depression

پسلیوں کے درمیان موجودغصہ کی کہانی

EjazNews

شوہر بیوی کے اختلاف کو دور کرنے کے میرے عملی اور واقعی تجربوں سے مجھ پر اسی وقت ایک نہایت گہرے اور حساس مرحلے کا انکشاف ہوا۔ وہ یہ کہ مردوں کی اکثریت کو کسی پریشانی کے پیش آنے پرغصہ کی کیفیت سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وقت گزرنے اور ان باتوں کے بار بار پیش آنے کے سبب وہ یوں محسوں کرتے ہیں کہ ان کی پسلیوں کے درمیاں غصہ کی اٹھنے والی لہروں سے ان کا تعلق مزید بڑھ گیا ہے اور کسی بحث وتکرار میں غضب وغصہ کے استعمال کئے بغیر انھیں اس بحث وتکرار کو جاری رکھنا ناممکن ہوتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ کہ ہم اپنے جھگڑوں میں غصہ کیوں ہوتے ہیں۔ کیا اس وجہ سے کہ ہمارے اندرون میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم ہی کسی معاملہ کے ذمہ دار اور مالک ہیں ؟ یا دوسرے لوگوں سے مقابلہ کی صورت میں ہمارے اندر قوت و گھمنڈاورچیلنج کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ہم کسی آزمائش میں غصہ کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں جس سے طاقت حاصل کریں ۔ بعض شوہر بیوی کے ساتھ جھگڑوں میں اگر غصہ نہ ہوں تو وہ ایسا محسوس کرتے ہیں جیسے امن وسلامتی اور معاملہ پر قابو پانا ، ان کے ہاتھ سے جاتا رہا ،اسی لیے وہ اپنارول دکھلانے کے لیے چیختے ہیں اور زور زور سے بات کرتے ہیں ۔ یہاں مشکل یہ ہے کہ بعض شوہر دوسروں پر دباؤ کے لیے غصہ دکھاتے ہیں تا کہ وہ لوگ ان کا احترام و خیال کرنے پر مجبور ہوں اور سب سے بڑی مشکل بعض شوہروں کی یہ ہے کہ وہ لمبی مدت تک غصہ کی حالت میں رہتے ہیں ،چاہے وہ مشکل ختم ہوجائے اور اس کی تیزی بھی جاتی رہے۔ سیرت نبویؐ میں تین امہات المومنین کا ایک نہایت منفرد قصہ بیان کیا گیا ہے آپ اس پر غور کریں۔
حضرت عائشہ فرماتی ہیں۔ جب حضرت ام حبیبہ ؓکی موت کا وقت قریب ہوا تو انھوں نے مجھے بلایا ہم دونوں کے درمیان کچھ ناراضگی تھی۔ جب میں ان کے پاس آئی تو میں سوچ رہی تھی کہ شاید مجھ پر وہ خفا ہوں گی لیکن میں جیسے ہی ان کے پاس بیٹھی تو انھوں نے مجھ سے کہا میری بہن سوکنوں کے در میان جو ہوتا ہے وہ ہمارے درمیان بھی ہوا اللہ مجھے اور تم کو معاف کرے۔اور ہم سے جو کچھ ہوا اسے معاف کرے۔ حضرت عائشہ ؓنے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے گناہ سے معاف فرمائے، آپ کو اس سے بالکل پاک کرے، حضرت ام حبیبہؓ نے فرمایا تم نے مجھے خوش کر دیا، ا للہ تمھیں خوش رکھے۔ پھر انھوں نے حضرت ام سلمہؓ کو بلوایا اور ان سے بھی وہی کہا جو انھوں نے حضرت عائشہ سے کہا اور اگر تم معاف کردو اور بھلا دو اور درگزر کر دو تو اللہ تعالیٰ بے حد معاف کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی پرکوئی ظلم ہوا اور وہ اللہ کے لیے اسے نظر انداز کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے ۔( ابوداو دشریف) ۔گھریلو معاملات کی ایک ماہر ڈاکٹر ہربیت گولدور نے عورتوں کے خاندانی جھگڑوں اور ان کی عقلوں میں ادھر ادھر سے آنے والے فتنوں کی اصلاح و مدد کے لیے مختلف کتابیں، تھے اور افسانے لکھی ہیں، انھوں نے معقول انداز سے عورتوں کو فکری اور ضروری ملی معلومات فراہم کی ہیں جن کے ذر یہ وہ سمجھداری سے حالات کا مقابلہ کرسکیں اور اپنے غصے کو زیادہ اہم تعلقات کے لیے ہی صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔ اپنی ایک کتاب میں وہ کہتی ہیں ہماری عائلی اور ازدواجی زندگی ہی کا ہماری زندگی پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور یہی سب سے دشوار بھی ہے۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ سب سے قریبی تعلقات کو نبھانے میں ہم غصہ کی طاقت کا استعمال کس طرح سے کریں تو ہم اپنے تمام تعلقات میں بڑے پرسکون ہو کر نہایت عمدگی اور باریکی سے کام کر سکیں گے تو ہم اس طرح یہ سیکھ سکیں گے کہ موجودہ صورت حال کو بدلنے کے لیے غصہ کا بیج استعمال کس طرح کیا جائے نہ یہ کہ دوسروں کو موردالزام ٹھہرایا جائے۔
