women with husband

جذبات کو نرم اور قابل ستائش بنانے کے اصول

EjazNews

پہلا اصول:
کسی مشکل کے اصل اسباب کی تلاش۔ وہ آخر شروع کہاں سے ہوئی ؟ یہاں اس کے لیے مناسب ردعمل کیا ہوسکتا ہے کیا اپنی شریک حیات کو تا حیات رکھنے کا میرے پاس عزم مصمم ہے؟ یا میں اس راستہ کو چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑے میں ختم کر دوں ،کیا آپ میرے ساتھ اس بات پرغور نہیں کریں گے کہ ازدواجی اختلافات اصل میں زیادہ تر معمولی اور سطحی ہوتے ہیں اور بالکل ضروری نہیں ہوتا ہے کہ ہم اس قدر رد عمل ظاہر کریں اور نہ در اصل کوئی حقیقی مشکل موجود بھی ہوتی ہے۔
دوسرا اصول:
مد مقابل کو یہ احساس دلانا کہ اس رسہ کشی میں قابل توجہ اور اہتمام وہی ہے اور برے سے برے حالات میں بھی اس کے ساتھ میل و محبت کے طریقوں کو اپنانا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں جولڑائی میں اپنے اعصاب پر قابو رکھتی ہے، بڑی زبردست خوشخبری سنائی ہے۔
آپ نے فرمایا:”کیا میں تم کو جنت میں تمھارے ساتھ جانے والی بیویوں کا حال نہ بتاوں، ہم نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا کہ جس سے اولاد کثرت ملے اور بے حد محبت، جب تم غصہ ہو جا ﺅیا اس عورت کے ساتھ برا سلوک کیا جائے یا اس کا شوہر غصہ ہو تو وہ کہے کہ یہ برا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے ۔میں اس وقت تک سرمہ نہیں لگاﺅگی جب تک تم خوش نہ ہو جاو۔ (مجمع الزوائد)
تیسرا اصول:
جذبات کو باغ و بہار بنانے کے اصول :
اختلاف و پریشانی کے اصل اسباب کی تلاش،فریق مخالف پر زیادہ توجہ، منفی تبدیلی کی صورتوں پرنظر ، تکلیف دہ رویوں کو برداشت کرنا اور اس سے نمٹنے کا صحیح طریقہ، مزاج ٹھنڈا رکھنے کی کوشش اور اعصاب پر قابو۔
فریق مخالف کے ساتھ لفظی جنگ کے دوران غصہ اور تناو¿ کی وجہ سے بیدار ہونے والی نئی تبدیلی کی صورتوں پرنظر رکھنا۔ اس کے بعد جس قدر ممکن ہوان سے نجات پانے کا عزم کر لیں اور کھینچاﺅ سے بھرے ہوئے ماحول پر قابو پانے کے لیے ممکن مثبت بدل تلاش کریں۔ اگر بیوی شوہر کے آخری درجہ کے غصہ میں ہونے کے باوجود اس کی اطاعت کرے تو دنیا و آخرت میں اس کے مقبول ہونے کی ایک اچھی علامت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عورت پانچ وقت کی نماز پڑھے اور رمضان کے مہینہ کے روزے رکھے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔ (مسنداحمد)
چوتھا اصول:
تکلیف دہ رویہ کی توقع رکھنا اور اس سے نمٹے کا صحیح طریقہ اپنانا۔ مثلاً لوگوں کی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہم کو اس طرح پائیں جیسے ہم اپنے رویہ میں پہلے تھے ۔ یعنی سلوک نہ بدلے۔ جیسے قدیم زمانے کے ایک فلسفی کا حال تھا۔ اس کا اصول تھا کہ جو مشکلات اسے پیش آتیں وہ اس حالت میں بھی مسکراتا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی سابق رویوں کاعلم ہونے اور نفسیاتی حالت پرنظر ہونے کے سبب اس طرح کے حملوں کی توقع کرتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے یہاں تشریف لے گئے گفتگو فرمائی لیکن انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا جب آپ نے ان کی یہ حالت دیکھی تو سمجھ گئے کہ روز مرہ کی طرح نہیں ہیں ،آپ نے فوراً فرمایامجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ تم کب مجھ سے خوش رہتی ہو اور کب ناراض۔ حضرت عائشہ ؓنے فرمایا یہ کیسے معلوم ہواآپ نے فرمایا جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو تو کہتی ہو نہیں نہیں محمد کے رب کی قسم اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو نہیں نہیں ابراہیم کے رب کے قسم۔
پانچواں اصول:
مزاج ٹھنڈا رکھنے کی کوشش یعنی تناو کے تمام راستوں پر قابوجو وقتی طور پرمعطل ہوجاتے ہیں۔ جب ہم بھڑکتے ہیں اور کافی مقدار میں بے چینی ہم پر چھا جاتی ہے تو ہمیں تھوڑا سا وقت درکار ہوتا ہے جس میں ہم ادرینالین ہر مون کو موقع دیں کہ اس کا اثر ختم ہو اور ہمارے دل کو تھوڑی سی راحت ملے ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ غصہ میں لانے والے تمام اسباب سے بالکل دور ہو چکے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت اس حال میں وفات پائے کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو وہ جنت میں جائے گی۔ (ابن ماجہ)
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کے مالک رب کے ذریہ یہ بات
لڑائی کے بھوکے :
بعض انسانوں کی طبیعتیں مثبت ہوتی ہیں جو لوگوں کے لیے قابل قبول ہوتی ہیں اور بعض افراد کی طبیعتیں انتہائی زہریلی اور تیز ہوتی ہیں۔ یہی تعبیر ”مسز لیلیان گلاس“ جواجتماعی تعلقات اور مسائل کے موضوع کی ماہر ہیں اپنی کتاب ”آپ دوسروں کے زہر سے کیسے بچیں“ میں کہتی ہیں۔ کیا کسی شخص کے ساتھ بحث و گفتگو میں آپ کو فریق مخالف نے یہ احساس دلایا کہ اس کے نزدیک آپ کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ کیا کوئی آپ مسلسل تنقید کرتا رہتا ہے یا اس کے ساتھ گفتگو میں وہ آپ کوذلیل کرتا ہے؟ تب تو یہ شخص آپ کو برباد کر دے گا کیوں کہ یہ ایک زہر یلاشخص ہے، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کی بیوی ہو اور آپ کی زندگی کی ساتھی ہولیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا شخص آپ کی ترقی کو روک دے گا، آپ بیمار پڑ جائیں گے اور وہ آپ کی ان تمام کوششوں کونا کام کر دے گا جو آپ کا مقصد اور خوشحال زندگی گزارنے کے لیے کر رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کو سب سے زیادہ نا پسند شخص وہ ہے جو انتہائی جھگڑالوادرسخت دشمن ہو۔ (مسلم شریف )
ایک پروگرام (پروگرام برائے جوڑ اور اصلاح) میری نگرانی میں نشر ہوتا ہے۔ اس پروگرام میں از دواجی اختلافات کو ٹیلی فون پر سن کر اس کا حل پیش کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام مرکز اصلاح معاشرہ کے زیر اہتمام ہوتا ہے۔ کئی گھنٹے میں نے اس میں صرف کئے اور بے شمار مشکلات اور پریشانیوں کو سنا۔ یہاں تک کہ مجھے یہ انکشاف ہوا کہ گھروں میں پیش آنے والے بہت سارے تناو اور کشیدگی خود اس مشکل کی وجہ سے نہیں ہوتے ہیں وہ اس مشکل کا سبب بنے والے افراد اور مشکلات کے حل میں پتھر صفت فطرت رکھنے والے افراد کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جب شوہر آپ سے دور ہو تو؟