divorce

طلاق کا بیان (۱)

EjazNews

طلاق کسے کہتے ہیں اور اس کے کیا احکام ہیں؟
نکاح کی وجہ سے مرد عورت کے درمیان ایک ایسا خاص ربط و تعلق پیدا ہو جاتا ہے کہ دنیا کے دوسرے تعلقات توڑے جا سکتے ہیں لیکن اس نکاح کے تعلق کا توڑنا خوشی سے گوارا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بلاوجہ توڑنے سے گھر کے تمام کاموں میں گڑ بڑی واقع ہو جاتی ہے مگر بعض مرتبہ کچھ ایسے ناخوشگوار حالات پیش آجاتے ہیں کہ بغیر توڑے چارہ نہیں رہتا۔
طلاق کے لغوی معنی کھولنے کے ہیں اور اسلامی محاورے میں نکاح کی گرہ کھول دینے اور زوجیت کے رشتہ او ربط کو توڑ دینے کو طلاق کہتے ہیں میاں بیوی میں نا اتفاقی پیدا ہو جائے تو دونوں میں انتہائی کوشش کر کے ملاپ کرادیا جائے اگر کسی صورت میں ملاپ نہ ہو تو مجبوراً دونوں کو الگ کر ادیا جائے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ:”اور اگر تم ولیوں کو ان میاں بیوی کے درمیان نا اتفاقی کا اندیشہ ہو تو ایک منصف آدمی مرد کے خاندان اور ایک منصف آدمی عورت کے خاندان سے بھجوا کر یہ دونوں اصلاح کا ارادہ کریں تو اللہ تعالیٰ کے ان کے درمیان توفیق مرحمت فرما دے گا۔ (النسائ)
اور عدم اتفاق کی صوت میں طلاق دینا جائز ہے اور یہ جواز بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت برا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزیک سب حلال اورجائز کاموں میں ناپسندیدہ کام طلاق ہے۔“ (ابوداﺅد، ابن ماجہ)
بلاوجہ طلاق لینا دینا بہت ہی برا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے خاوند سے بغیر کسی وجہ کے طلاق مانگے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ اور فرمایا خلع اور طلاق لینے والی عورتیں منافقات میں سے ہیں۔ “ (نسائی)
اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے طلاق سے زیادہ مبغوض کوئی چیز نہیں پیدا فرمائی۔ (الدارقطنی)
اگر کسی وجہ سے عورت پسند نہیں ہے یا بد خلق ہے تب بھی اسے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ”ان عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک سے رہو اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو یہ ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اللہ اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دے۔“ (النسائ)
لیکن اگر کسی صورت میں نباہ ممکن نہیں ہے تو جانبین کونکاح توڑ دینے کا حق ہے مگر بالکل یک لخت چھوڑنا اچھا نہیں ہے بلکہ ایک ایک مہینے کے فاصلے سے ایک طلاق دیں۔ پھر دوسرے مہینے کے ختم پر پھر تیسرے مہینے کے اختتام پر یہ فاصلہ اس لئے رکھا گیا ہے تاکہ دونوں کوسوچنے کا موقع مل جائے۔ جس سے اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے۔ اگر اتنی مہلت کے بعد بھی نباہ کی صورت نہیں پیدا ہو تی تو چھوڑ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ قرآن مجید میں طلاق کے بارے میں کئی آیتیں ہیں جنہیں ذیل میں نقل کیا جارہا ہے تاکہ طلاق کے مسئلہ کی پوری وضاحت ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،
ترجمہ: ”یہ طلاق دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھے طریقہ سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے اور تمہیں حلال نہیں کہ تم نے جو دے دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دونو ں کو خدا کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے کا خوف ہو۔ پس اگر تم کو ڈر ہو کہ یہ دونوں خدا کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ بدلہ دے کر چھڑا لے اس میں دونوں پر گناہ نہیں یہ حدیثں ہیں اللہ کی خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائیں وہ ظالم ہیں پھر اگر اس کو طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کر لے پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرنے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی حدیں جنہیں وہ جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت ختم کرنے پرآئیں تو انہیں اچھی طرح بساﺅ یا بھلائی کے ساتھ الگ کر دو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم و زیادتی کے لئے نہ روکو جو شخص ایسا کرے گا وہ اپنی جان پر ظلم کرے گا۔ تم اللہ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناﺅ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو اور جو کچھ کتاب وحکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اسے بھی یاد کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو انھیں ان کے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضا مند ہوں یہ نصیحت انھیں کی جاتی ہے جنہیں تم میں سے اللہ پر اور قیامت کے دن پر یقین اور ایمان ہو۔ اس میں تمہاری ستھرائی اور پاکیزگی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اورتم نہیں جانتے۔ (البقرہ)