ڈاکٹر روبن قصر گیان نے اپنی کتاب (غصہ ہونے سے ہمیں کیا ملتا ہے؟) میںایک بڑی عمدہ بات لکھی ہ ے میرے خیال میں ان کی یہ بات سلامتی کا کبوتر ہے اور ہمارے اندرون کی اصلاح کے لیے اور اس سے ماضی کے غموں سے چھٹکارا کے لیے نیا راستہ کھلتا ہے وہ پوچھتے ہیں غصہ کیوں ؟ اور اس کو بار بار دہراتے ہیں اور بار بار پوچھتے ہیں غصہ کیوں؟ آخر غصہ کیوں؟ میں دبی کورٹ میں بے شمار شوہروں سے گفتگو کے دوران ان سے پوچھتا ہوں غصہ کیوں؟ کیا آپ اس لیے غصہ ہوتے ہیں تاکہ اچھا سلوک مسلسل نہ کریں؟شاید آپ ڈرتے ہیں کہ اپ کے فکار و احساسات معلوم نہ ہو جائیں؟ یا آپ ڈرتے ہیں کہ سچ بات کی وجہ سے اس کا انجام سامنے نہ آجائے تو آپ غصہ کو اس حالت سے بچنے کے لیے طور آلہ استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ انداز حقیقی سلوک اور گہرے تعلقات کے مقابلہ میں کم خطرناک نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’سچے مسلمان وہ ہیں جن کو اگر کسی ظلم کا سامنا کرنا پڑے تو وہ فتح یاب ہوتے ہیں ۔ کیا آپ اس لحاظ سے غصہ ہوتے ہیں کہ اپنے حق پر ہونے کا یقین دلائیں؟ معاف کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ آپ ضمنی طور پر کسی دوسرے کے حق پر ہونے کا اعتراف کررہے ہیں بلکہ اس سے آپ کو دنیا کو مختلف انداز سے دیکھنے میں مدد ملے گی۔ شاید مذکورہ سوال کو اس انداز سے کہا جاسکتا ہے (کیا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں حق پر رہوں یا میں پر سکون و مطمئن رہنا چاہتا ہوں؟)
کیا آپ اپنی حفاظت کے احساس کی خاطر اور اپنی پریشانی اور اندرونی شخصیت کی حفاظت کے لیے غصہ ہوتے ہیں؟ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جب آپ دوسروں پر غصہ ہوتے ہیں تو وہ لوگ آپ کے درمیان لمبی دوری کھڑے کر دیتے ہیں تو آپ کو یوں احساس ہونے لگتا ہے کہ آپ ان کے مقابلہ میں زیادہ کمزور ہیں اپنی ذات کی حفاظت کے لیے غصہ کا استعمال شاید ایک حد تک ہو اور ان لوگوں کے بارے میں مختلف انداز سے ہو جو آپ کی زندگی پر چھا جانا چاہتے ہیں ۔
کیا آپ اس لیے غصہ ہوتے ہیں تا کہ اس کے ذریعہ چھپے ہوئے جذبات کا سامنا کرنے سے بچ سکیں ؟ کبھی غصہ کا احساس خوف نام کے احساس سے زیادہ آسان ہوتا ہے جس شخص کو اپنے چین سے جذبات کے انکاری دباؤ اور اس کے کچلنے کی عادت رہی ہو ،اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ بڑے ہونے پر اپنے حقیقی جذبے کا اظہار کرے۔
کیا آپ کی توقع رکھتے ہیں کہ غصہ ہونے پر دوسرے شخص کے ساتھ کوئی تعلق باقی رہے گا۔
کیا آپ غصہ کی سیاست پر اس لیے چلتے ہیں تا کہ آپ کی زندگی میں آج جو واقعات پیش آئے ان کی ذمہ داری قبول نہ کریں؟ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کینہ پروری اور غصہ کا اظہار میں موقع دیتا ہے کہ بدبختی اور رسوائی کا بوجھ زندگی میں کسی اور پر ڈال دیں۔
اب میں ایک اور سوال ہر شوہر اور بیوی سے علیحدہ علیحدہ طور پر کروں گا:
’’نظر انداز‘‘ کالفظ جب آپ سنتے ہیں تو اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں۔ کیا آپ اس کا معنی جانتے ہیں۔ آپ اس وقت کسی ایسی حالت کو یاد کریں جس میں آپ کو تکلیف پہنچی تھی۔ کیا آپ اس تکلیف کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ وہ کونسا عمل ہوگا جسے آپ کسی شخص کو معاف کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ کیا آپ یہ توقع کرتے ہیں کہ میں آپ کو یہ کہہ دینے سے (جائو ا للہ تمہیں معاف کرے) ہر بات ختم ہوجائیگی؟۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم میں سے ہرشخص کے پاس ’’معاف کرنے اور نظر انداز کرنے‘‘ کے بارہ میں کچھ انکار پہلے سے موجود ہوتے ہیں؟ اگر آپ اس بات کی دلیل چاہتے ہیں تو اپنی بیوی یا دوست سے پوچھیں تو وہ آپ کو جواب دیں گے۔
