divorce

طلاق کا بیان ۔ (۳)

EjazNews

گزشتہ سے پیوستہ

واذ طلقتم النساءفبلغن (الخ) ۔ اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کوطلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انھیں نہ روکیں اس آیت میں دلیل ہے اس امر کی بھی کہ عورت خود اپنا نکاح ولی کے بغیر نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کر سکتی نہ عورت اپنا نکاح کر سکتی ہے وہ عورتیں زناکار ہیں جو اپنا نکاح آپ کر لیں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ نکاح بغیر ولی کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں یہ آیت حضرت معقل بن یسار ؓ اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ حضرت معقل بن یسارؓ فرماتے ہیں میری بہن کا مانگا میرے پاس آیا میں نے نکاح کر دیا ۔ اس نے کچھ دنوں کے بعد طلاق دیدی۔ پھر عدت گزرنے کے بعد نکاح کی درخواست کی میں نے انکار کر دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی جسے سن کر حضرت معقل بن یسار نے باوجودیکہ قسم کھائی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا۔ نکاح پر آمادہ ہو گئے اور کہنے لگے کہ میں نے خدا کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کر دیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کانام جمیلہ بنت یسار تھا ان کے خاوند کا نام ابو البداح تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بنت یسار بتایا ہے۔
سدیؒ فرماتےہیں کہ یہ آیت حضرت جابر بن عبد اللہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں اتری ہے۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے پھر یہ نصیحت و وعظ ان کے لئے جنہیں شریعت پر ایمان ہو خدا کا ڈر ہو قیامت کا خوف ہو۔ انھیں چاہئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت وغیرت کو جو خلاف شرع ہے شریعت کے ماتحت کر دینا ہی تمہارے لئے بہتری ہے اور پاکیزگی کا باعث۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری کو ہی ہے تمہیں نہیں معلوم کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کام کے چھوڑنے میں ۔ یہ علم حقیقت میں خدا ہی کو ہے۔ (ملخصاً ترجمہ ابن کثیر )
ترجمہ: ”جب تم نے عورتوں سے قربت نہ کی ہو اور نہ مہر معین کیا ہو اگر ایسی صورت میں تم عورتوں کوطلاق دے دے تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے اور مطلقہ عورتوں سے سلوک کرو فارغ البال شخص پر اس کی حیثیت کے مطابق اور نادار پر اس کی حیثیت کے مطابق حسب دستور سلوک کرنا ضروری ہے۔ یہ بات نیکوں پر لازم ہے۔“ (سورہ البقرہ)
یعنی جس مطلقہ کا نہ تو مہر معین کیا گیا تھا، نہ اس سے قربت کی گئی ہے تو ایسی عورتوں کو کم از کم تین کپڑے یعنی ایک جوڑا اور نصف مہر مثل ہے لیکن یہ حکم سب کے لئے یکساں نہیں ہے بلکہ وسعت و تنگ دستی کے اعتبار سے فرق ہے۔ جو لوگ دولت مند اور فراخ دست ہیں ان کو اپنی حیثیت کے مطابق دینا چاہئے۔ حضرت امام حسنؓ نے دس ہزار درہم دئیے تھے اور جو تنگ دست مفلس ہیں ان کو اپنے مقدور کے موافق دینا چاہئے۔ یعنی کم از کم دستور کے مطابق ایک جوڑا ضرور ہو۔ عورت کی حق تلفی نہیں کرنی چاہئے۔ یہ حق ان لوگوں پر ہے جو نیکی کرنا چاہتے ہیں۔
