kashmir

آزادی کشمیر کا کٹھن سفر

EjazNews

کرتی ہے ملوکیت آثار جنوں پیدا
اللہ کے نشر ہیں تیمور ہو یا چنگیز
کشمیر میں ظلم و استبداد کے خلاف پہلی آواز کشمیری شال بافوں نے مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں 29اپریل1865ء کو بلند کی جب ہزاروں صنعتی مسلمان مزدور زال ڈگر کے میدان کارزار میں کود پڑے۔ گھڑ سوار فوج نے ہجوم کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور حا جی راتھر کے پل کی طرف دھکیل کر ان پر یورش کر دی۔ کئی مزدور زخمی ہوئے جنہیں اٹھا اٹھا کر دریا میں پھینک دیا گیا۔ صرف اٹھائیس (28) شہیدوں کی لاشیں دریائی دست بر دسے بچ سکیں۔ مزدوروں نے ان شہدا کا جلوس رام باغ تک نکالا۔ یہ تحریک آزادی کے پہلے شہدا کا جلوس تھا جس نے اپنے خون سے ڈوگرہ راج کے استبداد پر مہر لگا دی۔ سینکڑوں مزدوروں کی پکڑ دھکڑ اور قید و بند کا سلسلہ ایک عرصے تک جاری رہا۔ اگر چہ تحر یک آزادی کی یہ پہلی درخشندہ روایت سفاکی و استبداد اور جوروستم کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں چھپ گئی۔ مگر محبان وطن کے دلوں میں ایک چنگاری ضرور سلگا گئی کہ کوئی ہمارا مقدر نہیں!
جولائی1924ء میں ایک بار پھر یہ سلگتی ہوئی آگ شعلہ زن ہوئی جب 21جولائی کوریشم خانہ کے 21مزدور لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا اور اگلے روز ہزاروں مزدوروں پر فوج کی مدد سے پولیس نے حملہ کر کے سینکڑوں کو زخمی کر دیا۔ ریشم خانہ کے مزدوروں کا یہ واقعہ بھی کشمیری مسلمانوں کی بیداری کا سبب بنا اور ان کی آواز کشمیر سے باہر دوسرے علاقوں تک بھی پہنچی۔ یہ عوامی تحریک طاقت اور تشد دسے پھر دبا دی گئی ۔لیکن لا و ااندر ہی اندر پکتا رہا اور سات سال بعد میلا واچر ابل پڑا۔
13جولائی1931ء ، تحریک حریت کا تاریخ ساز دن:
ظلم و استبداد کا جو سلسلہ 1819ء سے سکھ ڈوگرہ راج کے ساتھ کشمیر میں شروع ہوا اور کشمیری مسلمانوں کو ان کے وطن میں جس طرح بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا جانے کا تعلیمی اقتصادی اور مذہبی لحاظ سے ان کا استحصال کیا گیا اس کی ایک جھلک متذکرہ بالا سطور میں سر ایلبین بینر جی کے چشم کشا بیان میں دیکھی جاسکتی ہے اب جبکہ کشمیر کی حقیقی صورت حال باہر کی دنیا کوبھی معلوم ہونے لگی تھی پھر بھی کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم میں کوئی کمی نہ آئی اور ہرلحاظ سے ان پر غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا تھا۔ حتیٰ کہ قدم قدم پر ان کے مذہبی شعائر کی توہین کی جارہی تھی۔ ان کی مساجد کی تالہ بندی ہورہی تھی۔ اذان دینے پر پابندی لگ رہی تھی۔ عیدین کے خطبات پر اعتراض ہورہے تھے۔ یہ وہ صورت حال تھی جو ایک مسلمان کے ایمان و ایقان پر ایسا حملہ تھا کہ جسے کوئی فاسق و فاجر مسلمان بھی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔1931ءمیں یکے بعد دیگرے ایسے واقعات پیش آئے جو کشمیری مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کی آزمائش کا سبب بن گئے۔ یہاں ایسے چند واقعات کا تذکرہ کر دینا کافی ہوگا۔
1931ء کے شروع میں جموں کی تحصیل اودھم پور کا ایک ہندو زمیندار مسلمان ہو گیا۔ تحصیلدار نے کاغذات مال سے اس کا نام خارج کر دیا۔ اس کی جائیداد پر اس کا بھائی قابض ہو گیا۔ زمیندار نے عدالتی چارہ جوئی کی تو حج نے قانونی کارروائی کے دوران زمینداز سے کہا کہ ’’شدھ‘‘ ہو جائوتو جائیداد واپس مل جائے گی۔ زمیندار نے مرتد ہونے سے انکار کیا تو اس کا دعویٰ خارج کیا گیا۔
29اپریل 1931ءکومفتی محمد اسحٰق شالا مار باغ جموں میں عید الاضحی کی نماز پڑھانے کے بعد خطبہ مسنونہ پیش کررہے تھے جس میں حضرت ابراہیمؑ و موسیٰ ؑ کے اذکار میں مفتی صاحب نے نمرود اور فرعون کا حوالہ بھی دیا۔ اس موقع پرایک ہندو سب انسپکٹر پولیس (لال کھیم چند نے امام صاحب کے پاس پہنچ کرانہیں خطبہ بند کرنے کا حکم دیا۔ امام صاحب نے کہا کہ یہ خطہ نماز کا حصہ ہے اور وہ اسے مکمل کرنے پر مجبور ہیں۔ مگر ان پر بدستور خط ختم کرنے پر اصرار کر رہا تھا۔ یہ صریحاً مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں مداخلت تھی جس پر نمازیوں میں اشتعال پھیلا اور جموں میں حکومت کے اس اشتعال انگیز رویئے پر احتجاجی جلسے ہوئے۔ اسی دوران جموں میں قرآن کریم کی بے حرمتی کا واقعہ ہوا۔ سری نگر میں اس واقع کے سلسلے میں دیواروں پر پوسٹر لگاتے ہوئے ایک مسلم نوجوان کوگرفتارکرلیا گیا جس سے شہر میں اشتعال پھیل گیا۔
