divorce-0

طلاق کا بیان ۔(۲)

EjazNews

گزشتہ سے پیوستہ
ایک روایت میں ہے کہ حضرت رفاعہ قرظی کی بیوی صاحبہ تمیمہ بنت وہب کو جب انہوں نے آخری تیسری طلاق دے دی تو ان کا نکاح حضرت عبد الرحمن بن زبیر سے ہوا۔ لیکن یہ شکایت لے کر دربار رسالت مآب میں آئیں اور کہا کہ وہ عورت کے مطلب کے نہیں مجھے اجازت ہو کہ میں اگلے خاوند کے پاس چلی جاﺅں۔
آپ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا، جب تک تمہاری اور خاوند سے مجامعت نہ ہو۔ (بخاری)
یہ یاد رہے کہ مقصود دوسرے خاوند سے یہ ہے کہ خود اسے رغبت ہو اور ہمیشہ بیوی بنا کر رکھنے کا خواہش مند ہو کیونکہ نکاح سے مقصود یہی ہے، یہ نہیں کہ اگلے خاوند کے لئے محض حلال ہو جائے اور بس۔
اگر دوسرے خاوند کا ارادہ اس نکاح سے یہ ہے کہی ہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے تو ایسے لوگوں کی مذمت بلکہ ملعون ہونے کی تصریح حدیثوں میں آچکی ہے۔
مسند احمد میں ہے گود نے والی، گدوانے والی، بال ملانے والی، ملوانے والی عورتیں ملعون ہیں۔ حلالہ کرنے والے اور جس کے لئے حلالہ کیا جاتا ہے ان پر بھی خدا کی پھٹکار ہے۔ سود خوار اور سودکھلانے والے بھی لعنتی ہیں۔ (احمد)
ایک حدیث میں ہے میں تمہیں بتلاﺅں کہ ادھار لیا ہوا سانڈ کونسا ہے ؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ فرمایا: حلالہ کرے یعنی طلاق والی عورت سے اس لئے نکاح کرے کہ وہ اگلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو اپنے لئے ایسا کرائے وہ بھی ملعون ہے۔ (ابن ماجہ)
ایک روایت میں ہے کہ ایسے نکاح کی بابت حضور سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ نکاح ہی نہیں جس میں مقصود اور ہو اورظاہر اور ہو۔ جن میں خدا کی کتاب کے ساتھ مذاق اور ہنسی ہو۔ نکاح صرف وہی ہے جو رغبت کے ساتھ ہو۔ مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر سے سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دی، اس کے بعد اس کےبھائی نے بغیر اپنے کے کہے ہوئے از خود اس سے اس ارادے سے نکاح کر لیا کہ یہ میرے بھائی کے لئے حلال ہو جائے تو آیا یہ نکاح صحیح ہوگیا۔ آپ نے فرمایا ہرگز نہیں۔ ہم تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زنا شمار کرتے تھے۔ نکاح وہی ہے جس میں رغبت ہو۔ اس حدیث کے اس پچھلے جملے نے گویہ موقوف ہے حکم میں مرفوع کر دیا ہے۔ بلکہ ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا اگر کوئی ایسا کرے گا یا کرائے تو میں دونوں کو زنا کی حد لگاﺅں گا۔ یعنی رجم کردوں گا۔ خلیفہ وقت حضرت عثمان غنیؓ نے ایسے نکاح میں تفریق کر دی۔ اسی طرح حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباسؓ وغیرہ بہت سے اصحاب کرام رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے یعنی دوسرا خاوند اگر نکاح اور وطی کے بعد طلاق دے دے تو پہلے خاوند کو اسی عورت سے نکاح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں جب کہ یہ اچھی طرح گزراوقات کر لیں ۔ اور یہ جان لیں کہ یہ دوسرا نکاح صرف دھوکا اور مکرو فریب کا نہ ہو۔ بلکہ حقیقت پر مبنی ہو۔ یہ ہیں احکام شرعی جنہیں علم والوں کے لئے خدا نے واضح کر دیا ہے۔ آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو یا ایک طلاق دے دی پھر چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ عدت سے نکل گئی۔ پھر اس نے دوسرے سے گھر بسا لیا۔ اس سے ہم بستری بھی ہوئی۔ پھر اس نے بھی طلاق دے دی اور اس کی عدت ختم ہو چکی۔ پھر اگلے خاوند نے اس سے نکاح کر لیا تو کیا اسے تین میں سے جو طلاقیں یعنی ایک یا دو جو باقی ہیں صرف ان ہی کا اختیار رہے گا یا پہلے کی طلاقیں گنتی سے ساقط ہو جائیں گی اور اسے از سر نو تینوں طلاقوں کا حق حاصل ہو جائے گا۔ پہلا مذہب تو ہے امام مالک ؒ ، امام شافعیؒ اور احمد ؒ کا اور صحابہ کی ایک جماعت کا ۔ اور دوسرا مذہب ہے امام ابو حنیفہؒ اور ان کے ساتھیوں کا اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب اس طرح تیسری طلاق ہی گنتی میں نہ آئی تو پہلی دوسری کیا آئے گی۔
مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی عورتوں کو دو طلاقیں دیں جن میں لوٹانے کا حق حاصل تھا اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے تو عمدگی کے ساتھ لوٹا لیں۔ یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرلیں اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھیں یا انہیں عمدگی سے چھوڑ دیں اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے یہاں سے بغیر جھگڑے اور بد زبانی کے جانے کی اجازت دیدیں۔ جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے مٹا دیا ہے جو ان میں تھا کہ طلاق دے دی۔ عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کر لیا۔ پھر طلاق دے دی۔ پھر رجوع کر لیا۔ یوں عورتوں کی عمروں کو برباد کر دیا کرتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہیں اور نہ رانڈ۔ اس سے خدا نے منع کیا اور فرمایا ایسا کرنے والا ظالم ہے۔
پھر فرمایا ”ولا تتخذو ایت اللہ ھزوا“ اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناﺅ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ سے ناراض ہو ئے تو حضرت ابوموسیٰ اشعری نے حاضر خدمت ہو کر سبب پوچھا۔ آپ نےفرمایا کیوں یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلا ق دی میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانو ں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کو عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو بلا وجہ طلا ق دے اور عورت کو ضرر پہنچانے کے لئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کے لئے رجوع ہی کرتا چلا جائے یہ بھی کہا گیا کہ یہ وہ شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے ہنسی ہنسی میں یہ کیا تھا۔ ایسی صورت میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واقع ہو جائیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ پھر کہہ دیا میں نے تو مذاق کیا تھا۔ اس پر یہ آیت اتری اور حضور نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی ۔ (ابن مردویہ)
حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے آزاد کردیتے۔ نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے تو بطور دل لگی کے یہ کیا تھا اس پر یہ آیت اتری اور حضور نے فرمایا: جو طلاق دے یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرے یا کرادے خواہ پختگی کے ساتھ ہو ، خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو جائے گا۔ (ابن ابی حاتم)
یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداﺅد و ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں اور دل لگی سے ہوں تو تینوں ثابت ہو جائیں گی۔ نکاح۔ طلاق اور رجعت۔ امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اذکروا نعمت اللہ ۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے۔ ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں۔ کتاب اور سنت سکھائی ، حکم بھی کئے وغیرہ وغیرہ جو کام کرو اور جو نہ کرو ہر ایک خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں:  طلاق کی قسمیں