مطلب یہ ہے کہ صرف دو طلاق تک رجوع کرنے کا حقہ ے اور یہ دونوں طلاقیں بھی الگ الگ باری بار ی دینی چاہئیں۔ یہ نہیں کہ سینکڑوں ایک دم دے ڈالے۔ اب دو طلاقوں کے بعد یا تو حسن معاشرت اور صلح و صلاح سے عورت مرد مل کر رہیں عورت پر کسی قسم کی زیادتی نہ ہو ۔ ورنہ اچھی طرح اور حسن سلوک سے چھوڑ دے۔ پھر رجوع نہ کرے عدت گزر جانے کے بعد عورت جس سے چاہے نکاح کر لے یا تیسری طلاق دے کر چھوڑ دے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو خوش معاملگی اور حسن معاشرت کے ساتھ ہو۔ عورت کو دق نہ کرے اور نہ اس کے عیوب دنیا کے سامنے بیان کرتا پھرے۔ اور نہ اس کو گالی سنائے، نہ جسمانی تکلیف پہنچائے۔
حافظ ابن کثیرؒ اپنی تفسیر میں ان آیتوں کی تفسیر یوں فرماتے ہیں کہ اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی طلاقیں چاہتا دیتا جاتا اور عدت میں رجوع کرتا جاتا۔ اس رویہ سے عورتوں کی جان غضب میں تھی۔ کہ طلاق دی عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کرل یا۔ پھر طلاق دے دی۔ اسی طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے۔ پس اسلام نے حد بندی کر دی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہی ۔ تیسری طلاق کے بعد لوٹا لینے کا کوئی حق نہ رہے گا۔
سنن ابو داﺅد میں باب ہے کہ تین طلاقوں کی مراجعت منسوخ ہے، پھر یہ روایت لاتے ہیں کہ ابن عباس ؓ یہی فرماتے ہیں۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساﺅ ں گا، نہ چھوڑوں گا۔ اس نے یہ کہا کس طرح ؟۔ کہا طلاق دے دو ں گا اور جہاں عدت ختم ہونے کا وقت آئے گا رجوع کر لوں گا۔ یوں ہی کرتا چلا جاﺅں گا۔
وہ عورت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنا یہ دکھ بیان کر کے رونے لگی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اورایک روایت میں ہے کہ سا آیت کے نازل ہونے کے بعد اب لوگوں نے نئے سرے سے طلاق کا خیال رکھنا شروع کیااور سنبھل گئے۔ کیونکہ تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کو لوٹا لینے کا کوئی حق نہیں ہے اور فرمایا گیا کہ دو طلاقوں تک تمہیں اختیار ہے کہ اصلاح کی نیت سے اپنی بیوی کو لوٹا لو اگر وہ عدت کے اندر ہے اور یہ بھی اختیار ہے کہ نہ لوٹاﺅ اور عدت گزر جانے دو تاکہ وہ دوسرے سے نکاح کرنے کے قابل ہو جائے اور اگر تیسری طلاق دینا چاہتے تو بھی احسان و سلوک کےساتھ طلاق دو۔ نہ اس کا کوئی حق مارو نہ اس پر کوئی ظلم کرو۔ نہ اسے کوئی نقصان اور ضرر پہنچاﺅ۔
ایک شخص نے حضور سے سوال کیا کہ دو طلاقیں تو اس آیت میں بیان ہو چکی ہیں تیسری طلاق کا ذکر کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا( اوتسریح باحسان )میں ہے۔ جب تیسری طلاق کا ارادہ کرے تو عورت کو تنگ کرنا اس پر سختی کرنا تاکہ وہ اپنا حق چھوڑ کر طلاق پر آمادگی ظاہر کرے۔ یہ مردوں پر حرام ہے جیسے دوسری جگہ ہے۔”یعنی اور نہ ان کو بے جا تنگ کر کے روک رکھو کہ کسی طرح دئیے ہوئے سے کچھ واپس لے لو۔ “(النسائ)
اور جب میاں بیوی میں نا اتفاقی بڑھ جائے اور عورت اس سے خوش نہ ہو اور اس کے حق کو نہ بجا لاتی ہو ایسی صورت میں وہ کچھ لے دے کر اپنے خاوند سے طلاق حاصل کرے تو اسے دینے میں اور اسے لینے میں کوئی گناہ نہیں اس کو خلع کہتے ہیں۔ خلع کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
پھر فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نہ بڑھو۔ فرائض کوضائع نہ کرو۔ محارم کی بے حرمتی نہ کرو جن چیزوں کا ذکر شریعت میں نہیں تم بھی انس ے خاموش رہو۔ کیونکہ خدا کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔
کہ جب کوئی شخص اضنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو۔ ہم بستر ہو، پھر وہ مرجائے یا طلاق دے دے۔
ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور دخول سے پہلے ہی طلاق بتہ دے دیتا ہے وہ دوسرا نکاح کرتی ہے، وہ بھی اسی طرح دخول سے پہلے طلاق دے دیتا ہے تو کیا اگلے خاوند کے لئے وہ حلال ہے کہو ہ اس سے نکاح کر لے۔ آپ نے فرمایا نہیں نہیں۔ جب تک وہ اس سے اور یہ اس سے لطف اندوز نہ ہولیں۔ (نسائی) (جاری ہے)
(یہ مسئلہ طویل ہے اس لیے ہم اسے تین اقساط میں شائع کرر ہے ہیں یہ اس سلسلے کی پہلی تحریرہے )

یہ بھی پڑھیں:  آداب مباشرت