ترجمہ: اور اگر قربت سے پہلے تم نے طلاق دی ہو اور اس کا مہر بھی مقرر کر چکے ہو تو مقرر کردہ مہر کا نصف حصہ دینا لازم ہے۔ ہاں اگر عورتیں معاف کر دیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے تو (کچھ نہ دینا بھی جائز ہے) اور معاف کردینا پرہیز گاری کے بہت قریب ہے اور آپس کے احسان کو نہ بھولو۔ اللہ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے۔ (سورہ البقرہ)
یعنی اگر نکاح کے وقت عورت کے لئے مہر مقرر کر دیا مگر قربت سے قبل اس کو طلاق دے دی ۔ ایسی عورت کے لئے مہر ضروری ہے لیکن مقرر کردہ مہر کا نصف دینا چاہئے۔ کیونکہ منافع صنفی حاصل نہیں کئے ۔ ہاں اگر عورت خود معاف کر دے اور مہر بالکل نہ لے یا شوہر اپنی طرف سے در گزر کر دے اور پور ا مہر دے دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ”الذی بیدہ عقدة النکاح“ سے حضرت علیؓ اور اکثر صحابہ ؓ کے نزدیک شوہر ہی مراد ہے۔ یہی امام ابو حنیفہؒ کا قول ہے لیکن حسن مجاہدؒ اور شافعیؒ وغیرہ کے نزدیک اس سے مراد عورت کے سرپرست ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عورت خود معاف کر دے یا اگر عورت نابالغہ ہو تو اس کے ولی معاف کر دیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور معاف کردینا پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور آپس کی مہربانیوں کو مت بھولو۔
ترجمہ: ”اور طلاق والیوں کو اچھی طرح فائدہ دینا پرہیزگاروں پر لازم ہے۔ “(سورہ البقرہ)
یعنی جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہو ان کی عدت کے زمانہ کے لئے مصارف دینے ضروری واجب ہیں۔ (بیضاوی ، مدارک)
مگر توفیق و مقدور کے موافق ہو نے چاہئیں۔ دولتمند پر اس کی حیثیت کے مطابق ضروری ہیں اور غریب پر اس کے مقدور کے لائق۔ بعض لوگوں نے آیت کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب اس عورت کو نفقہ دینے کا حکم دیا گیا جس سے قربت نہ کی ہو اور نہ اس کا مہر مقرر کیا ہو اور قربت سے قبل ہی طلاق دے دی جائے تو ایک شخص کہنے لگا کہ خدائے تعالیٰ نے ”حقا علی المحسنین“ فرمایا ہے۔ لہٰذا میں اگر احسان کرنا چاہوں گا تو دوں گا۔ اور احسان نہ کرنا چاہوں گا تو نہ دوں گا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
مطلب یہ ہے کہ نفقہ اور متعہ دینا واجب ہے جس عورت کو طلاق دی خواہ کوئی ہو اور کسی حالت میں طلاق دی گئی ہو قبل قربت یا بعد از قربت بہر حال نفقہ ضرور ہے۔ (البتہ مقدار نفقہ میں تفاوت ہے) خدائے تعالیٰ نے یہ حق ایمان داروں اور خدا ترسوں پر لازم کر دیا ہے کسی کو اس سے انحراف کی اجازت نہیں ہے۔
ترجمہ: ”اگر تم ایک عورت کے بجائے دوسری عورت کرنا چاہو اور ایک عورت مطلقہ کو ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو کیا تم بہتان رکھ کر اور صریح گناہ سے لے لینا چاہتے ہو تم کس طرح اس کو لے سکتے ہوحالانکہ تم تم ایک دوسرے سے صحبت کر چکے ہو اور وہ تم سے مضبوط عہد (عقد نکاح) لے چکی ہو۔ “(سورہ النسائ)۔
