Usa vs iran

امریکی پابندیاں ایران پر کتنی اثر انداز ہو ں گی؟

EjazNews

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران پر معاشی پابندیاں سعودی آئل تنصیبات پر حملوں کے بعد سزا کے طور پر عائد کی گئی ہیں۔امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا کہ ایران نے عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی ناکام کوشش کے بعد سعودی عرب پر حملہ کیا۔ جارحیت کا یہ قدم ان کی خطرناک منصوبہ بندی اور اس پر عمل ہے۔ جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کی معیشت تباہی کی جانب جا رہی ہے اور یہ سب ایران کو دہشت گردی سے روکنے کے لیے کیا جارہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران پر تاریخ کی سب سے زیادہ معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں اور ایران کے بہت سے مسائل اس کے خود پیدا کردہ ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران بہت اچھا اور امیر ملک ہو سکتا ہے لیکن وہ ایک مختلف راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ایران پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران پر حملہ میرے لیے سب سے آسان چیز تھی جو میں کر سکتا تھا لیکن میں نے ایران پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میرے خیال میں ایران پر معاشی پابندیاں کام کریں گی، فوجی ایکشن بھی کام کر سکتا تھا، یہ ایک سخت فتح ہوتی لیکن فتح ہماری ہی ہو گی۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ایران کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے اور معاشی دباو¿ کے ذریعے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکہ نے ایران کے مرکزی بینک، نیشنل ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایرانی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جو ملٹری کی خریداری کے لیے مالی امداد میں ملوث پائی گئی ہے۔
14 ستمبر کو سعودی عرب کی سرکاری آئل ریفائنری آرامکو کے پلانٹوں پر ڈرون حملے کیے گئے تھے ۔امریکہ اور سعودی عرب نے حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جبکہ ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا سعودی عرب نے حملے کی کوشش کی تو پھر مکمل جنگ ہو گی۔
اب بہت سے قارئین یہ سوالا ت بھی اٹھا رہے ہیں کہ ایران کو ساری صورتحال کا اندازہ تھا کہ اگر یہ حملہ کیا تو اس کے نتائج کیا نکلیں اس صورتحال میں ایران کو یہ حملہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ دوسری جانب شدت کے ساتھ یہ بات سامنے آرہی ہے کہ امیر ممالک کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ معاشی پابندیوں کے ذریعے ملکوں کو کمزور کر تے ہیں جس کی بدترین مثال عراق ہے۔ جس پر حملہ کے بعد معافیاں مانگی گئیں کہ اس کے پاس تو ہتھیار ہی نہیں جن ہتھیاروں کو بہنانہ بنا کر عراق پر حملہ کیا گیا تھا اورآج تک یہ ملک خاک و خون میں نہایا ہوا ہے ۔
اگر دوراندیشی سے دیکھاجائے تو عراق پر یہ کوئی پہلے دن پابندیاں عائد نہیں کی گئیں ۔جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالا ہے تب سے لے کر وہ ایران پر مشکلات بڑھا رہے ہیں اور ہر وہ طریقہ اپنا رہے ہیں جس سے ایران کمزور ہو۔ ان ہی کے ملک کے سابق صدر نے ایران سے جو معاہدہ کیا تھا صدر ٹرمپ وہ پہلے صدر ہیں جنہوں نے عالمی معاہدات کی حیثیتوں کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایک امریکی صدر معاہدہ کرتا ہے اور دوسرا آکر اس معاہدے کو ختم کر دے گا تو آنے والے صدور پر کتنا اور کیسے اعتبار کیا جائے گا۔
ایران پر معاشی پابندیاں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لگائی جارہی ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ایران کی معیشت پر اس کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں پڑ رہا کیونکہ ایران کے ایک طرف چین اور دوسری طرف روس ہے جن دونوں ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہت بہتر نہیں ہے اور یہ ایرانی تیل کی خریدو فروخت بند کر کے اپنی معیشت کو کیسے کمزور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینیٹر برنی سینڈرز کی صدارتی انتخابی مہم چلائے گا ایک پاکستانی نژادامریکی