تواُنہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کے جواب میں کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے ثبوت کے طور پر جو تصویر پیش کی تھی، اس پر بڑا تنازع ہوا کہا گیا کہ یہ فلسطین کی ہے اور اس کے فوٹو گرافر نے اس بات کی تصدیق ہی نہیں کی، بلکہ اُس پر عالمی ایوارڈ لینے کا بھی بتایا۔ اس معاملے پر کوئی تحقیق یا سرزنش سامنے نہیں آئی۔ سفارت کی اعلیٰ سطح پر ایسے جذباتی پن کا مظاہرہ نہ دہرایا جائے۔ اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورم پر ڈپلومیسی، ٹھنڈے دماغ کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ اپنے مُلک میں عوامی مقبولیت کی سند حاصل کرنے کی جگہ نہیں، بلکہ دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج بلند کرنے کا اسٹیج ہے۔
بھارتی میڈیا میں سدھو کی پاک فوج کے سربراہ سے بے تکلفی اور اُن کے مطابق جنرل باجوہ کا یہ کہنا کہ’’ پاکستان امن چاہتا ہے‘‘ کا بھی بڑا ذکر ہوا۔ سدھو کے مطابق ،پاک فوج کے سربراہ نے فراخ دلی کا مظاہرہ کر کے سکھ یاتریوں کو بابا گرو نانک کی سالگرہ پر راہ داری فراہم کرنے کی بھی پیش کش کی۔ یہ قابل تحسین قدم ہے، جو سکھ کمیونٹی کے دِلوں کو چھوتا ہے۔ دیکھا جائے، تو یہ مذہبی رواداری کی بہترین مثال ہے، لیکن کیا اسے بھارت میں بھی اسی طرح لیا گیاتھا نہیں، وہاں سدھو پر غدّاری کے مقدمے قائم کردئیے گئے۔ یاد رہے ،سدھو کا تعلق سکھ کمیونٹی سے ہے، جبکہ بھارت میں ہندؤوں کا غلبہ ہے۔
وزیر اعظم، عمران خان کہہ چکے ہیں کہ’’ بھارت اگر ایک قدم بڑھائے گا، تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔‘‘ پاکستانی وفد کو نیویارک میں یورپی اور عالمی لیڈروں سے بھی ملنے کا موقع ملے گا۔ جہاں تک یورپ یا جنوب مشرقی ایشیا کے ملکوں کا تعلق ہے، وہ سب نیک تمنائوں کا بہت کُھل کر اظہار کریں گے کہ یہی اخلاقی خوش دِلی اُن کی ڈپلومیسی کی بنیاد ہے۔ اسے ہمارے میڈیا اور خاص طور پر حکومتی حلقوں کی جانب سے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا دنیا فتح کر لی گئی ہے۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی وفد سے ملاقاتوں میں دنیا کو یہ جاننے کا موقع ضرور ملے گا کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان کے سیاسست میں آنے کے بعد کیا تبدیلی آئی ہے۔ باتوں میں جتنی نرمی اور خُوبصورتی نظر آتی ہے، وہ سفارت اور ٹھوس اقتصادیات اور مالیات میں ڈھلتے ہوئے بہت سے ناخوش گوار جوابات کا تقاضا کرتی ہے۔ ایف اے ٹی ایف اس کی ایسی ہی شکل ہے۔ اس میں بنیادی لفظ عمل یا ایکشن ہے۔دنیا دیکھے گی کہ جس سربراہ سے بات ہورہی ہے، اس کا مُلک کس پوزیشن کا حامل ہے۔ اگر وہ تبدیل ہونا چاہتا ہے، تو کس سمت میں اور کتنی جلدی۔ روڈ میپ تیار ہے یا صرف باتوں ہی سے کام چلایا جارہا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مُلک کی اقتصادی صلاحیت کس نوعیت کی ہے۔یقیناً خزانہ، خارجہ اور انسانی حقوق کے وزیروں نے اس کا جواب دینے کے لیے زبردست تیاری کی ہوگی ۔ اگر مقصد صرف تعریفی تجزیے لکھوانا ہے، تو فتح ہوچکی ۔اپنے سوشل میڈیا پر تحسین ہی تحسین بھی آسان ہے، لیکن اگر دنیا سے کوئی ٹھوس نتائج لینے ہیں، کشمیر میں واقعی پیش رفت کرنی ہے، تو یہ مراحل پُل صراط سے گزرنے کے برابر ہوں گے۔
بہت سے ناقدین کا خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کا سالانہ اجلاس محض ایک رسم ہے، لیکن شاید اُنھیں یاد نہ ہو کہ ایرانی صدر، روحانی نے اپنے پہلے انتخاب کے فوراً بعد، ایسے ہی ایک اجلاس میں شرکت کر کے دنیا کو قائل کیا کہ ایران سے نیوکلیئر ڈیل ہی امن کا بہترین راستہ اور ایرانی ایٹمی مسئلے کا حل ہے۔ اُن کی امریکی صدر سے ملاقات تو نہیں ہوئی تھی، تاہم ایران، جو امریکہ کو شیطان کہتا تھا اور امریکہ، جو ایران کو برائی کا محور کہتا تھا، اُن کے درمیان یہ خوش گوار تبدیلی دیکھی گئی تھی کہ صدر اوباما نے ٹیلی فون پر صدر، روحانی سے نیویارک کے اچھے موسم میں سیر کرنے کی بات کی تھی، جبکہ ایرانی صدر نے امریکی صدر کا شُکریہ ادا کرکے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ برف پگھلی اور چار سال بعد نیوکلیر ڈیل ہوگئی تھی جو موجودہ صدر ٹرمپ نے ختم کر دی ہو ئی ہے۔ امید ہے، پاکستانی وفد کے سربراہ بھی اس اجلاس میں کوئی ایسا راستہ تلاش کرسکیں گے، جس سے کشمیریوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوسکیں۔ کشمیری اس وقت اپنے سفیر کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بیٹی کی اسکول فیس ادا نہ کر پانے پر خود سوزی کرنے والا باپ دم توڑ گیا