یعنی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض پرائیویٹ اسباب اور ضروری وجوہ کی بنا پر انسان پہلی بیوی کو طلاق دینے اور دوسری بیوی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس کا حکم اس آیت میں بیان ہو رہا ہے کہ اگر تم کسی خارجی وجہ اور ضروری اسباب کی بنا پر مجبور ہو کہ پہلی بیوی کو چھوڑ کر دوسری بیوی کرو تو کر سکتے ہو۔ لیکن چونکہ بیوی کی طرف سے طلاق یا خلع کی کوئی استدعا نہیں ہے اس لئے تم نے جتنا مہر اس کو دیدیا ہے خواہ وہ ایک خزانہ اور بے حساب ڈھر ہی کیوں نہ ہو۔ بہر صورت تم کو دئیے ہوئے مہر کا کوئی حصہ واپس لینے کا اختیار نہیں ہے اور کس طرح واپس لے سکتے ہو حالانکہ خلوص صحیحہ کر چکے ہو۔ عورتوں نے اپنے نفس کوتمہارے قبضہ کر دیا تھا اور اس سے مہر کامل واجب ہو جاتا ہے۔ اور نکاح کے وقت تم نے ان سے وفاداری اور وفائے عہد کا پختہ اقرار کیا تھا اور علی رﺅ س الاشہاد ان سے نکاح کیا تھا۔ پھر کیوں کر تم اپنے اقرار سے پھرنے کے مجاز ہو۔
حضرت ابن عباس مجاہد سعید بن جبیر کے نزدیک میثاق غلیظ سے مراد نکاح ہے اور ربیع بن انس ؓ کے نزدیک میثاق سے مراد عہد ہے جس کی صراحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے خطبہ میں فرمایا تھا کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آﺅ۔
ترجمہ: ”اور طلاق دی ہوئی عورتیں تین حیض تک اپنے آپ کو نکاح ثانی کرنے سے روکے رہیں اوراگر ان کا ایمان اللہ اور روز قیامت پرہے تو ان کے لئے جائز نہیں کہ جو چیز اللہ نے ان کے رحم کے اندر پیدا کی ہو اس کو چھپا لیں اس مدت میں ان کے شوہروں کو رجوع کر لینے کا زیادہ استحقاق ہے بشرطیکہ ان کو اصلاح حال مقصود ہو۔ اور عورتوں کا بھی مردوں پر ویسا ہی حق ہے جیسا (مردوں کا حق) عورتوں پر دستور کے مطابق ہے مگر مردوں کو عورتوں پر کچھ فوقیت ضرور ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔“(سورہ البقرہ)
ان آیتوں میں مطلقہ عورتوں کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ عرب کا دستور تھا کہ ایام جاہلیت میں طلاق کی عدت کے بارے میں لوگ بڑا جھگڑا کرتے تھے ۔ عورتوں کو طلاق دے کر سال سال بھر الگ رہتے تھے۔ اس لئے بیچاری عورت اس دوران میں نہ تو کہیں اور جگہ نکاح کر سکتی تھی نہ شوہر اس کے ضروری مصارف کی خبر گیری کرتا تھا اس طرح عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا تھا۔
اسماءبنت یزید انصار یہ کو ان کے شوہر نے طلاق دی تھی۔ عدت کے لئے کوئی مدت مقرر نہ کی تھی۔ انہوں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی خدائے تعالیٰ نے آیات مذکورہ میں مطلقہ عورت کی عدت بیان کردی۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جن عورتوں کوطلاق مکمل دیدی گئی ہو یعنی رسم زفاف کے بعد ان کو طلاق دیدی گئی یعنی رسم زفاف کے بعد ان کوطلاق دیدی گئی ہو تو ان کو تین حیض یا تین حیض کی مدت یعنی تین مہینے تک اپنے آپ کو جدید نکا ح سے روکنا چاہئے اور جو چیز خدا نے ان کے رحم کے اندر پیدا کی ہو پوشیدہ نہ کریں۔ حیض کو ٹھیک ٹھیک حساب کے ساتھ ظاہر کریں۔ دوسرے شوہر سے جدید نکاح کرلینے کی غرض سے حیض کے حساب کو چھپانا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر پہلے شوہر کا بچہ رحم میں ہو تو اس کو بھی مخفی نہ کریں اور اس بات کا خوف نہ کریں کہ نو ماہ وضع حمل کا کون انتظار کرے ۔ اگر ان کو خدا اور قیامت پر ایمان ہے اور وہ یقین رکھتی ہیں کہ قیامت کے دن خدا کے سامنے جانا ہے او ہر ظاہر و مخفی کا حساب و کتاب دینا ہے تو ایسی ناجائز حرکت کا ارتکاب نہ کرنا چاہئے۔ اگر عورت کا زمانہ عدت ختم نہ ہوا ہو اور طلاق کی پوری تعداد بھی نہ ہوئی ہو تو مردوں کو اختیار ہے کہ عورتوں سے رجوع کر لیں یعنی زمانہ عدت کے اندر اگر مرد طلاق سے رجوع کرنا چاہیں تو ان کو مستقلاً اختیار ہے عورت کی رضا مندی کا دخل نہیں ہے اگر عدت کے بعد رجوع کرنا چاہا تو عورت کی رضا مندی لازم ہے یعنی شوہر کو واپسی کا اختیار تو ہے اور عوت کی رضا مندی ضروری نہیں ہے۔ لیکن اس واپسی سے غرض اصلاح اور آپس کی بہبودی ہونی چاہئے۔ عورت کو دکھ یا نقصان پہنچانے کی غرض نہ ہو۔ باہمی حقوق کی نگہداشت مقصود ہو۔ اگر یہ شرط متحقق نہ ہو گی تو مردوں کو رجوع کا اختیار نہ ہوگا کیونکہ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ عورتوں کے حقوق سلب کر لئے جائیں حقوق میں دونوں برابر ہیں۔ تفاوت صرف کیفیت حقوق میں ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگرعورتوں اور مردوں کے حقوق مساویانہ ایک دوسرے پر ہیں تو عورتیں مطلق العنان خود مختار اور شتر بے مہار ہو جائیں اور ہر وقت شوہر سے اختلاف رائے اور لڑنے جھگڑنے کے لئے تیار رہیں۔ آزادی کامل یا مظاہرہ بے حیائی کا مطالبہ کریں کیونکہ مردوں کو پھر بھی عورتوں پر ایک مخصوص فوقیت حاصل ہے ان کے اعضاءقوی ہیں۔ ہر قسم کی محنت برداشت کر سکتے ہیں ، سلیم العقل ہیں۔ تدبر مآل اندیشی اور جفاکشی میں ان کو امتیاز حاصل ہے عورتیں عموماًمرد عموماً عورتوں سے امور مذکورہ کے اعتبارسے افضل ہیں۔ اب اگر کوئی خاص عورت امور مذکورہ میں مردوں سے افضل یا ان کے مساوی ہو جائے تو کلیہ نہیں ٹوٹتا۔ خدائے تعالیٰ غالب ہے اور حکمت والا ہے اس نے پانی حکمت سے مردوں اور عورتوں میں یہ تفاوت جسمی و عقلی اور اختلاف فرائض صنفی پیدا کیا۔ مردوں کے فرائض علیحدہ بنائے اور ان کے اعضاء بھی ویسے ہی بنائے۔ عورتوں کے فرائض جدا مقرر کئے اور ویسے ہی خلقت اعضاءان کو عنایت کئے مردوں اور عورتوں کو مساویانہ حقوق دئیے۔ پھر اتفاق و اتحاد پیدا کرنے اور نظم عالم قائم رکھنے کے لئے مرد کو بعض امور میں عورت پر فضیلت عطا کی اور درجہ بڑھایا۔
ترجمہ: اے نبی اپنے امتیوں سے فرما دیجئے کہ جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے جوتمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو نہ تم انھیں اپنے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ ہاں یہ بات اور ہے کہ وہ کوئی کھلی ہوئی برائی کو کر بیٹھیں یہ ہیں اللہ کی حدیثں اور جو شخص اللہ کی حدوں سے آگے بڑھے گا۔ اس نے یقینا اپنا ہی برا کیا۔ کوئی نہیں جانتا شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا کرے۔ (سورہ الطلاق)
یعنی اولاً تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شرافت و کرامت کے طور پر خطاب کیا گیا۔ پھر طبعاً آپ کی اُمت سے خطاب کیا گیا اور طلاق کے مسئلہ کو سمجھاگیا۔ )جاری ہے(

یہ بھی پڑھیں:  عدت کا بیان