نظرانداز کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم شریک حیات کے کسی منفی رویے کو قبول کرلیں یا اس کے کسی داغدار سلوک پر خاموش رہیں ۔ نظرانداز کرنے کا یہ مطلب بھی نہیں ہوتا کہ ہم اس غلطی کا علاج کئے بغیر چپ ہو جائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم شوہر کے کسی دوسری عورت کے ساتھ ملوث ہونے پر بھی خاموش رہیں ، نہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی شخص کے اہانت آمیز رویے کو قبول کرلیں یا اس کو اجازت دیں کہ وہ سخت الفاظ ہمارے خلاف استعال کرے ۔کوئی زہر آلود اور سلگتی ہوئی بات ہمارے خلاف کہے۔
نظر انداز کرنے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہوتا ہے کہ ہم ہر برائی کو اپنے اوپر سے گزرنے دیں گویا کہ کچھ ہواہی نہیں۔
نظر انداز کرنے کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ حاکمانہ انداز اختیار کیا جائے۔ تو جب آپ کسی کو معاف کریں اس لیے کہ آپ کو اس پررحم آیایا آپ نے اسے بیوقوف خیال کیا ،جو ذرا سی مدد کا محتاج ہے تو آپ نے معاف کرنے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھے میں خلط ملط کردیا۔ در گزر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہوتا ہے کہ اگر ہمارا شریک حیات کوئی غلطی کرے تو ہم اس کے ساتھ اپنا رویہ بدل دیں کیونکہ اگر ہم کسی اور میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں تو وہ ہمیں مجبور نہیں کرتی ہے کہ ہم کسی متعین شخص سے قریب ہوں۔
مشہور عابد وزاہد حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص دوسرے شخص کے بارہ میں تمہارے سامنے شکایت کرے تو کہو میرے بھائی اسے معاف کردو۔کیوں کہ معاف کرنے کی صفت تقوی اختیار کرنے سے سب سے زیادہ قریب ہے۔ اگر وہ تم سے یوں کہے کہ میرا دل اسے معاف کرنے کو تیار نہیں ہے بلکہ میں تو اپنا اعتماد خود حاصل کروں گا اور اپنے لیے خودلڑوں گا تو کہو اپناحق خودلومگر حد سے آگے مت بڑھویا پھر معافی کا دروازہ کھول دو، کیوں کہ وہ بہت وسیع دروازہ ہے۔ کیونکہ جو معاف کردے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ پر ہے۔
ہم اس لیے معاف کریں تا کہ اپنے آپ کو آرام پہنچائیں اور ان تکلیف دینے والے اثرات سے نجات پائیں جو غصہ اور کینہ کپٹ سے ہمارے اندر پیدا ہوتے ہیں۔
ڈاکڑ محمد ہانی اپنی کتاب ’’اسلامی شخصیت ‘‘میں اس شریف اصول کی پرزور تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں ۔ ’’انسان شاید اپنے غصہ کو پی لے لیکن کینہ کپٹ کی ۔ ہانڈی اس کے سینے میں ابلتی رہتی ہے تب اس کا غصہ بھڑکتی ہوئی آگ بنتا ہے۔ اس کا ظاہری غصہ چھپا ہوا کینہ کپٹ کے مقابلہ میں زیادہ صاف ردعمل ہے۔ سچا مسلمان جس نے اس دین سے ملنے والی ہدایت کو پی لیا ہے وہ کینہ اور نفرت کے جذبات سے دور رہتا ہے۔ وہ اگر اپنے غصہ کو پی لیتا ہے تو اسی کے ساتھ معاف بھی کردیتا ہے اور الفاظ قرآن محسنین میں اس کا شمار ہوتا ہے۔
میں آپ کے سامنے چار بنیادی اصول پیش کرتا ہوں جن سے ہم یہ سیکھ سکیں گے کہ کس طرح اپنے جذبات واحساسات میں دوسروں کے خلاف بھڑکنے والے غصہ کو ٹھنڈا کریں اور باغ و بہار بن جائیں۔ جو اس پرعمل کرے گا کامیابی اور خوش نصیبی اس کا مقدر ہوگی ،خواہ وہ پریشانیوں کے دلدل میں غرق ہو چکا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں عورت کے ساتھ امتیاز کی شکلیں