kashmir-laik-down

سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر پرپاکستانی کوششیں رنگ لانے لگیں، 12سال بعد یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث ہوئی

EjazNews

یورپی یونین کے اجلاس میں 12سال بعد مسئلہ کشمیر زیر بحث آیا۔ بھارتی کوششوںکے باوجود مسئلہ کشمیر پر یورپی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔ یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر زیر بحث آنا پاکستانی کی سفارتی سطح پر کوششوں کانتیجہ ہے۔ اجلاس میں سات گروپوں کے نمائندوں نے مسئلہ کشمیر پر بحث میں حصہ لیا اس موقع پر یورپی یونین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان اوربھارت پر امن طریقے سے مسئلہ کشمیر کو حل کریں۔
یورپی یونین نے کہا کہ ہم پاکستان اور بھارت کودوبارہ بات چیت کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی تشویشنا ک اور خطرناک ہے۔ ممبر یورپی یونین ڈاﺅڈن کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس ہیں۔70سالے سے متناع مسئلہ چلا آرہا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی قوانین کے مطابق مذاکرات سے حل ہونا چاہئے۔ مقبوضہ وادی میں 40سے زائد گزر چکے ہیں اور تمام مواصلاتی نظام بند ہیں ۔ حق خود ارادیت مقبوضہ وادی کے لوگوں کا حق ہے۔ ممبران نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کرفیو ، لاک ڈاﺅن، پیلٹ گن کا استعمال فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر معاشی دباﺅ ڈالا جائے اورب ات چیت کے ذریعے مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  زندگی آسان بنانے کی کوشش میں زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے

جبکہ کشمیر کے مسئلے کے پر امن حل کیلئے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان اہم تنازع ہے۔ مقبوضہ کشمیر یو این قرار داد کے مطابق حل کیا جائے۔
یاد رہے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے ہوئے ڈیڑھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس جدید دور میں انسانوں کو 45دن تک قید کر کے رکھنا اور وہ بھی اس لیے کہ تم اپنی زمین ، اپنا تن من ہمیں دے دو ۔ کیا یہی اس مہذب دنیا میں ہونا ہے۔ کیا دنیا خود بربادی کی طرف نہیں جارہی۔