21 جون کو خانقا معلیٰ (سید علی ہمدانی کی درگاہ) پر ایک بہت بڑا جلسہ ہوا جس میں جموں وکشمیر کے اکابر شریک ہوئے تا کہ مہاراجہ سے مل کر ان کے سامنے عوام کے مسائل پیش کریں۔ جب یہ جلسہ ختم ہواہی چاہتا تھا کہ عبد القدیر خاں ایک تنومند شخص بغیر کسی دعوت کے یکدم اسٹیج پر جا پہنچا اور ایک جذبات انگیز تقریر کرنے لگا۔ اس نے کہا ’’مسلمانو! متحد ہو جاو – عرضداشتیں بھیجنا چھوڑ دیں۔‘‘ مہاراجہ کے محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا: ’’اسے زمین بوس کر دیں‘‘۔’’آزادی حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ’’جہاد‘‘ ہے۔
عبدالقدیر کا تعلق امروہہ یو۔پی سے تھا۔ اُس کی مختصر تقریر نے اسلامیان کشمیر کو بیدار کر دیا۔ عبدالقدیر کی تقر یر خلاف قانون اور باغیان قرار دے کر اس کے خلاف 25جون کو مقدمہ درج کیا گیا اور اسے نسیم باغ کے ایک ہائوس بوٹ سے گرفتارکر لیا گیا۔ مقدمہ کی سماعت چھ جولائی سے سیشن جج کی کھلی عدالت میں شروع ہوئی ۔جو چار دن تک جاری رہی۔ عدالت کے باہرلوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے لگے۔ حکام نے فیصلہ کیا کہ مقدمہ کی کاروائی سری نگر سنٹرل جیل کے بند احاطہ میں ہو، اور آئندہ تاریخ 13جولائی مقرر ہوئی۔ اس روز لوگ ہزاروں کی تعداد میں سنٹرل جیل کے باہر جمع ہو گئے اور مطالبہ کرنے لگے کہ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ کچھ لوگ جیل کے احاطہ میں بھی پہنچ گئے۔ وکیل صفائی نے لوگوں سے باہر جانے کی التجا کی۔ چالیس کے قریب لوگ گرفتار ہوگئے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک مسلمان نے جیل کی دیوار پر چڑھ کر نماز ظہر کی اذان دینا شروع کی۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بغیر کسی استاد کے فائر کا حکم دیا۔ مؤذن کو فائر لگا اور وہ گر گیا۔ اس کے گرتے ہی دوسرا شخص دیوار پر آیا اور اس نے اذان دینا شروع کی۔ وہ بھی فائر کھا کر نیچے گرا۔ اس طرح اس موقع پر21 مسلمان شہید ہوئے۔ کچھ شدید مجروح ہوئے اور بعد میں شہید ہوئے۔ ان شدید زخمیوں میں سے ایک نے مرتے دم ملت کو یہ پیغام دیا : ’’ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب آپ کو اپنا فرض ادا کرنا ہے!‘‘ شہید کے انہی آخری الفاظ کو حفیظ جالندھری نے اپنے شعری اسلوب میں یوں بیان کر دیا تھا:
اب تمہارے ہاتھ اس آغاز کا انجام ہے
ہم یہاں کام آ گئے ، آگے تمہارا کام ہے
یہی وہ عہد آفریں دن تھا جب اہل کشمیر نے تاریخ حریت کے ایک نئے باب کی تمہید اپنے خون سے رقم کی!!!
چودھری غلام عباس اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں:۔
اگر آج کا یہ دن کیلنڈر میں نہ ہوتا تو کشمیر کی سیاسی تاریخ جو1931ء سے اب تک لکھی جارہی ہے، بہت مختلف ہوتی ۔‘‘
اس تاریخ ساز دن کے بارے میں پنڈت پریم ناتھ بزاز کہتے ہیں:

یہ بھی پڑھیں:  ماں کی محبت انمول ہوتی ہے

“Historically and politically, the 13th July, 1931, is the most important day in the annals of contemporary Kashmir. From this day, the struggle of independence and freedom in the most modern sense started openly. Doubtless in 1931, the struggle was aggressively
eyes shut, could see that it was in essence the struggle of a victimised and enslaved people against the despotic rule.”

تحریک آزادی کشمیر کے اس تاریخ ساز موقع کے بعد بھی دارو گیر کا سلسلہ تو جاری رہا مگر اندرون کشمیر اور بیرون ملک میں کشمیر کی تشویشناک صورت حال پرلوگوں کی توجہ مرتکز ہوگئی۔ ہر سال13، جولائی کو شہدائے آزادی کی یاد میں یہ متبرک دن منایا جانے لگا (اور اب تک منایا جارہا ہے۔)
بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
خدا رحمت کنند ایں عاشقان پاک طینت را