mannequin

مردہ دماغوں کو زندہ کرنے کی خواہش

EjazNews

موت برحق ہے لیکن سائنسدان اس حقیقت کو جاننے کے باوجود موت سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ موت کو شکست دے سکتے ہیں ایسا کچھ سائنسدانوں کی خواہش ہے۔ چند ماہ قبل سائنسدانوں کو ایک عجیب خیال آیا کہ کیوں نہ مرنے والے کے دماغ میں زندہ انسانوں کے اعصابی خلیے داخل کر دئیے جائیں ،کیا اس سے موت کی دنیا میں جانے والے کو کچھ دیر یا کچھ عرصے کے لیے اس حقیقی دنیا میں واپس لایا جاسکتا ہے ایسا کچھ سائنسدانوں نے سوچا ۔اس پر کافی شور ہوا مذہبی حلقوں نے بھی تنقید کی اور سماج میں بھی کافی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔اور یہ سائنسدان اسی طرح کے تجربے کرنے پر بضد ہیں۔
سائنسدان در حقیقت موت کو ٹالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیا موت کو ٹالنا ممکن ہے یقینا نہیں۔موت کی طرح زندگی بھی ایک حقیقت ہے، اس میں اضافہ یا کمی آدمی کے اختیار میں نہیں ۔ زندگی ایک خدائی نعمت ہے اور اتنی ہی انسان کے پاس ہے جتنی اسے عطاءہوئی ہے۔لیکن سائنسدان کہتے ہیں جب دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے تو کیا اس کی دھڑکن کو جاری رکھنے کے لیے کسی دھڑکتے دل کے خلیے داخل کیے جاسکتے ہیں۔ جب پھیپھڑے فیل ہوتے ہیں تو کیا کسی کے ناکام پھیپھڑوں کو نئی زندگی دینے کے لیے کسی انسان کے خلیے داخل کیے جاسکتے ہیں ،کیا وینٹی لیٹر کے بغیر بھی ایسا کام ہوسکتا ہے۔ وینٹی لیٹر کے ذریعہ ہر روز لاکھوں، کروڑ وں زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں ۔ ایک کمپنی نے انہی نکات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تحقیق جاری رکھی ۔ فلوریڈیا کی ایک کمپنی نے انہیں نکات کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق کا آغاز کیا جس پر میڈیا میں ایک نہیں بلکہ ہزاروں تندو تیز سرخیوں کے ساتھ مضامین ، خبریں یا ہیڈ لائنز شائع ہوئیں ۔ سائنسدانوں اور سماجی رہنماﺅں نے اس تصور کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
لیکن کمپنی نوٹ بنانے کے چکر میں سٹیم سیل ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے خیال میں دماغی خلیوں کو پہنچنے والے نقصانات کوریسورس کیا جاسکتا ہے اور ایک دن آئے گا جب یہ ممکن ہوگا کیونکہ دماغ کے مر جانے کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی ختم ہو گئی۔ ڈاکٹر ڈایانا گرین کا خیال ہے کہ سٹیمپ سیل ٹیکنالوجی کا نیورو سائنسز میں کردار انتہائی اہم ہے۔ لیکن اس کو کسی دانشمندانہ انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔
سٹیمپ سیل ٹیکنالوجی کو پیچیدہ انسانی دماغ پراپلائی کرنا کوئی دانشمندی نہیں ۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم 20مردہ دماغوں کو لے کر برقی آلات کے ذریعے ان کے دماغ کو زندہ کرنے پر تجربات کیے۔ انہوں نے ان انسانوں میں سٹیم سیل داخل کیے تاکہ یہ سٹیمپ سیل یانیورون مردہ دماغ میں ڈال کے نئی زندگی دینے کا باعث بنے۔ اس سلسلے میں نیوروسرجری اور برقی ٹاپ الیکٹرک نارو الیگریشن سے بھی کام لیا گیا۔ اس پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سی ای او ایرا پاسٹر کا کہنا تھا کہ وہ موت سے نہیں لڑ رہے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کے مواقعوں کی تلاش میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دماغ کے مرنے کے بعد ورم اور سوزش پھیلنی شروع ہو جاتی ہے۔ اعصابی خلیوں کا باہمی ربط ختم ہو جاتا ہے۔خون کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں اور دوران خون رک جاتا ہے۔دماغ کے مر جانے کے باوجود انسان کو ویلٹی نیٹر پر زندہ رکھا جاسکتا ہے ۔یہاں موت سے مراد قومہ میں جانا ہے۔ ویلٹی نیٹر پر انسان کئی دن تک زندہ رکھا جاسکتا ہے کیونکہ زندگی تو جسم میں جاری رہتی ہے ،بس انسان قدرت کی اس نعمت زندگی کو صحیح طریقے سے گزارسکے۔موت کی صورت میں انسانی خلیوں کو پہنچنے والے نقصان کو کچھ عرصے کے لیے ریورس کیوں نہیں کر سکتے۔
کچھ سائنسدانوں کے خیال میں بائیو کاٹ (Bioquark) کا یہ تصور دراصل ہیڈ ٹرانسپلانٹ کی ایک شکل ہے۔ اس کا ہم دل ،جگر یا گردے ٹرانسپلانٹ کرتے ہیں۔ اسی طرح دماغ کو ٹرانسپلانٹ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔بظاہر یہ بہت سادہ سا سوال ہے۔ دماغ کی اثر و نو افزائش ایک انتہائی مشکل کام ہے ،جگر میں ایسا ممکن ہے لیکن دماغ میں انتہائی پیچیدگیوں کے باعث یہ کام آسان نہیںکیونکہ دماغ کو پہنچنے والے نقصانات دل کی دھڑکن کو روکنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس سے کارڈیک ایسڈ ہو سکتا ہے۔ دنیا میں سٹروک اور گارڈک ایسڈسے درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ بارکیٹ کے مطابق ان میں کچھ نہ کچھ لوگوں کو کچھ نہ کچھ وقت کے لیے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا میں ہندوئوں کے دیوی دیوتا بھی فضائی آلودگی سے متاثر ہونے لگے